حکومت کے باوجود PTIپشاور میں بھی بڑا سیاسی شو کرنے میں ناکام

تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے پر پشاور میں منعقد کیے جانے والے جلسے کو پارٹی کی سیاسی طاقت کے بڑے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی مہم، سوشل میڈیا پر بھرپور تشہیر، منتخب نمائندوں کو دیے گئے اہداف اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوششوں کے باوجود جلسے کی کامیابی، شرکا کی تعداد اور سیاسی اثرات کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ تحریک انصاف نے اسے بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ قرار دیا، جبکہ ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا جیسے مضبوط سیاسی مرکز میں پارٹی اپنی توقعات کے مطابق بڑا اجتماع کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ جلسے کے بعد پارٹی تنظیم، عوامی حمایت، صوبائی حکومت کی کارکردگی اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
پشاور میں ہونے والا یہ جلسہ تحریک انصاف کے لیے اس لیے بھی اہم تھا کیونکہ خیبرپختونخوا کو پارٹی کا روایتی سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے کئی ہفتوں تک اس جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور مہم چلائی گئی۔ منتخب اراکین اسمبلی، صوبائی وزرا اور پارٹی عہدیداران کو کارکنوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانے کے لیے ذمہ داریاں سونپی گئیں، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر مہم جاری رہی۔
تحریک انصاف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ جلسے میں لاکھوں افراد شریک ہوں گے اور یہ عمران خان کے حق میں ایک بڑی سیاسی طاقت کا مظاہرہ ثابت ہوگا۔ تاہم جلسے کے بعد شرکا کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے، جس نے سیاسی بحث کو مزید بڑھا دیا۔
ذرائع کے مطابق جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے تحریک انصاف نے اپنی تنظیمی مشینری کو بھرپور طریقے سے متحرک کیا۔ پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی کو کارکنوں کی بڑی تعداد جلسہ گاہ تک پہنچانے کے اہداف دیے گئے، جبکہ صوبائی وزرا اور کابینہ اراکین کو بھی مخصوص تعداد میں کارکن لانے کی ذمہ داریاں دی گئیں۔
ہر رکن صوبائی اسمبلی کو تقریباً 500 جبکہ وزرا اور کابینہ اراکین کو ایک ہزار تک کارکن جلسے میں لانے کا ٹاسک دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کے علاوہ یوتھ ونگ، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور پارٹی کارکنوں کی جانب سے مختلف علاقوں میں کارنر میٹنگز، ریلیاں اور عوامی رابطہ مہم بھی چلائی گئی۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی تیاریوں اور حکومتی وسائل کی موجودگی کے باوجود جلسے میں وہ تعداد نظر نہیں آئی جس کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق یہ صورتحال پارٹی تنظیمی کمزوریوں اور کارکنوں کی ناراضی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

ابتدائی طور پر تحریک انصاف نے پشاور شہر میں واقع عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں شدید عوامی تنقید کے بعد جلسے کا مقام تبدیل کر کے ٹول پلازہ کے سامنے واقع میدان مقرر کیا گیا۔

پارٹی کا مؤقف تھا کہ نئے مقام پر زیادہ افراد کے لیے جگہ دستیاب ہوگی اور جلسہ ایک تاریخی اجتماع ثابت ہوگا۔ تاہم سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ مقام تبدیل کرنے کے باوجود جلسہ پارٹی کے دعووں کے مطابق بڑا اجتماع ثابت نہیں ہو سکا۔

جلسے میں شریک افراد کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اسے کامیاب اور تاریخی جلسہ قرار دیا، جبکہ ناقدین اور بعض ذرائع کے مطابق شرکا کی تعداد 50 ہزار سے 70 ہزار کے درمیان رہی۔

