پی ایم ڈی سی افغان میڈیکل کالجز کی ڈگریاں ماننے سے انکاری کیوں؟

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی نئی ایڈوائزری نے افغانستان سے میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کونسل نے واضح کیا ہے کہ عالمی معیار پر پورا نہ اترنے والی افغان جامعات کی ڈگریاں پاکستان میں رجسٹریشن، لائسنسنگ اور طبی پریکٹس کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔ اس فیصلے کے بعد سینکڑوں طلبہ اپنے تعلیمی مستقبل، پیشہ ورانہ کیریئر اور برسوں کی محنت کے ضائع ہونے کے خدشات سے دوچار ہیں، جبکہ ماہرین طلبہ کو بیرونِ ملک داخلے سے قبل متعلقہ اداروں کی عالمی منظوری اور قانونی حیثیت کی مکمل جانچ پڑتال کی تلقین کر رہے ہیں۔
افغانستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ اس وقت ایک بڑے تعلیمی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی حالیہ ایڈوائزری کے مطابق افغانستان کے میڈیکل اور ڈینٹل ادارے عالمی ادارے ای سی ایف ایم جی (ECFMG) کی منظور شدہ فہرست میں شامل نہیں، جس کے باعث وہاں سے حاصل کی گئی ڈگریوں کے حامل طلبہ پاکستان میں نہ تو نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن (NRE) دے سکیں گے اور نہ ہی بطور ڈاکٹر پریکٹس کر سکیں گے۔
اس فیصلے نے خاص طور پر خیبرپختونخوا کے ان طلبہ کو شدید متاثر کیا ہے جنہوں نے کم لاگت یا آسان داخلہ پالیسی کے باعث افغان جامعات کا انتخاب کیا تھا۔ کئی طلبہ نے تعلیم ادھوری چھوڑ کر دوسرے ممالک کا رخ کیا، جبکہ بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے ڈگری مکمل کرنے کے باوجود اب پیشہ ورانہ رجسٹریشن نہ ملنے کے باعث اپنا مستقبل غیر یقینی میں گھرا ہوا پایا۔
پی ایم ڈی سی کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی نئی نہیں بلکہ جولائی 2025 کے فیصلے کا تسلسل ہے، جس کا مقصد طلبہ کو غیر منظور شدہ اداروں میں داخلہ لینے سے روکنا اور عالمی معیار کے مطابق طبی تعلیم کو یقینی بنانا ہے۔ کونسل کے مطابق غیر تسلیم شدہ اداروں سے حاصل کردہ ڈگریاں نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پیشہ ورانہ مواقع محدود کر سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک بیرونِ ملک سے آنے والے ڈاکٹروں کی اسناد، جامعہ کے معیار اور مقامی لائسنسنگ امتحانات کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ اس ادارے کا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہونا بھی ضروری ہے۔
دوسری جانب متاثرہ طلبہ کا مؤقف ہے کہ بعض جامعات ماضی میں تسلیم شدہ فہرست میں شامل تھیں، تاہم بعد ازاں انہیں خارج کر دیا گیا، جس سے زیرِ تعلیم طلبہ شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایسے طلبہ کے لیے کوئی عبوری یا خصوصی پالیسی مرتب کی جائے تاکہ ان کی کئی سال کی محنت ضائع نہ ہو۔
والدین کیلئے خطرے کی گھنٹی، بچوں کے خلاف جرائم میں تشویشناک اضافہ
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ اور والدین داخلے سے پہلے متعلقہ یونیورسٹی کی بین الاقوامی منظوری، پی ایم ڈی سی کی ہدایات اور دیگر قانونی تقاضوں کی مکمل تصدیق کریں۔ ساتھ ہی پی ایم ڈی سی کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ بروقت آگاہی مہم چلائے اور غیر منظور شدہ اداروں کی فہرست باقاعدگی سے عوام کے سامنے لائے تاکہ آئندہ کسی طالب علم کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل متاثر نہ ہو۔
