بجٹ 2026-27 منظور: وفاقی کابینہ نے گرین سگنل دے دیا

وفاقی کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ مسودے کی منظوری دے دی۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی دستاویزات کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جس کے بعد کابینہ نے نئے مالی سال کے بجٹ کے مسودے کی باقاعدہ منظوری دے دی۔ ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔کابینہ کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے، جبکہ بعد ازاں بجٹ دستاویزات سینیٹ میں بھی پیش کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد موجودہ ٹیکسوں میں تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز بھی واپس لے لی گئی ہے، جبکہ اسٹیشنری مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ نہیں ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رہنے کا امکان ہے۔مزید برآں، ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے ممکنہ ٹیکس ریلیف اور روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بڑی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیاں نسبتاً سستی ہو سکتی ہیں۔
دریں اثنا، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ بجٹ انتہائی محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی گئی ہے۔

