کیا پی پی پی اور نون لیگ فوج کے خلاف ڈٹ جائیں گی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ اگر طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قیادت پر چھوٹے صوبے بنانے کے لیے دباؤ ڈالا تو ہو سکتا ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں اپنی سیاست بچانے کے لیے ڈٹ جائیں اور سسٹم قربان کرنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ ان کے مطابق چھوٹے صوبوں کے قیام کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے، تاہم موجودہ سیاسی اور آئینی حالات میں اس معاملے کو چھیڑنا نہ صرف انتہائی مشکل بلکہ ملک کے لیے ایک نئے سیاسی بحران کو جنم دینے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

سلیم صافی نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کوئی نئی نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے مختلف سیاسی اور قوم پرست جماعتیں اپنے اپنے علاقوں کی بنیاد پر نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ تاہم اس بحث نے حالیہ دنوں اس وقت نئی شدت اختیار کی جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں بیان دیا، جس کے بعد ملک بھر میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید طاقتور حلقے بھی اس سمت میں پیش رفت چاہتے ہیں۔

سلیم صافی کے مطابق ماضی میں مختلف رہنماؤں نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پختون قوم پرست جماعتیں ابتدا ہی سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پختون اکثریتی علاقوں کو ملا کر ایک الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، جبکہ مرحوم تاج محمد لنگاہ نے اپنی پوری سیاسی زندگی جنوبی پنجاب یا سرائیکستان کے قیام کی تحریک کے لیے وقف کیے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی 2012 کو پنجاب اسمبلی نے اتفاق رائے سے بہاولپور صوبے کی بحالی اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی قرارداد منظور کی تھی، تاہم یہ پیش رفت عملی اقدامات میں تبدیل نہ ہوسکی۔

تجزیہ کار کے مطابق ہزارہ صوبے کے مطالبے کو بھی طویل عرصے تک مرحوم بابا حیدر زمان نے زندہ رکھا، جبکہ مشرف دور میں لاہور کے ایک سابق ناظم رہنے والے میاں عامر بھی کافی عرصے سے چھوٹے صوبوں کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح ایم کیو ایم بھی سندھ کو دو صوبوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کئی برسوں سے کرتی آرہی ہے۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ اگرچہ چھوٹے انتظامی یونٹ بنانے کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں، کیونکہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے اور پنجاب آبادی کے اعتبار سے دنیا کے کئی ممالک سے بڑے ہیں، تاہم پاکستان میں یہ معاملہ اس قدر سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے کہ اب اس پر بات کرنا بھی ایک حساس مسئلہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیا جائے تو انتظامی لحاظ سے شہریوں کو نمایاں سہولتیں مل سکتی ہیں اور ریاستی امور زیادہ مؤثر انداز میں چلائے جا سکتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہ موضوع مختلف سیاسی مفادات سے جڑ چکا ہے، جس کے باعث اس پر اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

سلیم صافی نے سوال اٹھایا کہ نئے صوبے آخر کس بنیاد پر قائم کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق اگر لسانی بنیاد اختیار کی جاتی ہے تو سرائیکی اور ہزارہ صوبے کے مطالبات سامنے آتے ہیں، اگر تاریخی بنیاد اپنائی جاتی ہے تو بہاولپور صوبے کی بحالی کا مطالبہ موجود ہے، جبکہ کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی تجویز انتظامی بنیادوں پر پیش کی جاتی رہی ہے۔ ان کے بقول اگر ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو لسانی اور تاریخی بنیادوں پر صوبے مانگنے والی قوتیں اس کی مخالفت کریں گی۔
انہوں نے آئینی پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق کسی بھی نئے صوبے کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے قرارداد کی منظوری لازمی ہے۔ ان کے مطابق اگر سندھ اسمبلی تقسیم سندھ کی قرارداد منظور نہ کرے تو قومی اسمبلی کی کسی بھی قرارداد کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہوگی۔ یہی صورتحال بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حوالے سے بھی موجود ہے۔

سلیم صافی نے یاد دلایا کہ 2012 میں پنجاب اسمبلی نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کے حوالے سے قرارداد تو منظور کر لی تھی، تاہم اس کے بعد مرکز میں صوبوں کے قیام کے لیے آئینی کمیشن تک قائم نہیں کیا گیا اور معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ موجودہ سیاسی حالات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے ہر قسم کا فیصلہ آسانی سے منوایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق چھوٹے صوبوں کا معاملہ ایسا حساس ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے دونوں جماعتوں پر اس حوالے سے دباؤ بڑھایا تو ممکن ہے کہ وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے سخت مؤقف اختیار کریں اور سسٹم کی قربانی دینے پر بھی آمادہ ہو جائیں۔

سلیم صافی کے مطابق پیپلز پارٹی کی سیاست کا مرکز سندھ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ پارٹی کو انتخابی ووٹ اندرون سندھ سے ملتے ہیں، لیکن معاشی اور سیاسی لحاظ سے کراچی اس کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اسی لیے پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم روکنے کے لیے وفاقی نظام تک کی قربانی دینے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بھی دل سے پنجاب کی تقسیم کے حق میں دکھائی نہیں دیتی، جبکہ تحریک انصاف موجودہ سیاسی ماحول میں اس تجویز کی حمایت کرتی نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق اگر ہر ڈویژن کو الگ صوبہ بنانے کی تجویز سامنے آئی تو قوم پرست جماعتیں بھی اس کی مخالفت کریں گی، جس سے سیاسی اتفاق رائے مزید مشکل ہو جائے گا۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ملک پہلے ہی متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویش ناک ہے، جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں بھی سیاسی بحران موجود ہے۔ ایسے ماحول میں ایک اور متنازعہ آئینی اور سیاسی بحث چھیڑنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ انتظامی مسائل کا حل صرف نئے صوبے بنانا نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دیا جائے، انہیں مالی خودمختاری فراہم کی جائے اور صوبائی مالیاتی کمیشن کو بھی نیشنل فنانس کمیشن کی طرز پر مؤثر بنایا جائے تاکہ عوام کو نچلی سطح پر بہتر طرز حکمرانی میسر آسکے۔

سلیم صافی نے کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹوں کی افادیت سے اختلاف ممکن نہیں، تاہم موجودہ سیاسی، آئینی اور سکیورٹی حالات میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث شروع کرنا نہ صرف غیر موزوں بلکہ ملک کے لیے مزید سیاسی کشیدگی پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

Back to top button