آئین پارلیمنٹ کو ترمیم کا لا محدود اختیار دیتا ہے : عرفان صدیقی

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ آئین کا آرٹیکل (6) 239 پارلیمنٹ کو آئینی ترمیم کا لا محدود اختیار دیتا ہے۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے جسٹس منصور علی شاہ کے چیف جسٹس کو لکھےگئے خط کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہاکہ عزت مآب! آپ کی رائے کا بہت احترام کہ عدالت 26 ویں آئینی ترمیم کو منظور بھی کرسکتی ہے اور مسترد بھی۔

انہوں نےکہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں ایک آرٹیکل (5) 239 بھی ہے جو واضح،غیر مبہم اور دو ٹوک طور پر قرار دیتا ہےکہ کوئی بھی آئینی ترمیم کسی بھی بنیاد پر،چاہے وہ کچھ بھی ہو،کسی بھی عدالت میں زیر بحث نہیں لائی جاسکتی۔

سینئر رہنما مسلم لیگ ن سینیٹر عرفان صدیقی نے سوال کیاکہ کیا آپ نے آئین کی ان شقوں کو معطل،مفلوج یا خارج از آئین قرار دےدیا ہے،اگر نہیں تو 26 ویں ترمیم کو کس اختیار کے تحت زیر بحث لاسکتے ہیں،

عرفان صدیقی نےکہا کہ آئین بالادست ہے تو براہ کرم اسی کو بالا دست رہنےدیں۔

یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے سندھ اور پشاور ہائی کورٹس میں ایڈیشنل ججوں کی نامزدگیوں پر تحفظات کااظہار کرتےہوئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مؤخر کرنےکا مطالبہ کیا۔

سلیکٹیو سینس آف جسٹس زیب نہیں دیتا، جسٹس منصور کے خط پر خواجہ آصف کا ردعمل

انہوں نےکہا تھا کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس مؤخر کر کے پہلے 26 ویں آئینی ترمیم کا کیس سنا جائے۔

Back to top button