بشریٰ بی بی کے آشیرباد سے عمران کو وزیراعظم بننا کتنے میں پڑا؟

یہ سوال اب پرانے ہو چکے کہ اگر عمران خان سیاست کے میدان میں اترتے ہی اسٹیبلشمنٹ کی ”گڈ بکس“ میں آ چکے تھے تو انھیں کس بات کی جلدی تھی؟ اور اگر جلد یا بدیر ان کا وزیراعظم بننا ٹھہر ہی چکا تھا تو پھر کس چیز کی خواہش انھیں پاک پتن بشریٰ بی بی کی چوکھٹ پر لے گئی؟ کیونکہ خان صاحب کے ساتھ گزشتہ تین چار سالوں میں جو کچھ بیتی ہے، اس کا بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کے آستانے سے گہرا تعلق ہے۔۔آخر وہ کون سی کمزور گھڑی تھی جس نے آکسفورڈ کے ڈگری یافتہ، دنیائے کرکٹ کے بادشاہ اور کرشماتی شخصیت کے مالک عمران خان کو بشریٰ بی بی اینڈ کمپنی کے جال میں ایسا پھنسایا کہ اب وہ جتنے ہاتھ پیر ماریں گے اتنے ہی الجھتے چلے جائیں گے؟ اگرچہ خان صاحب کے مداح آج بھی ان کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ عمر کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک گزارنے کی وجہ سے انھیں دیسی بھید بھاؤ اور پالیٹکس کی جانکاری نہ ہونے کے برابر ہے، ان کا یہ بدیسی سبھاؤ آج بھی جوں کو توں ہے۔۔یہی وجہ ہے کہ خان صاحب زمینی حقائق اور مسئلے کی گہرائی کو جانچے بغیر پہلے جھٹ سے کوئی بیان داغتے ہیں اور پھر اگلے ہی لمحے اس کی تردید کر دیتے ہیں اور اسی لئے انھیں مسٹر یوٹرن کہا جاتا ہے۔
بہرحال اب چلتے ہیں اصل مدعے کی طرف، کہتے ہیں خان صاحب کی سیاست اور زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ اس وقت آیا جب ان کے قریبی دوست عون چودھری نے انھیں بشریٰ بی بی کے درشن کروائے۔۔بشریٰ بی بی جو اپنے علاقے میں پیرنی کہلاتی تھیں اور پردے کی سخت پابند تھیں لیکن کہا جاتا ہے کہ کچھ مریدوں پر ان کی خاص عنایت ہوتی تھی اور وہ ان کے سامنے اکثر کھلے چہرے کے ساتھ بھی آ جاتی تھیں۔ خان صاحب کا شمار بھی ایسے ہی مریدوں میں ہوتا تھا اور وہ پہلی ہی نظر میں انھیں بھا گئی تھیں۔ یہ غالباً 2017 کی بات ہے خان صاحب کا رجحان مذہب اور صوفی ازم کی طرف کچھ زیادہ ہی ہونے لگا تھا۔۔اب اسے ایمان کی کمزوری کہیں یا اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کی جلدی کہ وہ کئی آستانوں پر تواتر سے حاضری دینے لگے۔ انہی دنوں وہ پنکی پیرنی کے ڈیرے پر بھی پہنچے اور دیکھتے ہی دیکھتے پنکی پیرنی کے چِلے، وظیفے اور کمالات اپنا رنگ دکھانے لگے۔۔بعد کی کہانی یہیں سے شروع ہوتی ہے تاہم کہا جاتا ہے کہ بشریٰ بی بی کے جادوئی عملیات کام نہ بھی کرتے تب بھی اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کی باری خان صاحب ہی کی تھی لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ ہونی ہو کر رہتی ہے۔ بشریٰ بی بی نے جب خان صاحب کی نفسیات کو سمجھ لیا تو اپنے شوہر خاور مانیکا، دوست فرح گوگی اور ٹیم کے ساتھ مل کر ایک پلان بنایا اور کمال ہنرمندی کے ساتھ اسے نہ صرف پائہ تکمیل تک پہنچایا بلکہ لالچ میں سونے کے انڈے دینے والی مرغی کو ہی ذبح کر بیٹھے۔ بشریٰ بی بی کا اپنی تیس سالہ ازدواجی زندگی کو داؤ پر لگانا، دن رات شریعت کا راگ الاپنے کے باوجود عدت میں نکاح کرنا، پنجاب جیسے اہم صوبے میں پپٹ وزیراعلیٰ کی تعیناتی، فرح گوگی کی انٹری، توشہ خانہ جیسے سکینڈل، زمینوں پر قبضہ، القادر ٹرسٹ کا فارمولا، اسٹیبلشمنٹ سے پنگا۔۔ اگرچہ خان صاحب کو سب اچھا کی رپورٹس مل رہی تھیں لیکن ان کی غیر معمولی رفتار نے جلد ہی پول کھول دیئے۔ بشریٰ بی بی نے تو جو کیا سو کیا، بدلے میں خان صاحب نے جو کمایا اس کا خمیازہ وہی نہیں، ان کی آئندہ نسلیں بھی جانے کب تک بھگتتی رہیں گی؟ اس وقت حالت یہ ہے کہ خان صاحب کا شفاف دامن کرپشن کے الزام سے داغدار ہے، دوستیاں دشمنیوں میں بدل گئی ہیں، ان کی انتہائی پاپولر جماعت دیوار سے لگ چکی ہے اور انھوں نے اپنی واضح جیت کو ہار میں بدل دیا ہے۔۔خیر سیاست میں کچھ بھی حرفِ آخر نہیں لیکن ابھی تو یہ حال ہے کہ گلاس توڑا بارہ آنے!!

Back to top button