پاکستان کے دیوالیہ ہونے کاخطرہ کیوں پیداہوگیا؟

پاکستان ہمیشہ سے افرادی قوت برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا رہا ہے۔ خلیجی ریاستوں خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں موجود لاکھوں پاکستانی محنت کشوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر ملکی معیشت کا سب سے مضبوط سہارا سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم حالیہ کچھ برسوں سے پاکستان سے بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے افراد کی تعداد میں مسلسل کمی نے ملکی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ترسیلات زر پاکستانی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اس لئے اگر پاکستان سے  افرادی قوت کی بیرون ملک برآمد میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو ملک کا دیوالیہ ہونے سے بچنا ناممکن ہے۔

پاکستان بیورو آف امیگریشن کے مطابق 2023 میں بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 8 لاکھ 62 ہزار تھی، جو 2024 میں کم ہو کر 7 لاکھ 27 ہزار رہ گئی جو 2023 کے مقابلے میں 15 فیصد کم ہے. دوسری جانب 2025 کے پہلے آٹھ ماہ میں محض 4 لاکھ 52 ہزار افراد بیرون ملک گئے، جبکہ ہدف 8 لاکھ افراد کا تھا۔ یہ کمی نہ صرف متوقع اعداد و شمار سے کم ہے بلکہ ماضی کے رجحان کے مقابلے میں بھی تشویش ناک ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان سے افرادی قوت کی برآمد میں کمی کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی آنا شروع ہو گئی ہے، اور ماہانہ بنیادوں پر ترسیلات زر میں 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور خدشہ ہے کہ آئندہ مہینوں میں یہ کمی مزید بڑھے گی۔

پاکستانی افرادی قوت کی بیرون ملک ڈیماند میں کمی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سکلزڈیویلپمنٹ کے میدان میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں یکسر ناکام رہا ہے۔اس منصوبے پر اربوں روپےخرچ کرنے کے باوجود مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکام کو ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ محض 2 ماہ کی تربیت سے کسی بھی عام شخص کو پروفیشنل نہیں بنایا جا سکتا۔ بہتر یہ ہے کہ پہلے سے موجود ہنرمند افراد کو ٹیسٹ اور سرٹیفکیشن کے ذریعے استعمال میں لایا جائے تاکہ وہ فوری طور پر روزگار حاصل کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری پالیسیوں کا حال یہ ہے کہ ہنرمند کو بے روزگار اور غیر ہنرمند کو تربیت دے کر وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ پہلے سے موجود اسکلڈ ورک فورس کو مارکیٹ میں کھپایا جائے تاکہ غربت کی لکیر سے نیچے جانے سے پہلے ہی لوگوں کو سہارا دیا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان سے قریباً 8 لاکھ 62 ہزار افراد بیرون ملک گئے تھے، لیکن رواں سال یہ تعداد کم ہوکر 7 لاکھ سے بھی کم رہ گئی ہے۔’دوسری طرف حکومت اربوں روپے اسکلز ڈیویلپمنٹ پر خرچ کر رہی ہے لیکن اس کا براہِ راست فائدہ مزدور طبقے کو نہیں پہنچ رہا۔‘

معاشی ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر اور پاکستانی ورک فورس کی تعداد میں کمی ملکی معیشت کے لیے سنگین چیلنجز کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ ترسیلات زر پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور ان میں کمی سے کرنسی کی قدر میں کمی جبکہ مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستانیوں کیلئے ایسے ہی بیرونِ ملک روزگار کے مواقع کم ہوتے رہے تو مقامی سطح پر روزگار کے متبادل مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہو جائے گا، ورنہ معاشی عدم استحکام معاشرتی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

 

Back to top button