سینٹکام نے آبنائے ہرمز اور امریکی طیاروں سے متعلق ایرانی دعوے مسترد کر دیے

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور امریکی طیاروں سے متعلق کیے گئے حالیہ دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز، امریکی جنگی طیاروں اور بحری ناکہ بندی سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔
سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے کھلے بحری راستے تجارتی جہازوں کے لیے غیر محفوظ ہو چکے ہیں، تاہم امریکی فوج کے مطابق اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایران کی جانب سے ہونے والے حملے اور دھمکیاں ہیں، نہ کہ بین الاقوامی بحری راستے۔
امریکی فوج نے ایران کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ حالیہ حملے کے دوران ایک امریکی فوجی اڈے پر تین ایف-35 لڑاکا طیاروں سمیت مجموعی طور پر چھ فوجی طیارے تباہ کر دیے گئے۔
سینٹکام کے مطابق کسی بھی امریکی جنگی طیارے کو نقصان نہیں پہنچا، جبکہ ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائل اور ڈرون یا تو فضائی دفاعی نظام نے راستے میں تباہ کر دیے یا وہ اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
امریکی کمانڈ نے آئل ٹینکر ایم/ٹی نورا (M/T Nora) سے متعلق ایرانی دعوے کی بھی تردید کی، جس میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ جہاز امریکی بحری ناکہ بندی کو عبور کرنے میں کامیاب رہا۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر مؤثر ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے 20 سے زائد جنگی بحری جہاز، سیکڑوں فوجی طیارے اور ہزاروں اہلکار مسلسل تعینات ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق بحری نگرانی اور آپریشن معمول کے مطابق جاری ہیں اور ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔
عراق پر سعودی حملے کو پاکستان نے حق دفاع قرار دے دیا
امریکی اور ایرانی حکام کے یہ متضاد بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز، عالمی بحری تجارت اور خطے میں فوجی سرگرمیوں سے متعلق صورتحال عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
