مقتدرہ کی توجہ کیلئے!

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ

میں ذاتی طور پر زیادہ صوبوں یا انتظامی یونٹس کیخلاف نہیں لیکن یہ ایک ایسا ایشو ہے جو سنجیدہ بحث کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے گورننس سسٹم کو اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان بھر میں ہمیں بہتری نظر آئے اور عوام کے مسائل حل ہوں۔ نئے صوبے بنانے کے حوالے سے میں آپ کے سامنے ڈاکٹر عشرت حسین سابق گورنر سٹیٹ بینگ کے گزشتہ سال اس ایشو پر لکھے گئے ایک مضمون کا خلاصہ پیش کرتا ہوں تاکہ ایک مثبت بحث کی جائے۔ ڈاکٹر عشرت نے مختلف ادوار میں سول سروس، پولیس اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بہت کام کیا اسلئے اُنکی رائے کی اپنی ایک اہمیت ہے۔

یہ تجویز،جو عوام کو حکومت کے قریب لانے اور خدمات کی بہتر فراہمی کے نام پر پیش کی جاتی ہے، ڈاکٹر صاحب کے مطابق جب اسکے عملی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ راستہ نہ صرف مشکل بلکہ غیر ضروری بھی ہے۔ اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک عدم منتقلی ہے اور اسکا حل نئے صوبے نہیں بلکہ مضبوط و بااختیار مقامی حکومتیں ہیں۔ سب سے پہلے آئینی راستہ دیکھیں۔ آئین کے تحت کوئی نیاصوبہ بنانےکیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت درکار ہے، جو موجودہ سیاسی ماحول میں تقریباً ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ اگر بالفرض یہ اکثریت حاصل بھی ہو جائے تو اسکے بعد اثاثوں اور واجبات کی تقسیم، انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو، سرکاری ملازمین کی نئی تعیناتیوں، حلقہ بندیوں اور سرحدوں کے تعین جیسے پیچیدہ مراحل کا سامنا ہو گا۔ یہ سارا عمل برسوں تک پھیل سکتا ہے اور اس دوران پالیسی سازوں کی توجہ معاشی بحالی سے ہٹ کر انتظامی جھگڑوں پر مرکوز ہو جائے گی اور یہ وقت ایسا ہرگز نہیں جب معیشت کو استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف لیجانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے خیال میں اس کا مالی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بارہ صوبوں کا مطلب ہے بارہ گورنر ہاؤسز، بارہ کابینائیں، سینکڑوں نئے وزرا، مشیر، اراکین اسمبلی اور بیوروکریٹس، انکے دفاتر، رہائش گاہیں، گاڑیاں اور پروٹوکول۔ یہ بھاری اخراجات، ایسے وقت میں جب ملک مالی استحکام کیلئے جدوجہد کر رہا ہے، فسکل کنسولیڈیشن کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ اسکے علاوہ کاؤنسل آف کامن انٹرسٹس، این ایف سی اور این ای سی جیسے وفاقی فورمز پر بارہ فریقین کے درمیان مذاکرات کہیں زیادہ طویل اور پیچیدہ ہو جائینگے، جس سے فیصلہ سازی سست روی کا شکار ہو گی۔ کاروباری طبقہ بھی متاثر ہو گا کیونکہ ملک بھر میں کام کرنے والی کمپنیوں کو بارہ مختلف دائرہ اختیارات میں الگ الگ شرح سے ٹیکس ریٹرن جمع کرانا پڑیں گے۔ سب سے اہم بات یہ کہ نئے صوبے علاقائی عدم مساوات کو کم کرنے کے بجائے مزید گہرا کر دینگے، کیونکہ ہر خطے میں نسبتاً وسائل سے مالا مال شہر جیسے پشاور، کوئٹہ یا وسطی پنجاب اپنے ارد گرد کے پسماندہ علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ترقی کریں گے۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اسکے برعکس، اگر آئینی ترمیم کا رخ مقامی حکومتوں کی طرف موڑا جائے تو کہیں بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ آئین میں مقامی حکومتوں کی ذمہ داریوں اور فرائض کو واضح طور پر متعین کیا جائے اور آئین کے چوتھے شیڈول میں ایک نئی فہرست کا اضافہ کیا جائے جو وفاقی اور صوبائی فہرستوں کی طرح مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیار کو تحفظ دے۔ اس میں پرائمری اور سیکنڈری تعلیم، ضلعی سطح کی صحتِ عامہ، پانی و سیوریج، سڑکیں اور مقامی نقل و حمل جیسے شعبے مکمل طور پر مقامی حکومتوں کے حوالے کئے جائیں اور متعلقہ عملہ بجٹ سمیت منتقل کیا جائے۔ ناظمین کا براہِ راست جماعتی بنیاد پر انتخاب، خواتین، اقلیتوں اور محنت کش طبقات کیلئے متناسب نمائندگی اور بڑے شہروں میں میٹروپولیٹن کارپوریشنز کا قیام اس نظام کو مؤثر بنا سکتا ہے۔ مالی طور پر، صوبائی مالیاتی کمیشن کو چاہیے کہ صوبے کے حصے کا کم از کم تیس سے چالیس فیصد براہِ راست مقامی حکومتوں کو منتقل کرے، تاکہ وہ اپنے بجٹ خود ترتیب دے سکیں۔ ساتھ ہی مقامی سطح پر جائیداد ٹیکس، زرعی ٹیکس اور صارف فیس جیسے وسائل کی وصولی کا اختیار بھی مقامی حکومتوں کو دیا جائے، کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ مقامی سطح پر ٹیکس وصولی زیادہ آسان اور مؤثر ہوتی ہے۔اس نظام کے فوائد واضح ہیں۔ شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کیلئے دور دراز صوبائی یا وفاقی دفاتر کے بجائے اپنے ہی محلے میں موجود ناظمین اور کونسلرز تک آسان رسائی حاصل ہو گی۔ سیاسی جماعتوں کیلئے یہ نظام نوجوان قیادت کی تربیت گاہ بنے گا، جو آگے چل کر صوبائی اور وفاقی سطح پر ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہو گی۔ خواتین، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو نمائندگی ملنے سے سیاسی شمولیت بڑھے گی اور خاندانی سیاست کی گرفت کمزور ہو گی۔ جب لوگ دیکھیں گے کہ ان کا ادا کیا گیا ٹیکس ان کے اپنے علاقے میں خرچ ہو رہا ہے، تو ٹیکس دینے کا رجحان بھی بڑھے گا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ یہ راستہ سستا بھی ہے، کیونکہ منتخب مقامی نمائندے اپنی ہی برادریوں میں رہائش پذیر ہوتے ہیں اور بیشتر دفتری ڈھانچہ پہلے سے موجود ہوتا ہے، اس لیے نئے صوبوں کی طرح بھاری غیر پیداواری اخراجات کا بوجھ نہیں پڑےگا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ آئینی ترمیم کو نئے صوبوں کی پیچیدہ اور مہنگی راہ پرلے جانےکے بجائے مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کیلئے استعمال کیا جائے۔ یہی وہ اصلاح ہے جو عوام کو اقتدار کے قریب لائے گی، بغیر اس کے کہ ملک کو نئے انتظامی، مالی اور سیاسی بحرانوں میں دھکیل دیا جائے۔

 

Back to top button