نئے صوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام سے متعلق بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ حکومت، اپوزیشن اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس معاملے پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ جہاں کچھ رہنما بڑھتی ہوئی آبادی، بہتر حکمرانی اور عوامی سہولت کے لیے نئے صوبوں کو وقت کی ضرورت قرار دے رہے ہیں، وہیں بعض سیاسی جماعتیں آئینی تقاضوں، صوبائی خودمختاری اور عوامی رضامندی کو بنیادی شرط قرار دے رہی ہیں۔
اب تک کی پیشرفت یہ ہے کہ معاملہ صرف سیاسی بیانات، تجاویز اور بحث تک محدود ہے، جبکہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی طریقہ کار کے تحت عملی اقدامات یا باقاعدہ قانون سازی کا آغاز نہیں ہو سکا۔

وفاقی وزیر رضا حیات ہراج نے محسن نقوی کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی برسوں سے نئے صوبوں کے قیام کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس بننے سے وفاق مضبوط ہوگا، عوام کو سہولت ملے گی اور حکمرانی کا نظام بہتر ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ محسن نقوی نے ایک اہم مسئلہ اٹھایا ہے اور نئے صوبوں کا قیام وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہی ممکن ہوگا۔

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے بھی نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے موجودہ صوبے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے بہت بڑے ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے عوامی مسائل کے حل اور مؤثر انتظامی نظام میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق نئے صوبے کسی سیاسی مفاد کے بجائے بہتر طرز حکمرانی کے لیے ضروری ہیں۔

استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے تجویز دی کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو انتظامی بنیادوں پر شمال، وسط اور جنوب کے تین تین حصوں میں تقسیم کرکے ملک میں مجموعی طور پر 12 انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں۔

ان کا مؤقف ہے کہ اس تقسیم سے صوبوں کی تاریخی اور ثقافتی شناخت بھی برقرار رہے گی جبکہ شہریوں کو چھوٹے چھوٹے سرکاری کاموں کے لیے طویل سفر نہیں کرنا پڑے گا۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں پر بحث شروع ہونا ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم اس معاملے پر پارلیمنٹ اور سینیٹ میں تفصیلی بحث اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے اور حکومت ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ایک صفحے پر ہیں اور اس بحث کو کسی ادارہ جاتی اختلاف سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام پر مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔

ان کے مطابق جنوبی پنجاب کے عوام محرومی، غربت اور پسماندگی کا شکار ہیں اور الگ صوبہ ان مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبے آبادی کی بنیاد پر بننے چاہییں تاکہ انتظامی امور بہتر انداز میں چلائے جا سکیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ کسی ایک فرد کی رائے کو حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق کسی بھی علاقے کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی صوبے یا علاقے کے لوگ تبدیلی نہیں چاہتے تو ان پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے پنجاب اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کر چکی ہے، تاہم نئے صوبے کے قیام کے لیے آئین کے مطابق صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہزاروں سال پرانی تہذیب اور ثقافت کا حامل صوبہ ہے، جس کی شناخت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو نے نئے صوبوں سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس معاملات پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق آئین میں نئے صوبوں کے قیام کا واضح طریقہ کار موجود ہے اور کسی بھی تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جنوبی پنجاب سے متعلق قرارداد موجود ہے، لیکن سندھ میں نئے صوبے کی ضرورت نہیں۔

سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے نئے صوبوں کی بحث کو حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گورننس کے مسائل کی بنیادی وجہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ اختیارات کا ارتکاز، آئینی خلاف ورزیاں، غیر شفاف انتخابات، پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنا اور صوبائی خودمختاری کو کمزور کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف وفاقی اکائیوں کے اتحاد سے وجود میں آیا، اس لیے تاریخی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم صوبوں کو صرف انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نئے صوبے بنانا کوئی غلط بات نہیں، تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں ملک اس کا متحمل ہو سکتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ محسن نقوی وزیراعظم کی مشاورت کے بغیر ایسا اہم بیان نہیں دے سکتے، تاہم بعض اوقات ایسے موضوعات ملکی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بھی سامنے آتے ہیں۔

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے صوبہ ہزارہ کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک 2010 سے جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی 2014، 2018 اور 2020 میں صوبہ ہزارہ سے متعلق قراردادیں منظور کر چکی ہے جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی بل پیش کیے جا چکے ہیں۔

ان کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر چھوٹے انتظامی یونٹس گورننس، ترقیاتی منصوبوں اور ریونیو نظام کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

نئے صوبے کے قیام کے لیے آئین پاکستان کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت اور دیگر آئینی مراحل مکمل کرنا ضروری ہیں۔

اسی وجہ سے سیاسی اتفاق رائے کے بغیر یہ معاملہ عملی شکل اختیار کرنا مشکل نظر آتا ہے۔

محسن نقوی کے بیان کے بعد نئے صوبوں کا معاملہ ایک بار پھر قومی سیاسی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔ حکومتی شخصیات اسے بہتر گورننس اور عوامی سہولت کا ذریعہ قرار دے رہی ہیں، جبکہ مخالف سیاسی حلقے آئینی تقاضوں، عوامی رضامندی اور تاریخی شناخت کے تحفظ پر زور دے رہے ہیں۔

 

’کوکین کوئین‘ انمول پنکی کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟

فی الحال معاملہ تجاویز اور سیاسی بیانات تک محدود ہے، تاہم آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اس بحث کی سمت کا تعین کریں گے۔

Back to top button