پاکستانی انکار کے باوجود چین کا اپنی سکیورٹی پاکستان لانے پر اصرار

پاکستان میں سی پیک پراجیکٹس پر کام کرنے والے چینی عملے پر ہونے والے مسلسل دہشت گرد حملوں کے پیش نظر ان کی حفاظت کے لیے چینی سکیورٹی تعینات کرنے کی اجازت دینے سے پاکستانی انکار کے باوجود بیجنگ کی جانب سے اصرار جاری ہے۔

پاکستان کی جانب سے 50 ہزار فوجی جوانوں پر مشتمل ایک پورا فوجی بریگیڈ چینی عملے کی سیکیورٹی پر تعینات کیے جانے کے باوجود دہشت گرد حملوں میں کمی نہیں آ پائی چناچہ چین اب پاکستان سے مطالبہ کر رہا ہے کہ سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے اسے اپنے سکیورٹی  گارڈز اور سسٹم لانے کی اجازت دی جائے۔

15 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر چینی وزیر اعظم لی چیانگ کے دورہ اسلام آباد کے بعد پاک-چین مشترکہ بیان میں چینی سرمایہ کاری اور عملے کے لیے ’مشترکہ طور پر محفوظ ماحول پیدا کرنے‘ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس بیان میں بھاری سفارتی زبان کا استعمال کیا گیا۔

 اس سے قبل مارچ 2024 میں داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر چینی مزدوروں پر حملے کے بعد چین کی جانب سے دیے گئے بیانات سخت نوعیت کے تھے۔ تاہم معاملہ اس سے کئی زیادہ سنگین ہے۔ حال ہی میں دو اہم اہم پیش رفت ہوئی ہیں۔ ایک چینی وزارت خارجہ کی معمول کی پریس کانفرنس تھی جس میں برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے نمائندے نے خصوصی طور پر ’پاکستان میں چینی شہریوں پر حالیہ حملوں‘ سے متعلق سوال پوچھا جس کا چین نے سفارتی جواب دیا جو یہ تھا کہ ’چین دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا‘۔

لیکن اسی روز کراچی میں پاکستانی حکام کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی جس میں انہوں نے 6 اکتوبر کو کراچی ایئرپورٹ کے باہر چینی شہریوں پر حملے کی مکمل تفصیلات میڈیا کو فراہم کیں۔ اس حملے میں دو چینی شہریوں سمیت تین افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ پریس کانفرنس میں فراہم کی گئیں تفصیلات میں بالترتیب حملے کا سبب بننے والے واقعات بتائے گئے، جوکہ کافی متاثر کُن تھے۔ آئی جی پولیس اور وزیر داخلہ سندھ کی میزبانی میں میڈیا بریفنگ کے ذریعے پاکستانی حکام نے ایک اہم پیغام پہنچایا اور وہ یہ تھا کہ ہم معاملے میں تہہ تک پہنچ رہے ہیں اور ہماری تحقیقات کے نتائج سامنے آرہے ہیں۔

اس سے اگلے روز رائٹرز نے ایک سٹوری شائع کی جس میں لکھا گیا کہ ’بیجنگ، پاکستان پر زور ڈال رہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے سیکیورٹی اہلکاروں کو پاکستان بھیجنے کی اجازت دے‘۔ چین کی جانب سے یہ دباؤ کراچی حملے کے بعد ڈالا گیا اور رائٹرز کی اسٹوری میں کہا گیا کہ ’اس حملے نے چین کو اشتعال دلایا جس کے بعد چین نے مشترکہ سیکیورٹی انتظامات کے لیے باضابطہ طور پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں‘۔

اگلے روز فنانشل ٹائمز میں ایک اور مضمون شائع ہوا جو تائیوان کے دارالحکومت تائی پے سے لکھا گیا۔ اس میں بھی وہی بات کی گئی۔ بیجنگ پاکستان میں سلامتی کی صورت حال سے ناخوش تھا اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے پاکستان میں اپنا سیکیورٹی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کررہا تھا۔ اس آرٹیکل کے مطابق پاکستان میں فعال چینی سرمایہ کاری اور دیگر شعبہ جات کے اداروں کی انتظامیہ نے چینی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی حفاظت کریں۔ فنانشل ٹائمز نے متعدد چینی ایگزیکٹوز کا حوالہ دیا۔

آرٹیکل کے مطابق پاکستان میں موجود چینی سیکیورٹی انجینئرز پہلے ہی سیکیورٹی منصوبہ ترتیب دینا شروع کر چکے تھے جس میں مقامی گارڈز کو ہائر کرنا، ان گارڈز کے پس منظر کی تحقیقات اور ’معلومات اکٹھا کررہے تھے‘۔ اس دوران پاکستانی میڈیا میں یہ خبر آ گئی کہ پاکستانی حکام نے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے اہنے گارڈز پاکستان میں تعینات کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

لیکن باخبر ذرائع کا دعوی ہے کہ چین اب بھی اپنے مطالبے پر اصرار کر رہا ہے جس سے لگتا یے کہ اب اس کا رویہ تبدیل ہو رہا ہے۔ اسی لیے سیکیورٹی خدشات سے متعلق چین کے لہجے میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔  باخبر ذرائع کا دعوی ہے کہ پاک -چین حکام کے درمیان آف دی ریکارڈ ملاقاتیں ہورہی ہیں اور چینی حکام پاکستان سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اس کے شہریوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے موئثر اقدامات کرے۔

یوتھیے عمران کی احتجاج کی فائنل کال سے متفق کیوں نہیں؟

پاکستان کا موقف ہے کہ اگر چین پاکستان میں اپنے سیکیورٹی ادارے تعینات کرتا ہے تو اس سے خطرات اور رسک میں مذید اضافہ ہو گا۔ سوال یہ بھی یے کہ پاکستان میں چینی سیکیورٹی اداروں کا کیا کردار ہوگا؟ کیا وہ اپنے اہلکار تعینات کریں گے؟ کیا وہ مسلح ہوں گے؟ وہ کن شرائط کے تحت اپنی قوت کا استعمال کرپائیں گے؟ کیا ان کے پاس نگرانی کرنے، انٹیلی جنس اکٹھا کرنے، مشتبہ لوگوں پر نظر رکھنے، انہیں حراست میں لینے یا ان سے تفتیش کرنے کے اختیارات ہوں گے؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ چینی سیکیورٹی اہلکاروں کی پاکستان میں تعیناتی سے ملک میں چینی شہریوں کی تعداد بھی زیادہ ہو جائے گی جس کا مطلب یہ ہوگا کہ زیادہ چینی شہری دہشتگردوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ ان چینی اہلکاروں کی حفاظت کون کرے گا؟

Back to top button