’’کینو کے کاشتکاروں کو زبردست نقصان کا سامنا‘‘

پاکستان میں کینو کے کاشتکاروں نے وافر پیداوار کے باوجود کینو کی کم خریداری پر حکومت کو وارننگ دی ہے کہ بدترین نقصان نہیں اٹھا سکتے ہیں، کینو نہیں بکے گا تو ہم حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کرسکتے بھلے وہ ہمیں جیلوں میں ڈال دیں۔’میں نے کینو کی اتنی زیادہ پیدوار اور اتنی زیادہ مندی نہیں دیکھی۔ زیادہ تر باغوں میں دس فیصد سے بھی کم باغ بکے ہیں باقی اسی طرح پھل لگے ہوئے ہیں۔‘ یہ کہنا ہے صوبہ پنجاب کے ضلع سرگودھا کے علاقے للیانی کے زمیندار غلام مرتضیٰ بھٹی کا۔ تقریباً 65 سال کے غلام مرتضیٰ بھٹی 25 ایکڑ کینو کے باغوں کے مالک ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’ہر تین چار سال بعد کوئی نہ کوئی بحران ضرور آتا ہے مگر ایسا بحران کبھی بھی نہیں دیکھا۔ ہم لوگوں کے کپڑے، کرایہ، ملازمین کی تنخواہیں، ڈیرے کی رونقیں، شادی بیاہ سب کچھ کینو سے وابستہ ہیں۔‘بیس سال سے سٹرس ریسرچ سینٹر سرگودھا سے منسلک ماہر اور ادارے کے ڈائریکٹر ملک عبدالرحمان بھی سمجھتے ہیں کہ اس سال تاریخی پیدوار ہوئی ہے۔ ’پاکستان میں اوسط پیدوار 20 لاکھ ٹن سے 25 لاکھ ٹن ہے۔ مگر اس سال ہمارے اندازوں کے مطابق پیداوار دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ پیداوار تاریخی ہونے کے باوجود کئی وجوہات کی بنا پر مارکیٹ میں مندی ہے۔‘پچھلے دس سال سے کینو کے سب سے بڑے ایکسپورٹر نیشنل فوڈ کمپنی کے مالک شعیب احمد بسرا کہتے ہیں کہ ’اب نقصان برداشت نہیں ہو رہا، سوچ رہے ہیں کہ کاروبار کو تبدیل کر دیں۔‘ایک سال میں 35 لاکھ ڈالر کے کینو ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی اکبر کینو پراسس کے محمد عمران خان کہتے ہیں کہ اس سال ہم کاروبار نہیں کر رہے۔’ہماری فیکڑی بند ہے جس پر افسوس ہونا چاہیے مگر مارکیٹ میں جو نقصان ہو رہا ہے اس سے بچ جانے کی خوشی ہے کہ کاروبار نہیں کیا تو ٹھیک کیا۔‘ ملک عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ عموماً پاکستان میں پیدا ہونے والے کینو کا دس فیصد ایکسپورٹ ہو جاتا ہے۔ گذشتہ سال یہ ایکسپورٹ ساڑھے چار لاکھ ٹن تھی۔شعیب احمد بسرا کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر ہماری کینو کی ایکسپورٹ ہر سال نییچے جا رہی ہے۔شعیب احمد بسرا کہتے ہیں کہ پاکستانی کینو اور ترشا پھل کی ایک بڑی منڈی افغانستان ہے جہاں پر گزشتہ سال افغان حکومت کی جانب سے ٹیکس میں اضافے کے باوجود ڈیڑھ لاکھ ٹن کینو فروخت ہوا تھا ’مگر اس سال افغاستان حکومت نے پاکستانی کینو پر فی کنٹینر ٹیکس دس لاکھ سے بڑھا کر تقریباً تیس لاکھ روپے کر دیا ہے، دو سال پہلے یہ ٹیکس صرف ڈیڑھ لاکھ تھا۔ملک عبدالرحمان کا دعویٰ تھا کہ اس حوالے سے مثبت پیشرفت ہو چکی ہے اور آنے والے دونوں میں بہتری کی توقع ہے۔شعیب احمد بسرا کہتے ہیں کہ 2021 میں ہماری کمپنی نے پندرہ سو، 2022 میں چھ سو پچاس کنٹینر ایکسپورٹ کیے تھے، ’اس سال تو نہیں لگتا کہ ہم دو کا ہندسہ بھی پار کر پائیں گے۔چھوٹے کینو کی ایک اور بڑی مارکیٹ روس، بیلا روس، یوکرائن کے ساتھ ملحقہ ریاستیں ہیں، اس روٹ سے ہمارا کینو روس سمیت مختلف پورٹس پر 25 سے 35 دونوں میں پہنچ جاتا تھا۔ مگر اب راستہ بند ہونے کی وجہ سے مال نہیں جا رہا ہے۔ ہمارے کئی کنیٹر متاثر ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’روس تک دوسرا بحری راستہ افریقہ سے گزر کر جاتا ہے۔ اس پر کم از کم ساٹھ دن لگتے ہیں، اس کا کرایہ کم از کم دوگنا سے زیادہ ہے۔ روایتی راستے کا کرایہ بھی ایک سال میں دوگنا سے زیادہ ہوا ہے، شعیب بسرا کہتے ہیں کہ ’پاکستان کا جن ممالک کے ساتھ مقابلہ ہے انھوں نے بہت ترقی کر لی ہے۔ یہ بچی کچی مارکیٹیں ایکسپورٹرز نے اپنے دم پر بچا کر رکھی تھیں۔‘ اب اس سال وہ مارکیٹیں بھی ہاتھ سے جاتے دیکھ رہے ہیں، گزشتہ سالوں میں صرف میری فیکڑی میں دو شفٹوں میں کام ہوتا تھا اب اس سال ہم نے کام ایک شفٹ آٹھ گھنٹے تک محدود رکھا ہے۔ اس وقت کوئی ساڑھے تین سو میں سے اڑھائی سو فیکڑیاں بند پڑی ہیں، ہر ایک
فیکڑی میں کم از کم ایک ہزار سٹاف کام کرتا تھا۔
