محسن نقوی کی تجویز سسٹم کے لیے خطرے کی گھنٹی

معروف صحافی اور تجزیہ کار ایاز امیر نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے سسٹم کی ناکامی کا اعلان کرنے اور چھوٹے صوبے بنانے کی تجویز موجودہ سیاسی سیٹ اپ کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ یہ اقتدار کے پورے نظام کی تشکیل نو کا اشارہ ہے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں ایاز امیر کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد، خصوصاً پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، اس بدلتی ہوئی صورتحال کو سمجھنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ اگر اس سمت میں پیش رفت ہوتی ہے تو یہ دونوں جماعتوں کی موروثی سیاست اور اقتدار کے روایتی ڈھانچے کے لیے ایک بڑی آزمائش ثابت ہو سکتی ہے۔ ایاز امیر کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ روایتی سیاسی خاندانوں کی پہلے جیسی حیثیت باقی نہیں رہی۔ ان کے بقول اگرچہ ان خاندانوں کا سیاسی جاہ و جلال مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، تاہم بدلتے ہوئے حالات میں ان کی افادیت پہلے جیسی نہیں رہی اور نئے تقاضوں کو سمجھنے میں انہیں دشواری پیش آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی بندوبست کی بنیاد عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد رکھی گئی، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں نے مل کر نئی حکومت تشکیل دی۔ ان کے مطابق 2024ء کے انتخابات کے بعد اصل عوامی مینڈیٹ کے بجائے انتخابی نتائج پر اٹھنے والے سوالات نے اس نظام کی نوعیت کو مزید واضح کر دیا اور اسی وجہ سے حکمران جماعتوں کو مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔
ایاز امیر کے مطابق موجودہ حکومت کے وزراء اور دیگر اہم شخصیات کے بارے میں بھی یہ طعنے دیے جا رہے ہیں کہ وہ عوامی مینڈیٹ کے بجائے ایک مخصوص انتخابی بندوبست کے نتیجے میں اقتدار میں آئے ہیں، اسی تناظر میں ایوانِ صدر سمیت پورے حکومتی ڈھانچے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کی حالیہ گفتگو کو محض حکومتی کارکردگی پر تنقید سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق وزیر داخلہ دراصل اس پورے انتظامی اور سیاسی نظام پر سوال اٹھا رہے ہیں جس کے ذریعے موجودہ حکومتیں وجود میں آئیں۔ ایاز امیر کے بقول محسن نقوی کا اصل پیغام یہ ہے کہ حکمران جماعتیں اپنی اصل سیاسی حیثیت اور طاقت کے حقیقی مراکز کو پہچانیں اور نئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے تیار ہوں۔ ایاز امیر کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کسی محدود نوعیت کی اصلاحات یا معمولی تبدیلیوں کی بات نہیں کر رہے بلکہ وہ اس پورے نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیغام حکمران اتحاد کے لیے ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات کو تسلیم کرے اور نئی سیاسی حقیقتوں کے مطابق اپنا کردار متعین کرے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومتی شخصیات اقتدار، وسائل اور سرکاری اختیارات سے اسی وقت مستفید ہو سکیں جب انہیں اقتدار ملا، لیکن اب ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی موجودہ حیثیت کو سمجھتے ہوئے آئندہ کے سیاسی بندوبست میں بھی تعاون کریں۔ ایاز امیر کے مطابق اگر ریاستی سطح پر انتظامی اصلاحات، نئے انتظامی یونٹس یا چھوٹے صوبوں کے قیام کی سمت میں پیش رفت ہوتی ہے تو اس کا سب سے بڑا اثر ان جماعتوں پر پڑ سکتا ہے جن کی سیاست مخصوص صوبوں، روایتی ووٹ بینکوں اور خاندانی اثرورسوخ پر قائم ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں اور پیپلز پارٹی کی سندھ میں عشروں سے قائم سیاسی بالادستی اس وقت ایک نئے امتحان سے دوچار ہو سکتی ہے اگر اختیارات، وسائل اور سیاسی جغرافیہ نئے انداز میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اسی لیے دونوں جماعتیں اس بحث کو آسانی سے قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتیں۔
ایاز امیر کے بقول یہی وجہ ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں محسن نقوی کے اشاروں اور تجاویز کی اصل معنویت کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں، حالانکہ بدلتے ہوئے حالات میں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نئی حقیقتوں کا ادراک کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک ریاستی سطح پر سوچ یہ ہے کہ آئینی اور پارلیمانی ڈھانچہ برقرار رہے، اسمبلیاں بھی موجود ہوں اور وزیراعظم کا منصب بھی قائم رہے، تاہم اختیارات اور حکمرانی کے عملی طریقہ کار میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جو نئے انتظامی تقاضوں سے مطابقت رکھتی ہوں۔
ایاز امیر نے اپنے تجزیے میں ملک کو درپیش سکیورٹی، دہشت گردی، بلوچستان کی صورتحال، کشمیر کے معاملات اور معاشی بحران کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہی چیلنجز کے باعث انتظامی نظام پر اضافی بوجھ کم کرنے کی سوچ سامنے آ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہی پس منظر ہے جس میں محسن نقوی کی جانب سے موجودہ نظام کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کی خواہش بظاہر یہ ہے کہ اگر کسی نئے بندوبست یا انتظامی تبدیلی کی طرف جانا ہے تو وہ آئینی اور سیاسی تصادم کے بغیر، تدریجی انداز میں ہو تاکہ کسی بڑے جھٹکے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
ایاز امیر کے مطابق اگر نئے صوبوں یا انتظامی اصلاحات کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں روایتی سیاسی طاقت کے مراکز کمزور ہو سکتے ہیں، جس سے خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی خاندانی اور موروثی سیاست کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ تبدیلی آئے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ موجودہ حکمران جماعتیں اس تبدیلی کو بروقت سمجھ کر خود کو اس کے مطابق ڈھالتی ہیں یا پھر پرانے سیاسی تصورات سے چمٹے رہتی ہیں۔ ان کے بقول آنے والے دنوں میں یہی معاملہ پاکستانی سیاست کی سمت کا تعین کرے گا۔
