منٹو اور لارڈ قربان حسین

تحریر:حامد میر
بشکریہ؛ روزنامہ جنگ

آکسفورڈ یونیورسٹی کا سمروائل کالج مارگریٹ تھیچر اور اندرا گاندھی کی وجہ سے بڑا مشہور ہے۔ تھیچر گیارہ سال تک برطانیہ کی وزیراعظم رہیں جبکہ اندرا گاندھی چار مرتبہ بھارت کی وزیراعظم رہیں۔ گزشتہ ہفتے سمروائل کالج میں آکسفورڈ سمر پروگرام کی گریجویشن تقریب تھی۔ گریجوایشن کی تقریب کے بعد سمر وائل کالج میں ایک گرینڈ ڈنر تھا جس میں کیمبرج یونیورسٹی میں فلسفے کے استاد پروفیسر الیگزنڈربرگ، آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینٹر فار کرسچئین مسلم اسٹڈیزکے ڈائریکٹر مارٹن واٹنگھم اور مجھے طلبہ وطالبات کیساتھ گفتگو کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔ آکسفورڈ یونین کے سابق صدر احمد نواز اس سمر پروگرام کے روحِ رواں تھے۔ انہوں نے دنیا بھر سے ذہین اور قابل طلبہ وطالبات کو ایک چھت تلے اکٹھا کرکے ہمیں دنیا کے مستقبل سے مکالمے کا موقع فراہم کیا تھا۔ قابلِ غور بات یہ تھی کہ اس پروگرام میں زیادہ تر طلبہ وطالبات کا تعلق چین، بھارت اور امریکا سے تھا۔ پاکستان کی نمائندگی بہت کم تھی۔ اس تقریب کے منتظمین میں سمروائل کالج کےسینئر طلبہ وطالبات کے علاوہ بہت سے اساتذہ بھی شامل تھے۔ ایک سینئر خاتون استاد مجھے بے نظیر بھٹو اور عمران خان کے قصے سنانے لگیں۔ انہوں نے بتایا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال میں پڑھتی تھیں اور عمران خان کیبل کالج میں پڑھتےتھے۔ جب بے نظیر بھٹو نے آکسفورڈ یونین کے الیکشن میں حصہ لیا تو عمران خان اور ٹونی بلیئر نے اُن کی انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ایک اور سینئر استادنےبتایا کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان، ساتویں وزیراعظم ملک فیروز خان نون اور نویں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ پاکستان کے پانچ وزرائے اعظم نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم تو حاصل کی لیکن کسی کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ ایک کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا، دو قتل ہوگئے، ایک نے جنرل ایوب خان کے دباؤ میں آکر سیاست چھوڑ دی اور ایک پچھلے تین سال سے جیل میں ہے۔

اس شاندار تقریب میں موجود اکثر طلبہ اور اساتذہ مجھے بار بار عمران خان کے بارے میں پوچھتے تھے کہ جیل میں ان کا کیا حال ہے؟ میں سب کو یہ بتا رہا تھا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں کیونکہ عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں پر پابندی ہے۔ ڈنر ٹیبل پر مجھ سے زیادہ تر سوالات آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال کے بارے میں کیے جا رہے تھے۔ ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک استاد نے بڑے دکھی لہجے میں کہا کہ آزاد کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات کے بعد سے وہ اپنی کلاس میں بھارتی طلبہ کے ساتھ آنکھیں نہیں ملا سکتا کیونکہ پہلے میں بڑے فخر سے انہیں بتایا کرتا تھا کہ آزاد کشمیر کے لوگ بھارتی مقبوضہ کشمیر والوں کے مقابلے میں امن و سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اب بھارتی طلبہ اپنے اس استاد کو آزاد کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ کی ویڈیوز بھیج کر شرمندہ کرتے ہیں۔ اس ترک استاد نے کہا کہ اسے آکسفورڈ یونیورسٹی میں بیٹھ کر ایسا نظر آ رہا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ وہی ہو رہا ہے جو کردوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کرد کئی ممالک میں تقسیم ہیں اور ہر جگہ زیرعتاب ہیں۔ ترک استاد کے تجزیے سے اختلاف کی گنجائش موجود تھی لیکن میرے سامنے بیٹھی ہوئی ایک برطانوی طالبہ نے مجھے پوچھا کہ ٹیٹوال کہاں ہے؟

میں نے اسے بتایا کہ ٹیٹوال بھارتی مقبوضہ کشمیر کے علاقے کپواڑہ میں واقع ہے لیکن لائن آف کنٹرول کے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے اسکا کچھ حصہ آزاد کشمیر میں بھی شامل ہے۔ طالبہ نے پوچھا کہ آپ نے سعادت حسن منٹو کی کہانی”ٹیٹوال کا کتا“ پڑھی ہے؟ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ آپ نے یہ کہانی کہاں پڑھی؟

