والدین کیلئے خطرے کی گھنٹی، بچوں کے خلاف جرائم میں تشویشناک اضافہ

پاکستان میں بچوں کے خلاف جرائم ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل کی جنوری تا جون 2026 کی ششماہی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں صرف چھ ماہ کے دوران بچوں سے متعلق 1,914 جرائم رپورٹ ہوئے، جن میں جنسی استحصال، اغوا، گمشدگی، کم عمری کی شادی اور دیگر سنگین جرائم شامل ہیں۔ رپورٹ میں پنجاب سے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے، جبکہ ماہرین نے بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، قانون پر سختی سے عمل درآمد اور معاشرتی آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
بچوں کے خلاف جرائم نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ بچوں کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم ساحل کی شائع کردہ ششماہی رپورٹ نے ملک میں بچوں کی سلامتی سے متعلق کئی تشویشناک حقائق سامنے رکھ دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران پاکستان بھر میں بچوں کے خلاف 1,914 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں 1,015 جنسی استحصال، 558 اغوا، 101 گمشدگی، 35 کم عمری کی شادی اور 98 ایسے کیسز شامل ہیں جن میں جنسی زیادتی کے بعد پورنوگرافی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ 49 نومولود بچوں کو سڑک کنارے چھوڑ دینے کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرہ بچوں میں 58 فیصد لڑکیاں جبکہ 42 فیصد لڑکے شامل تھے۔ عمر کے لحاظ سے 11 سے 15 سال کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوعمر بچے مجرموں کا زیادہ نشانہ بن رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 43 فیصد کیسز میں ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے تھے، جبکہ 34 فیصد واقعات میں ملزمان اجنبی تھے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بچوں کو صرف باہر ہی نہیں بلکہ اپنے قریبی ماحول میں بھی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے باعث والدین، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
واقعات کی جگہ سے متعلق اعداد و شمار بھی تشویشناک ہیں۔ تقریباً 45 فیصد جرائم متاثرہ بچوں کے اپنے گھروں میں، 18 فیصد ملزمان کے گھروں میں اور 3 فیصد کھلے میدانوں میں پیش آئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کی حفاظت صرف عوامی مقامات تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ گھریلو اور قریبی ماحول میں بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
صوبائی سطح پر پنجاب سے 80 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ سندھ سے 15 فیصد اور خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے مجموعی طور پر 5 فیصد کیسز سامنے آئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مجموعی واقعات میں سے 89 فیصد کیسز پولیس میں درج کیے گئے، تاہم بعض واقعات میں مقدمات کے اندراج میں رکاوٹیں بھی سامنے آئیں، جو متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کے حصول میں مشکلات کی نشاندہی کرتی ہیں۔

 

ایران اور عمان کے درمیان نئے بحری راستے پر اصولی اتفاق

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے صرف سخت قوانین کافی نہیں، بلکہ والدین کی آگاہی، تعلیمی اداروں میں حفاظتی تربیت، بروقت رپورٹنگ، مؤثر تفتیش اور تیز رفتار انصاف بھی انتہائی ضروری ہیں تاکہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

Back to top button