بعض حلقوں نے جلسے کے شرکا کی تعداد ایک لاکھ تک بتائی، تاہم اس حوالے سے بھی مختلف آرا موجود ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایک لاکھ افراد کی تعداد کو بھی درست مان لیا جائے تو خیبرپختونخوا کی تقریباً ساڑھے چار کروڑ آبادی کے مقابلے میں یہ تناسب بہت محدود بنتا ہے۔

ان کے مطابق پورے صوبے سے کارکنوں کو متحرک کرنے کے باوجود پارٹی اپنی سیاسی طاقت کے مطابق بڑا اجتماع کرنے میں ناکام رہی، جبکہ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ جلسہ گاہ شام کے وقت مکمل طور پر بھر گئی تھی اور مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں کارکن شریک ہوئے۔

جلسے کے دوران پشاور کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کے مسائل بھی نمایاں رہے۔ رنگ روڈ، جی ٹی روڈ، ناردرن بائی پاس اور دیگر راستوں پر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔

بعض شہریوں نے شکایت کی کہ جلسے کے باعث سڑکوں کی بندش اور ٹریفک جام سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ سیاسی جلسوں کے لیے ایسے مقامات کا انتخاب ہونا چاہیے جہاں عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔

دوسری جانب انتظامیہ نے سکیورٹی کے لیے اضافی نفری تعینات کی۔ پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد جلسہ گاہ اور اطراف کے علاقوں میں موجود رہی تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پشاور جلسہ دراصل تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں موجود سیاسی طاقت کا جائزہ بھی تھا۔ پارٹی کو مسلسل تیسری مرتبہ صوبے میں حکومت بنانے کا موقع ملا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی مسائل، مہنگائی، روزگار، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے عوام میں تحفظات موجود ہیں۔

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاق کے ساتھ صوبائی حکومت کے مالی اور انتظامی معاملات، عوامی توقعات اور حکومتی کارکردگی کے باعث کارکنوں میں مایوسی پیدا ہوئی ہے، جس کا اثر جلسے کی شرکت پر بھی پڑا۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پارٹی اب بھی عوامی حمایت رکھتی ہے اور عمران خان کے بیانیے کے ساتھ کارکن متحد ہیں۔

جلسے کے بعد تحریک انصاف کے اندرونی معاملات بھی زیر بحث آئے۔ بعض سیاسی حلقوں کے مطابق پارٹی میں موجود گروپ بندی اور تنظیمی اختلافات کارکنوں کو متحرک کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

خصوصاً پشاور اور قریبی اضلاع سے مطلوبہ تعداد میں کارکنوں کی شرکت نہ ہونے کو بعض مبصرین نے تنظیمی مسائل سے جوڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کو آئندہ سیاسی سرگرمیوں کے لیے تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔

تاہم تحریک انصاف کے رہنما ان تاثر کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پارٹی کے اندر اختلافات کی خبریں سیاسی مخالفین کا پروپیگنڈا ہیں۔

پشاور جلسہ تحریک انصاف کے لیے ایک اہم سیاسی سرگرمی ضرور تھا، تاہم اس کے حقیقی اثرات آنے والے دنوں میں واضح ہوں گے۔ اگر پارٹی مزید بڑے عوامی اجتماعات اور منظم سیاسی سرگرمیاں جاری رکھتی ہے تو یہ اس کی سیاسی طاقت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب اگر عوامی مسائل اور تنظیمی کمزوریاں برقرار رہیں تو پارٹی کے لیے اپنے سیاسی بیانیے کو مزید مؤثر بنانا ایک چیلنج ہوگا۔

 

کاکروچ تحریک نے مودی کی سیاست کا جنازہ کیسے نکالا؟

مجموعی طور پر پشاور جلسے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں عوامی اجتماعات سیاسی طاقت کے اظہار کا اہم ذریعہ ہیں، تاہم صرف جلسوں کی تعداد نہیں بلکہ تنظیمی صلاحیت، عوامی رابطہ اور عملی کارکردگی بھی سیاسی مستقبل کا تعین کرتی ہے۔

Back to top button