نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے اتحادی حکومت کو 6 ماہ کی ڈیڈ لائن

اسلام آباد میں باخبر حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دونوں اتحادی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو گزشتہ چھ ماہ سے ملک میں چھوٹے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاہم دونوں جماعتوں کی طرف سے اس حوالے سے کوئی حوصلہ افزا جواب سامنے نہیں آیا تھا۔ لہٰذا اب اس تجویز کو کھل کر عوامی سطح پر سامنے لایا گیا ہے اور حکمران اتحاد کو متعلقہ آئینی ترامیم کے لیے چھ ماہ کا وقت دے دیا گیا ہے، جبکہ یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ اگر اس دوران کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو موجودہ نظام لپیٹا بھی جا سکتا ہے۔

اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی، تاہم وزیر داخلہ محسن نقوی اور بعد ازاں پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے بیانات نے سیاسی حلقوں میں اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایک معاشی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اگر ملک کو معاشی اور انتظامی بحران سے نکالنا ہے تو نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس قائم کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں ہر سال خسارے کا بجٹ بنا رہی ہیں، قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور محض روزانہ کئی کئی گھنٹے کام کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ پورے نظام کو ازسرنو ترتیب دینا ہوگا۔

محسن نقوی کے بیان کے اگلے روز پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بھی بہتر طرز حکمرانی کے لیے انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ اگرچہ انہوں نے براہ راست نئے صوبوں کا ذکر نہیں کیا، تاہم سیاسی مبصرین نے ان کے بیان کو وزیر داخلہ کے مؤقف کی بالواسطہ تائید قرار دیا، جس کے بعد اس معاملے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی۔
دوسری جانب حکمران اتحاد کے اندر ہی اس تجویز پر اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے محسن نقوی کو مشورہ دیا کہ اگر وہ نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو اس کا آغاز اپنی وزارت سے کریں اور پارلیمنٹ و کابینہ کے فورمز پر یہ معاملہ اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ داخلی سلامتی سے متعلق نیشنل ایکشن پلان کے بیشتر نکات پر عملدرآمد وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے، اس لیے پہلے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنایا جائے۔

پیپلز پارٹی نے بھی نئے صوبوں کی تجویز پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے سندھ کے رہنما نثار کھوڑو نے نہ صرف اس تجویز کی مخالفت کی بلکہ وزیر داخلہ سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ انتظامی مسائل کا حل صوبوں کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ آئین کے تحت موجود وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
نئے صوبوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت مضبوط وفاق کی ہے، نہ کہ ایسے اقدامات کی جو پہلے سے موجود صوبائی حساسیت کو مزید بڑھا دیں۔ ان کے مطابق اگر صوبوں کی تقسیم سیاسی اتفاق رائے کے بغیر کی گئی تو اس سے علاقائی قوم پرستی کو تقویت مل سکتی ہے، نئے انتظامی اور مالی تنازعات جنم لے سکتے ہیں اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ بہتر طرز حکمرانی کے لیے نئے صوبے واحد یا لازمی حل نہیں ہیں۔ انکے مطابق مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات، وسائل اور مالی خودمختاری دے کر بھی گورننس کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکتا ہے، جبکہ نئے صوبوں کا قیام آئینی طور پر انتہائی مشکل اور سیاسی طور پر پیچیدہ عمل ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت مضبوط بلدیاتی نظام قائم کیا جائے، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر مالی و انتظامی خودمختاری دی جائے اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے تو عوامی مسائل زیادہ مؤثر انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں۔

سہیل وڑائچ کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے لازماً بہتر حکمرانی کی ضمانت نہیں ملتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر نئے صوبے کے ساتھ نئی سیاسی اشرافیہ، نئے مفادات اور نئی طاقت کے مراکز بھی وجود میں آئیں گے، اس لیے اگر اختیارات کی تقسیم کا بنیادی مسئلہ حل نہ کیا گیا تو صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے وفاق پاکستان بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے چونکہ اس سے علیحدگی پسندوں کو اپنا ایجنڈا اگے بڑھانے میں مزید آسانی ہو جائے گی۔

اس تجویز کے ناقدین نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبوں کی تقسیم سے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ، وسائل کی تقسیم، پانی، معدنیات اور سرکاری ملازمتوں کے کوٹوں جیسے حساس معاملات پر نئے تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ان معاملات پر پہلے سے واضح اتفاق رائے نہ ہوا تو وفاقی اکائیوں کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے قومی یکجہتی متاثر ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔ اس کے برعکس نئے صوبوں کے حامیوں کا استدلال ہے کہ پاکستان جیسے بڑے اور آبادی کے لحاظ سے وسیع ملک میں موجودہ چار صوبے انتظامی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس بننے سے حکومت عوام کے قریب آئے گی، ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد بہتر ہوگا، وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی اور دور دراز علاقوں میں احساس محرومی میں بھی کمی آئے گی۔

پلڈاٹ کے سربرا احمد بلال محبوب کے مطابق بعض فیصلہ ساز حلقوں میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ ماضی میں بعض بڑے قومی منصوبے، جیسے کالا باغ ڈیم اور حالیہ چولستان کینال منصوبہ، صوبائی اختلافات کے باعث آگے نہ بڑھ سکے۔ اسی پس منظر میں بعض حلقے سمجھتے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس وفاقی فیصلوں پر صوبائی مزاحمت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اگرچہ اس مؤقف سے تمام سیاسی جماعتیں اتفاق نہیں کرتیں۔ سینئر صحافی سلمان غنی کا کہنا ہے کہ بظاہر اس مرتبہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق اگر سیاسی قیادت نے اس معاملے پر کوئی قابل قبول راستہ نہ نکالا تو آئندہ مہینوں میں اس حوالے سے مزید آئینی یا سیاسی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ملک میں مؤثر ضلعی حکومتوں کا نظام پہلے سے موجود ہوتا تو شاید نئے صوبوں کی بحث اس شدت سے سامنے نہ آتی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کے مطابق آنے والے مہینوں میں نئے صوبوں، این ایف سی ایوارڈ، مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی جیسے موضوعات قومی سیاست کے اہم ترین نکات بن سکتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا اصرار ہے کہ اگر تمام وفاقی اکائیوں اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیے بغیر صوبوں کی تقسیم کی طرف پیش رفت کی گئی تو اس سے وفاق کو مضبوط کرنے کے بجائے نئے سیاسی اور آئینی تنازعات جنم لے سکتے ہیں، جبکہ حامی حلقے اسے مستقبل کے پاکستان کے لیے ناگزیر انتظامی اصلاح قرار دے رہے ہیں۔

Back to top button