تربیلا ڈیم متاثرین کا فیصلہ 60 سال بعد آ گیا

عدالت عظمیٰ نے تربیلا ڈیم متاثرین کو معاوضہ، متبادل زمین کی ادائیگی سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے واپڈا کو راستہ نکالنے اور متاثرین کی تلافی کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت عظمیٰ نے تربیلا ڈیم متاثرین کا 60 سال بعد فیصلہ کرتے ہوئے متاثرین کے کلیمز کے خلاف واپڈا کی اپیل واپس لینے پر خارج کر دی جبکہ متاثرین کو معاوضہ، متبادل زمین کی ادائیگی سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، نامزد چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ دیا۔
نامزد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے واپڈا کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پالیسی کے مطابق تربیلا ڈیم متاثرین کو متبادل زمین نہیں ملی، 206 متاثرین کو دینے کے لیے کتنی زمین درکار ہے؟
وکیل واپڈا نے جواب دیا کہ متاثرین کو دینے کیلئے 5000 ہزار ایکڑ زمین درکار ہے، نامزد چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ واپڈا راستہ نکالے اور متاثرین کی تلافی کرے۔
ایف آئی اے کا بشیر میمن کے انٹرویوز پر پابندی کیلئے پیمرا کو خط
بھاشا ڈیم متاثرین کے ساتھ بھی واپڈا نے معاملات طے کیے، 12 ایکڑ اراضی کیلئے ایک لاکھ 7 ہزار معاوضہ نہ ہونے کے برابر ہے، واپد کے وکیل نے عدالت میں جواب دیا کہ متاثرین کے معاملات کو ہائیکورٹ فیصلہ کی روشنی میں جائزہ لے لیتے ہیں۔
