کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کا مؤقف برقرار، پرامن حل پر زور

اقوام متحدہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے معاملے پر عالمی ادارے کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور اس تنازع کا پائیدار حل اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، شملہ معاہدے اور انسانی حقوق کے مکمل احترام کے مطابق پرامن ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان عزیز حق نے کہا ہےکہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کا مؤقف پہلے کی طرح برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق عالمی ادارے کی پوزیشن اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہے، جبکہ سیکرٹری جنرل 1972 کے شملہ معاہدے کا بھی حوالہ دیتے ہیں، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اہم دوطرفہ معاہدہ ہے۔

یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر دیا تھا۔اس فیصلے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام معطل کر دیا گیا، عوامی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں نافذ کی گئیں اور ہزاروں اضافی بھارتی فوجیوں کو تعینات کیا گیا۔

 

محسن نقوی کی تجویز سسٹم کے لیے خطرے کی گھنٹی

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بڑی تعداد میں غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے، جن کے ذریعے انہیں مستقل رہائش اور سرکاری ملازمتوں کے حقوق دیے گئے۔ ناقدین کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے کے آبادیاتی تناسب میں تبدیلی لانا ہے۔

Back to top button