ون یونٹ اور نئے صوبوں کی تجویز

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
وزیراعلیٰ پنجاب ممتاز خان دولتانہ نے 1953ء میں مضبوط مرکزی حکومت کی تجویز پیش کی۔ایوب خان اپنی تصنیف ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘میں دعویٰ کرتے ہیں کہ سب سے پہلے انہوں نے ون یونٹ کا خیال پیش کیا۔بہر حال اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے آئین کی منظوری سے پہلے28مئی 1955ء کو نئی دستور ساز اسمبلی وجود میں آئی جس میں مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں اکائیوں سے 40,40ارکان تھے ،3اکتوبر 1955ء کو اس دستور سازاسمبلی نے اسٹیبلشمنٹ آف ویسٹ پاکستان ایکٹ منظور کیا جسکے تحت ون یونٹ اسکیم متعارف کروائی گئی ۔تب تک بلوچستان کو صوبے کی حیثیت حاصل نہیں تھی اور بلوچستان میں اسٹیٹ یونین کے ذریعے معاملات چلائے جا رہے تھے۔ بلوچستان اسٹیٹ یونین میں شامل سردارو ں نے معقول مشاہرے کی شرائط کے تحت ون یونٹ میں شامل ہونے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ طے پایا کہ خان آف قلات ،نواب آف خاران اور جام آف لسببیلہ اپنے تمام حقوق ،اختیارات اورخود مختاری سے دستبردار ہوتے ہیں اور اسکے عوض حکومت پاکستان خان آف قلات کو ساڑھے چھ لاکھ روپے ،نواب آف مکران کو دو لاکھ پچیس ہزار روپے ، جام آف لسبیلہ کو دو لاکھ روپے جبکہ نواب آف خاران کو سالانہ 70ہزار روپے مشاہرہ ادا کرئیگی۔غوث بخش بزنجو ون یونٹ اسکیم کے معاہدے پر دستخط کو ریاست قلات کے تابوت میں آخری کیل قرار دیتے ہیں۔بہرحال کچھ عرصہ بعد ان سرداروں کے ہاں پھر سے یہ خواہش انگڑائی لینے لگی کہ انکے علاقوں کی پرانی حیثیت بحال کی جائے۔ خان آف قلات میر احمد یار خان اپنی خود نوشت ’’ان سائیڈ بلوچستان‘‘میں بیان کرتے ہیںکہ قبائلی سرداروں کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کی اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے سبب اپنے مطالبات کی فہرست انکے حوالے کی ۔میر احمد یار خان کے مطابق صدر پاکستان کو ہزاروں احتجاجی مراسلے موصول ہورہے تھے جن میں کہا جارہا تھا کہ بلوچستان کی ون یونٹ میں شمولیت کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو بلوچ حکومت کے خلاف ہتھیار اُٹھانے سے دریغ نہیں کریں گے۔خان آف قلات میر احمد یار خان کے مطابق انہوں نے بلوچ سرداروں کا شکریہ ادا کیا اوروعدہ کیا کہ وہ انکی صدر اسکندر مرزا کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کروانے کی پوری کوشش کریں گے۔یوں 8اکتوبر 1957ء کو 44بلوچ قبائلی سرداروں کی کراچی میں صدر اسکندر مرزا سے ملاقات ہوئی ۔ خان آف قلات میر احمد یار خان اپنی خود نوشت ’’ان سائیڈ بلوچستان‘‘میں لکھتے ہیں کہ صدر اسکندر مرزا نے بلوچ سرداروں کے مطالبات کو اطمینان سے سننے کے بعد کہا کہ وہ ریاست قلات کی پرانی حیثیت بحال کرنے اور اسے ون یونٹ سے مستثنیٰ قرار دینے سے متعلق قانونی ماہرین کی رائے معلوم کریں گے۔اس حوالے سے سروے کروایا جائیگا ،اگر بلوچ آبادی کی اکثریت نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ون یونٹ اسکیم کے تحت مغربی پاکستان میںشامل نہیں رہنا چاہتے تو اس پر ہمدردانہ غور کیا جائیگا۔انہوںنے ہدایت دی کہ اس حوالے سے کسی ماہر قانونی مشیر بالخصوص لندن سے لارڈMacnairکی خدمات حاصل کی جائیں اور ان سے یہ معلوم کیا جائے کہ ریاست قلات کی ون یونٹ سے علیحدگی کی صورت میں ون یونٹ حکومت کی پوزیشن کمزور تو نہیں ہوجائیگی۔

