شکایات کے انبار،بلاول کی تقریر سے پہلے مسائل حل ہو چکے تھے

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہےکہ شکایات کے انبارلگانے یا بلاول بھٹو کی تقریر سے پہلے ہی اختلافات حل ہوچکے تھے اور وزیراعظم نے پیپلزپارٹی کے اعتراضات تسلیم کرتے ہوئے جوکچھ ممکن تھا تسلیم کرلیا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق تحقیقات ہورہی ہیں، سخت ترین قوانین کے تحت کارروائی کرکے ان اسمگلرز کو قرار واقعی سزا دی جائے گی جب کہ ان انسانی اسمگلرز سے متعلق عالمی تعاون بھی حاصل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جو ایک ہفتے میں اپنا کام مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گی، کمیٹی قوانین میں مزید بہتری کے لیے بھی تجاویز دے گی، اکثر کیسز میں ایجنٹ مدعی کو پیسے دلا کر کیس ختم کرادیتے ہیں، ان ملزمان نے فی فرد 20 سے 25 لاکھ روپے وصول کیے۔
وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر خط لکھتی ہیں ان کو یہ نظر نہیں آرہا، جو لوگ کشتی حادثے میں بچ گئے وہ ساری باتیں بتار ہے ہیں، کوسٹ گارڈ کے رویے سے متعلق حکومت یونان حکومت سے بات کرے گی۔
بلاول بھٹو سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ شکایات کے انبارلگانے یا بلاول بھٹو کی تقریر سے پہلے ہی اختلافات حل ہوچکے تھے، وزیراعظم نے پیپلزپارٹی کے اعتراضات تسلیم کرتے ہوئے جوکچھ ممکن تھا تسلیم کرلیا، بلاول بھٹو زرداری کا سیاسی طور پر یہ بات کرنا ان کو سوٹ کرتا تھا، انہوں نے سیاسی حوالے سے بات کی یہ کوئی تشویش والی بات نہیں، اتحادی
بلاول بھٹو کابجٹ پر عمومی بحث میں حصہ لینے سے انکار
حکومت کی باقی مدت بھی اسی افہام و تفہیم سے گزر جائے گی۔
