مسافر نواز بہتیرے

بشکریہ: روزنامہ جنگ
ٹیکسی ڈرائیور سے ہم خفا تھے اور ہم نے اس کا بھرپور اظہار بھی کیا، اظہار یوں کیا کہ ہم نے ایک گھنٹے کے سفر میں اس سے ایک فقرے کا تبادلہ بھی نہیں کیا، اور گاڑی میں اسکی مرغوب موسیقی بھی بند کروا دی۔ ڈرائیور بھی خاصا کھردرا سا آدمی نکلا، اس نے بھی ہمیں رام کرنے کی رتی برابر کوشش نہ کی۔ یا شاید اس اُوت کو ہماری برہمی کی خبر ہی نہ ہوئی ہو، اور ازلی کم گو سمجھ کر اس نے ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا ہو۔ہیوسٹن مشاعرے کا وقت سات بجے شام تھا، ہم ائرپورٹ سے سیدھا مشاعرہ گاہ پہنچے، ساڑھے آٹھ بج چکے تھے مگر مشاعرہ ابھی آغاز نہیں ہوا تھا، ہم نے سکھ کا سانس لیا، تاخیر کے اسباب کو دعائیں دیں، بعد میں معلوم ہوا کہ افتخار عارف صاحب نے اسلام آباد سے زوم کے ذریعے صدارت فرمانا تھی، افتخار صاحب تو وقت پر تیار تھے مگر جن اصحاب نے ان کیلئے زوم آپریٹ کرنا تھا انہیں آنے میں قدرے تاخیر ہوئی، بہرحال کچھ ہی دیر میں شکیل جاذب اور عاطف یاسر صاحبان پہنچ گئے اور مشاعرہ شروع ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ رہی۔
بعض شعراء کو اپنا اکثر کلام حفظ ہوتا ہے، جیسے افتخار عارف ہیں یا عباس تابش ہیں، ان حضرات کو ہم نے مشاعروں میں حافظے کی مدد سے ایک ایک گھنٹہ مسلسل اپنا کلام سناتے دیکھا ہے۔ اس ضمن میں ہمارا معاملہ کچھ مختلف ہے، ہم نے آج تک کوئی مشاعرہ "پرچی” کے بغیر نہیں پڑھا، شعر یاد بھی ہوں تو مخطوطہ سامنے رکھتے ہیں، ورنہ کھد بد سی لگ جاتی ہے، دھیان بٹ جاتا ہے۔ خیر جب مشاعرہ آغاز ہونے لگا تو خیال آیا کہ ہماری ڈیجیٹل بیاض تو فون میں تھی اور فون تو اب ہمارے پاس نہیں ہے۔ حل یہ نکالا کہ کسی کا فون کچھ دیر کیلئے ادھار لیا جائے، فیس بک پر اپنا اکاؤنٹ کھولا جائے جہاں اپنا کلام پوسٹ کرتے ہیں، اور ایک دو چیزیں پڑھ کر”باعزت بری” ہوا جائے۔ آسان سی بات لگ رہی تھی مگر اب ذرا مسائل ملاحظہ فرمائیں۔ ایک فون ہمیں”دیا”گیا، لیکن وہ فون ہمیں "دیا”نہیں گیا، طے یہ ہوا کہ جب ہماری پڑھنے کی باری قریب آئیگی تو فون ہمیں عطا کر دیا جائیگا کیوں کہ فی الحال اس فون سے تقریب میں عکاسی کا کام لیا جا رہا ہے۔ آخرِ کار جب فون ہمیں تھمایا گیا تو پہلی چیز جس پر نظر پڑی وہ فون کی ڈوبتی ہوئی بیٹری تھی، فون کا فونٹ بھی ہمارے لیے بہت چھوٹا تھا، یک دم فون سکرین بجھ گئی، دوبارہ کھولنے کیلئے فون کے مالک کے فنگر پرنٹ درکار تھے، اسی دوران فون بجنے لگا۔ یہ کہانی طویل اور دردناک ہے۔ ہالی ووڈ کی کئی عالی شان فلموں کی شوٹنگ کے دوران پسِ پردہ اس قدر انارکی بتائی جاتی ہے کہ نوبت آپا دھاپی اور لڑائی جھگڑے سے خود کشیوں تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ مگر جب وہی فلم پردہء سکرین پہ ڈھلتی ہے تو انتہائی منظم اور مرتب شکل دھار چکی ہوتی ہے۔ فرانسس فورڈ کوپلا کی "اپو کلپس ناؤ” کی مثال اس ضمن میں سب سے زیادہ سننے میں آتی ہے۔ خیر، ہم بھی ہیوسٹن کا مشاعرہ پڑھتے ہوئے تنظیم، یقین اور اعتماد کی تصویر نظر آ رہے تھے۔ قصہ مختصر، مشاعرہ بھگت گیا، اور باعزت بھگت گیا۔وطن سے دور آدمی کچھ کھل سا جاتا ہے، بہت سے ایسے کام بھی کر گزرتا ہے جو وطن میں کرتے ہوئے سو مرتبہ سوچنا پڑتا ہے، سو جب ہیوسٹن میں ہمیں فکرِ اقبال کے موضوع پر ایک جگہ خطاب کی دعوت ملی تو ہم نے بنا رد و کد کے قبول کر لی۔ ہمیں یہ بھی معلوم تھا کہ یکے بعد دیگرے سرگرمیوں کے باعث موضوع کی تیاری کیلئے ایک گھنٹہ بھی نہیں ملے گا، نہ تشکیلِ جدید الہیات اسلامیہ پر نظر ڈال سکیں گے نہ فارسی کلام پر۔ پھر ہم نے خطاب کی یہ دعوت کیوں قبول کی؟ ہیوسٹن میں ایک صاحب ہیں ڈاکٹر آصف ریاض قدیر جنہیں یہاں چلتا پھرتا پاکستان کہا جاتا ہے، نصف صدی سے امریکا میں مقیم ہیں لیکن پاکستان کا تاپ اترنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ انہوں نے یہاں ایک قائدِ اعظم سینٹر قائم کر رکھا ہے، جناح لائبریری بنا رکھی ہے، اور کسی نہ کسی بہانے اقبال و جناح کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ انہیں انکار کرنا اچھا نہیں لگا۔ ڈاکٹر صاحب سے چار دفعہ ملاقات ہوئی، پہلے دن وہ ہمیں حمید غزنوی، دوسرے دن حمود غزنوی اور تیسرے دن محمود غزنوی کہہ کر پکارتے رہے۔ ہم نے کبھی درگزر کیا، کبھی ہلکی سی شکایت کی۔ ایک دو دفعہ ہم نے انہیں ڈاکٹر آصف جمیل ریاض منان قدیر کہہ کر بھی پکارا مگر ہماری ترکیب غیر موثر رہی۔ آخری دن انہوں نے ہمیں دور سے ہی آواز دی "حماد غزنوی صاحب تشریف لائیے۔” پھر گفتگو کے دوران بھی خوب چبا چبا کر ہمارا نام لیتے رہے۔ تقریب آغاز ہوئی تو ڈاکٹر صاحب نے ہمیں سٹیج پر آنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا۔ "اب میں پاکستان سے آئے ہوئے معروف صحافی، شاعر اور دانشور سے درخواست کروں گا کہ وہ سٹیج پر تشریف لائیں… محترم جناب سیّد حماد غوری۔” زندہ ہستیوں میں ہمیں ایک عہد ساز غزل گو احمد مشتاق سے ملنے کا بے حد اشتیاق ہے۔ وہ لگ بھگ نصف صدی سے امریکا میں مقیم ہیں، ہیوسٹن کے مضافات میں رہتے ہیں، گوشہ نشین آدمی ہیں، ایوارڈوں اور مشاعروں سے دور زندگی گزاری ہے۔ پچھلے سال ہیوسٹن آنا ہوا تو ہم نے ملاقات کی ایک کوشش کی تھی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ اب کے ہم نے پھر قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ یہ قصہ آگے بڑھانے سے پہلے ان کا ایک شعر سن لیجیے:
سنگ اٹھانا توبڑی بات ہے اب شہر کے لوگ
آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کو