اس ملاقات کے بعد صدر اسکندر مرزا نے خان آف قلات کو 15دن کیلئے سرکاری مہمان بنا کر اپنے پاس رکھ لیا ۔خان آف قلات میر احمد یار خان صدر اسکندر مرزا پر ایک نہایت سنگین الزام عائد کرتے ہیں ۔دراصل آئندہ برس کے آغاز میں انتخابات ہونا تھے اورمیر احمد یار خان کے مطابق ان انتخابات میں اپنے مرضی کے نتائج حاصل کرنے کیلئے صدر اسکندر مرزا نے ان سے رشوت طلب کی۔ خان آف قلات میر احمد یار خان نےاپنی خود نوشت ’’ان سائیڈ بلوچستان‘‘میںلکھا کہ جب میں صدر اسکندر مرزا کا ذاتی مہمان تھا تو انکے اصل عزائم آشکار ہوگئے۔اسکندر مرزااپنے خلاف مس فاطمہ جناح ،خان عبدالقیوم خان اور بالخصوص حسین شہید سہروردی کے ایماء پر چل رہی تحریک کی مقبولیت پر گھبراہٹ کا شکار تھے ۔حسین شہید سہروردی نے امریکہ میں سینیٹ کے ارکان سے 100منٹ سے زیادہ دورانیے پر محیط ایسی شاندار تقریر کی تھی جس نے امریکیوں کو سحر میں مبتلا کردیا تھا۔حسین شہید سہروردی بہت مقبول تھے اور مس فاطمہ جنا ح کا بہت احترام کیا جاتا تھا۔یوں اسکندر مرزا کے خلاف انتخابات میں باآسانی کامیابی حاصل کی جاسکتی تھی۔صدر اسکندر مرزا چاہتے تھے کہ میں ان کاساتھ دوں اورریاست قلات کی پرانی حیثیت بحال کرنے کے عوض الیکشن جیتنے کیلئے انہیںپچاس لاکھ روپے رشوت دوں۔حتیٰ کہ انہوں نے مجھے کہا کہ میں ریاست بہاولپور اور ریاست خیر پور کے حکمرانوں پر دبائو ڈالوں کہ وہ بھی بالترتیب 40لاکھ اور10لاکھ روپے ادا کرکے اپنی ریاستوں کیلئے ون یونٹ سے استثنیٰ حاصل کرلیں۔

خان آف قلات کے اس الزام سے قطع نظر ،ہمارے ہاں نئے انتظامی یونٹ بنانے کے بجائے پہلے سے موجو د وفاقی اکائیوں کو مضبوط کیا جاتا رہا۔پہلے مکران،لسبیلہ اور خاران کو بلوچستان میں شامل کیا گیا اور پھر گوادر کو بلوچستان میں ضم کردیا گیا ۔اسی طرح ریاست خیرپور کو سندھ اور بہاولپور کو پنجاب کا حصہ بنادیا گیا۔یہاں تک کہ چند برس قبل 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو خیبرپختونخوا میں شامل کیا گیا۔اور اب اچانک یہ الہام ہوا ہے کہ تمام مسائل کی جڑ ان وفاقی اکائیوں کی جغرافیائی حدود ہیں ۔دستور ساز اسمبلی نے افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کی فرمائش پر 1955ء میں جو ون یونٹ اسکیم متعارف کروائی تھی ،اسے دوسرے فوجی حکمران جنر ل یحیٰ خان نے یکم جولائی 1970ء کو ایل ایف او کے ذریعے ختم کردیا ،یوں چاروں صوبے تو پھر سے وجود میں آگئے مگر ریاستوں کی جداگانہ حیثیت بحال نہ کی گئی۔بظاہر یوں لگتا ہے کہ ون یونٹ اسکیم مسلط کرنے اور پھر اچانک ’’ری سیٹ‘‘کا بٹن دبا کر ختم کرنیوالوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور توازن و اعتدال کے بجائے مسلسل افراط و تفریط کا شکار ہیں ۔

 

Back to top button