خام تیل 84 سے 79 ڈالر پر آگیا، حکومت پیٹرول سستا کرنے سے انکاری کیوں؟

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 84 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر تقریباً 79 ڈالر تک آچکی یے تاہم پاکستان میں روزانہ قیمتوں کے تعین بارے نئے نظام کی موجودگی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس تناسب سے کمی نہ ہوسکی جس کی توقع کی جارہی تھی۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت نے یہ نظام اس دعوے کے ساتھ متعارف کرایا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہوتے ہی اس کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل کیا جائے گا، لیکن اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی کے باوجود پیٹرول کی قیمت 327 روپے 62 پیسے اور ڈیزل 380 روپے 86 پیسے فی لیٹر کی سطح پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود پاکستانی صارفین کو مکمل ریلیف کیوں نہیں مل رہا اور پیٹرول کی موجودہ قیمت میں ٹیکس، لیوی اور دیگر محصولات کا کتنا حصہ شامل ہے؟
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نئے نظام کے بعد حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی یا اضافے کا اثر فوری طور پر مقامی صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔ تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم ہونے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اسی تناسب سے کمی نہیں ہوئی۔

عالمی منڈی میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی گئیں۔ حکومت نے ابتدا میں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے فی لیٹر اضافہ کیا، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 367 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

بعد ازاں 21 جولائی کو پیٹرول کی قیمت میں صرف 35 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی اور اسے 320 روپے فی لیٹر کردیا گیا۔ اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 84 ڈالر فی بیرل تھی۔

اس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی دیکھنے میں آئی، لیکن پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس کمی کی رفتار مختلف رہی۔ اوگرا کی جانب سے مختلف مراحل میں روزانہ 4 سے 6 روپے تک اضافے کیے گئے، جس کے نتیجے میں صرف ایک ہفتے کے دوران پیٹرول کی قیمت تقریباً 15 روپے بڑھ کر 335 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 23 روپے اضافے کے بعد 390 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ اسی عرصے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 6 ڈالر فی بیرل کم ہوکر 78 ڈالر تک آگئی تھی۔ یعنی عالمی مارکیٹ میں خام تیل سستا ہورہا تھا لیکن پاکستانی صارفین کو اس کا مکمل فائدہ فوری طور پر نہیں مل سکا۔

27 جولائی کو پہلی مرتبہ پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کمی کی گئی، تاہم اسی روز ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا۔ اس کے بعد مختلف مراحل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا اور 8 اگست کی درمیانی شب پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 62 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 380 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی۔

اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 79 ڈالر فی بیرل ہے۔ یوں 84 ڈالر فی بیرل کی سطح سے خام تیل تقریباً 5 ڈالر سستا ہوچکا ہے، جبکہ بعض مراحل میں یہ 78 ڈالر تک بھی پہنچا۔ اس کے باوجود مقامی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت 320 روپے کی سطح سے دوبارہ بڑھ کر 327 روپے سے زائد تک پہنچ چکی ہے۔

یہی صورتحال حکومت کے نئے قیمتوں کے نظام پر سوالات اٹھا رہی ہے۔ حکومت نے جب روزانہ بنیادوں پر قیمتیں مقرر کرنے کا نظام متعارف کرایا تھا تو بنیادی مؤقف یہ تھا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمت بڑھے گی تو اس کا اثر پاکستان میں بھی فوری طور پر آئے گا، لیکن جب عالمی قیمت کم ہوگی تو عوام کو بھی اسی رفتار سے ریلیف دیا جائے گا۔

معاشی ماہر ڈاکٹر بشارت حسن کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 12 فیصد کمی ہوئی ہے، اس لیے اصولی طور پر صارفین کو بھی اسی تناسب سے ریلیف ملنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں عالمی قیمتوں میں اضافہ تو تیزی سے صارفین تک منتقل ہوجاتا ہے، لیکن قیمت کم ہونے کی صورت میں ریلیف محدود رہتا ہے۔

پیٹرول کی موجودہ قیمت میں ٹیکسز اور مختلف سرکاری و تجارتی محصولات کا حصہ بھی ایک اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ ماہر اقتصادیات کے مطابق تقریباً 126 روپے فی لیٹر مختلف ٹیکسز، لیویز اور مارجنز کی مد میں شامل ہوتے ہیں۔ ان میں پیٹرولیم لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، ڈیلرز کمیشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن، ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن اور دیگر محصولات شامل ہیں۔

صرف پیٹرولیم لیوی ہی تقریباً 80 روپے فی لیٹر کے قریب بتائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم ہونے کے باوجود اگر حکومت مختلف ٹیکسز اور لیویز برقرار رکھتی ہے تو صارفین تک عالمی قیمت میں کمی کا مکمل فائدہ منتقل نہیں ہوسکتا۔

یہ معاملہ عام صارف کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت صرف گاڑی چلانے کے اخراجات تک محدود نہیں رہتی۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ براہ راست ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، زراعت، صنعت اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کی لاگت کو متاثر کرتا ہے۔ خاص طور پر موٹر سائیکل استعمال کرنے والے کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے پیٹرول کی قیمت میں چند روپے کا فرق بھی ماہانہ بجٹ پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

ایک اور اہم نکتہ پاکستان کے تیل کے ذخائر سے متعلق ہے۔ معاشی ماہر کے مطابق ملک میں تقریباً ایک ماہ تک کی ضرورت کا تیل ذخیرہ موجود رہتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں میں فوری کمی کی صورت میں پہلے سے درآمد کیے گئے تیل کی لاگت اور اس کے اثرات کو بھی شفاف انداز میں سامنے لایا جانا چاہیے۔ صارفین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ عالمی قیمت میں کمی کے باوجود مقامی قیمت فوری طور پر کیوں کم نہیں ہوسکتی۔

حکومت کی جانب سے اس حوالے سے بنیادی دلیل مالیاتی ضروریات بھی ہوسکتی ہیں۔ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات حکومت کے لیے ریونیو حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ مالی خسارہ، پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے مالیاتی وعدے حکومت کی پالیسی سازی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

 

ایران اور اسرائیل مکہ دفاعی معاہدے سے اتنے خوفزدہ کیوں؟

یہی وجہ ہے کہ ماہرین کے مطابق اگر حکومت واقعی روزانہ قیمتوں کے نظام کے ذریعے عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر عوام تک منتقل کرنا چاہتی ہے تو قیمتوں کے تعین کے فارمولے کو مزید شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ عالمی خام تیل کی قیمت، روپے کی قدر، درآمدی لاگت، ٹیکسز، لیوی، ریفائنری مارجن اور دیگر اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔ ناقدین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل تقریباً 84 ڈالر سے کم ہوکر 79 ڈالر اور بعض اوقات 78 ڈالر فی بیرل تک آگیا، تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت اسی تناسب سے کیوں نہیں گری؟ نئے روزانہ قیمتوں کے نظام کی کامیابی کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ عالمی قیمت میں کمی کا فائدہ کتنی تیزی اور کتنی مقدار میں پاکستانی صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے۔

Back to top button