جنید اکبر کیخلاف ریاست مخالف بیانیے کے الزام میں مقدمہ درج

رکن قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر اسلام آباد میں پیکاکے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ نمبر 152/2026، 23 ستمبر 2026 کو ریاست کی مدعیت میں این سی سی آئی اے کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ محمد عمیر وارثی کی شکایت پر درج کیا گیا۔ مقدمے میں پیکا ایکٹ 2016 کی ترمیم شدہ دفعات 9، 10 اور 11 شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے اسلام آباد کے انچارج کو ایک سورس رپورٹ موصول ہوئی، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ جنید اکبر اپنے آفیشل ٹک ٹاک اکاؤنٹ کے ذریعے ریاست مخالف مواد اور بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔ رپورٹ کی بنیاد پر ابتدائی انکوائری شروع کی گئی، جس کے بعد معاملہ تفتیش کے لیے متعلقہ افسر کے سپرد کیا گیا۔
مقدمے کے مطابق تحقیقات کے دوران مذکورہ ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر تقریباً 3 لاکھ 39 ہزار 500 فالوورز کی نشاندہی ہوئی۔ ایف آئی آر میں ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس میں حکومت کو دبانے اور خوف و ہراس پیدا کرنے کے لیے دھمکیاں دی گئیں، نسلی تعصب کو ہوا دینے، سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے، لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور قانون ہاتھ میں لینے کی باتیں کی گئیں۔
ایف آئی آر میں جنید اکبر کی ایک اور ویڈیو کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں ان کے مبینہ بیان ’اسلام آباد کو ہم سومنات بنائیں گے‘ سمیت دیگر الفاظ درج کیے گئے ہیں۔ مقدمے کے متن کے مطابق جنید اکبر نے ریاست کی جانب سے ممکنہ کارروائی اور احتجاج کے دوران ہلاکتوں کا حوالہ بھی دیا۔
