سلامتی کونسل: افغانستان دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، پاکستان

سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا کہنا ہے کہ افغانستان مختلف دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، اس لیے عالمی برادری کو اس مسئلے سے نمٹنے کےلیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں بدستور سرگرم ہیں اور وہیں سے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتےہوئے افغان سرزمین کو دہشت گردی کےلیے استعمال ہونے سے روکے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے)، القاعدہ سے وابستہ گروہوں اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر آئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ دہشت گرد گروہ افغانستان سے بھرتی،تربیت،منصوبہ بندی اور پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جب کہ انہیں پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی جانب سے مالی اور دیگر معاونت بھی حاصل ہے، انہوں نے یاد دلایاکہ گزشتہ ہفتے سوات میں ٹی ٹی پی کے خودکش حملے میں 16 پاکستانی جان کی بازی ہار گئے۔
پاکستانی مندوب نے کہاکہ اگرچہ پاکستان کی مؤثر کارروائیوں کے باعث داعش خراسان کو دھچکا پہنچا ہے،تاہم افغانستان میں اس تنظیم کا خطرہ اب بھی برقرار ہے، انہوں نے زور دیاکہ دہشت گردی ایک سرحد پار خطرہ ہے،جس سے نمٹنے کےلیے عالمی تعاون،سرحدی نظم و نسق،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنا ناگزیر ہے۔
عاصم افتخار نے کہاکہ دہشت گرد تنظیمیں جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز،سوشل میڈیا،مصنوعی ذہانت،ڈیجیٹل والٹس اور کرپٹو کرنسیوں کو بھرتی،فنڈنگ اور حملوں کی منصوبہ بندی کےلیے استعمال کررہی ہیں،جس کا مشترکہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے مطالبہ کیاکہ طالبان حکومت کو اس بات کا پابند بنایا جائےکہ افغان سرزمین کسی بھی دہشت گرد گروہ کی جانب سے پاکستان یا کسی دوسرے ملک کےخلاف استعمال نہ ہو، جب کہ دہشت گرد گروہوں کے سرپرستوں اور معاونین کو بھی جواب دہ ٹھہرایا جائے۔
پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال کا بھی ذکر کرتےہوئے کہاکہ 5 اگست بھارت کے یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی ہے، انہوں نے بھارتی اقدامات کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قراردیتے ہوئے کہاکہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر سمیت ہر جگہ ریاستی دہشت گردی کےخلاف بھی زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانا ہوگی۔
پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کیخلاف تعاون بڑھانےپراتفاق
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کےلیے دوہرے معیار سے بالاتر ہوکر جامع،مربوط اور کثیرالجہتی حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور پاکستان اس عالمی کوشش میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