طالبہ نے بتایا کہ اسکی ایک کلاس فیلو کا تعلق کشمیر سے ہےکچھ دن پہلے اس نے منٹو کی اس کہانی کا انگریزی ترجمہ اسے بھیجا تھا اور بتایا تھا کہ کشمیریوں کے ساتھ آج کل ویسا ہی سلوک ہو رہا ہے جو منٹو کی کہانی میں ایک کتےکے ساتھ ہوا تھا۔ یہ سن کر میں میرا دل بجھ گیا۔ میں خاموش ہو گیا۔ میرے دائیں طرف بیٹھے ہوئے ڈاکٹر مارٹن نے پوچھا آپ خاموش کیوں ہو گئے؟ میں نے اسے بتایا کہ مجھے ڈنر ٹیبل سے جلدی اٹھناہے کیونکہ رات نو بجے کی ٹرین سے واپس لندن جانا ہے اور کل صبح میری لارڈ قربان حسین سے ملاقات ہے۔ میرے جلدی اٹھنے کا سن کر ترک استاد نے پوچھا کہ منٹو کی کہانی میں ایسا کیا لکھا ہے جس نے آپکو اداس کر دیا؟

میں نے اسے بتایا کہ منٹو نے یہ کہانی پاکستان اور بھارت کے درمیان 1948ءمیں ہونیوالی پہلی جنگ کے پس منظر میں لکھی تھی۔ اس جنگ کے دوران دونوں فوجوں کے مورچے قریب قریب تھے۔ ٹیٹوال کا ایک کتا دونوں فوجوں کے مورچوں کے درمیان پھنسا ہوا تھا۔ کبھی بھارتی فوجی اسے بسکٹ کھلا دیتے تھے کبھی پاکستانی فوجی اسے روٹی کا ٹکڑا پھینک دیتے اور سمجھتے کہ یہ کتا صرف انکا وفادار ہے۔ پھر ایک دن بھارتی فوجیوں کو شک پڑا کہ یہ کتا پاکستانی جاسوس ہے کیونکہ وہ پاکستانی مورچے کے آس پاس نظر آیا تھا۔

پاکستانی فوجیوں کا خیال تھا کہ یہ کتا بھارتی جاسوس ہے۔ایک دن یہ کتا پاکستانی مورچے کی طرف سے بھارتی مورچے کی طرف آ رہا تھا۔ ایک بھارتی فوجی نے دور بین سے اس دیکھا تو نشانہ باندھ کر اس پر فائر کھول دیا اور کتے کو بری طرح زخمی کر دیا۔ بیچارا کتا گھبرا کر پاکستانی مورچے کی طرف بھاگا تو ادھر سے بھی فائرنگ شروع ہو گئی اور پھر یہ کتا کراس فائرنگ میں مارا گیا۔ میں نے ترک استاد کوبتایا کہ منٹو کی یہ کہانی ایک مخصوص وقت میں ایک مخصوص صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، لیکن آج کی صورتحال سے بالکل مختلف ہے۔ آج کشمیری اتنے بے بس اور لاچار نہیں جتنے 1948 میں تھے۔ آج ان پر سرینگر یا راولاکوٹ میں گولی چلتی ہے تو لندن اور نیویارک میں بہت بڑے مظاہرے ہوتے ہیں۔ ڈنر سے جلدی رخصت لیکر میں لندن روانہ ہوا۔ اگلے دن لندن کی ایک کافی شاپ میں لارڈ قربان حسین سے ملاقات ہوئی۔ ہاؤس آف لارڈز کے رکن قربان حسین 14 سال کی عمر میں کوٹلی کے ایک گاؤں سے برطانیہ آئے تھے۔ آزاد کشمیر میں رہتے تو کبھی کونسلر بھی نہ بن پاتے۔ آج ہاؤس آف لارڈز کے رکن ہیں۔ وہ بھی آزاد کشمیر کی صورتحال پرسخت پریشان تھے۔ بتانے لگے کہ آجکل برطانوی پارلیمنٹ میں چھٹیاں ہیں۔ دو تین ہفتوں کےبعد پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے والا ہے پھر روزانہ پارلیمنٹ میں آزاد کشمیر پر بحث ہوگی اور روزانہ پاکستان کا تماشہ بنے گا۔ لارڈ قربان نے ابھی تک اس خط پر دستخط نہیں کیے جو برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے حکومتِ پاکستان کو لکھا ہے۔ وہ مذاکرات کے حامی ہیں۔ انہوں نے پاکستانی ارباب اختیار کو ایک خط لکھ کر افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے پر زور دیا ہے۔ انہیں ابھی تک کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے کہہ رہے تھے کہ کہیں سے کوئی جواب نہ آیا تو پھر میں ہاؤس آف لارڈز میں ضرور بولوں گا ،رخصت ہوتے وقت پرنم آنکھوں سے کہنے لگے کشمیریوں پر گولیاں چلانے والے یاد رکھیں وقت بدل چکا ہے اب گولی سے ہماری آواز دبائی نہیں جا سکتی۔

 

Back to top button