حکومت نے غیر ملکی صحافیوں پر سخت پابندیاں کیوں لگائیں؟

پاکستان میں غیر ملکی میڈیا کی سرگرمیوں سے متعلق حکومت کی جانب سے جاری کردہ "فارن میڈیا فیسلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026” نے صحافتی حلقوں، قانونی ماہرین اور میڈیا تنظیموں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نئے ضوابط کے تحت اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ دیگر علاقوں میں رپورٹنگ کے لیے پیشگی نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت ان اقدامات کو انتظامی اور سہولت کاری کا نظام قرار دے رہی ہے، جبکہ صحافتی تنظیمیں اور بعض مبصرین انہیں آزادیٔ صحافت، معلومات تک رسائی اور آزاد رپورٹنگ کے حوالے سے تشویش کا باعث قرار دے رہے ہیں۔
پاکستانی حکومت نے غیر ملکی میڈیا کے لیے نئی انتظامی ہدایات جاری کرتے ہوئے رپورٹنگ کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ فارن میڈیا فیسلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026 کے تحت غیر ملکی میڈیا سے وابستہ صحافیوں، فری لانسرز، سٹرنگرز، فکسرز اور دیگر معاون صحافیوں کے لیے مخصوص قواعد مقرر کیے گئے ہیں، جن کا مقصد حکومتی مؤقف کے مطابق میڈیا کی رجسٹریشن، رابطہ کاری اور سہولت کاری کو بہتر بنانا ہے۔
نئے ضوابط کی سب سے نمایاں شرط یہ ہے کہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر کسی بھی مقام پر غیر ملکی میڈیا کے لیے رپورٹنگ، ویڈیو، دستاویزی فلم یا دیگر صحافتی مواد تیار کرنے سے قبل ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ سے این او سی حاصل کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ غیر ملکی میڈیا سے وابستہ تمام افراد کے لیے رجسٹریشن اور بعض سرگرمیوں کے لیے پریس ایکریڈیٹیشن بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ان ہدایات کا مقصد میڈیا پر پابندی عائد کرنا نہیں بلکہ ایک منظم انتظامی طریقہ کار قائم کرنا ہے، تاکہ غیر ملکی میڈیا کو ضروری معاونت، رسائی اور رابطہ کاری فراہم کی جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ ضوابط قومی سلامتی، عوامی نظم و ضبط اور سرکاری امور کی مؤثر نگرانی کے تناظر میں مرتب کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں، بعض میڈیا اداروں اور قانونی ماہرین نے ان ضوابط پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پیشگی اجازت کی شرط بروقت رپورٹنگ، آزادانہ نقل و حرکت اور معلومات تک فوری رسائی کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ بعض قانونی ماہرین کے مطابق ان انتظامی ہدایات کی آئینی اور قانونی بنیاد پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
صحافتی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ پاکستان جیسے بڑے اور متنوع ملک میں کسی اہم یا ہنگامی واقعے کی فوری کوریج کے لیے تاخیر سے ملنے والی اجازت رپورٹنگ کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی لیے مختلف تنظیمیں وزارتِ اطلاعات کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ان ضوابط پر نظرثانی یا وضاحت کی خواہاں ہیں۔
پی ایم ڈی سی افغان میڈیکل کالجز کی ڈگریاں ماننے سے انکاری کیوں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے کا بنیادی سوال یہی ہے کہ قومی سلامتی کے تقاضوں اور آزادیٔ صحافت کے درمیان ایسا متوازن نظام کیسے قائم کیا جائے جس میں ریاست کے سکیورٹی مفادات بھی محفوظ رہیں اور صحافی آزاد، بروقت اور ذمہ دارانہ انداز میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھی انجام دے سکیں۔ آئندہ دنوں میں حکومت اور صحافتی تنظیموں کے درمیان ہونے والی مشاورت اس بحث کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
