عمران خان کی جیل عیاشیوں کی کہانی، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی زبانی

بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں سہولیات کی عدم فراہمی اور غیر انسانی سلوک کے بلند وبانگ دعوؤں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی مبینہ قیدِ تنہائی سے متعلق درخواست پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا اور انہیں جیل قوانین کے مطابق تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ میں طبی نگہداشت، ملاقاتوں، نقل و حرکت اور سکیورٹی انتظامات کی تفصیلات بھی شامل ہیں، جبکہ قیدِ تنہائی سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس معاملے پر عدالت میں مزید سماعت متوقع ہے۔
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جیل میں قیدِ تنہائی سے متعلق دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالتی نوٹس کے جواب میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے تفصیلی رپورٹ جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں جیل قوانین کے مطابق تمام قانونی سہولیات اور مناسب سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان صبح لاک اپ کھلنے کے بعد شام تک اپنے مخصوص کمپاؤنڈ میں آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق روزمرہ سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل میں کسی بھی قیدی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا جاتا اور اس طرز کی سزا عملی طور پر اب رائج نہیں رہی۔
جیل حکام نے بتایا کہ عمران خان کو ہر منگل اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ ان کی سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سات سیل پر مشتمل علیحدہ کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے جہاں عام قیدیوں کی رسائی نہیں ہوتی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عمران خان کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ جیل کے ڈاکٹر روزانہ متعدد مرتبہ طبی معائنہ کرتے ہیں، بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن، آکسیجن سیچوریشن اور دیگر طبی علامات کا جائزہ لیتے ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر اضافی طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔ ان کے کھانے کے معیار کی نگرانی بھی کی جاتی ہے اور ایک مقررہ سزا یافتہ قیدی ان کی پسند کے مطابق روزانہ تین وقت کا کھانا تیار کرتا ہے۔
جیل انتظامیہ کے مطابق سابق وزیراعظم کو قدرتی روشنی، تازہ ہوا اور دن کے اوقات میں ورزش کی سہولت بھی حاصل ہے، جبکہ ان کی رازداری اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی حوالہ دیا گیا کہ فرینڈ آف دی کورٹ کی حیثیت سے سینئر وکیل سلمان صفدر نے رواں سال فروری میں عمران خان کے سیل کا معائنہ کیا تھا اور اپنی رپورٹ متعلقہ عدالت میں جمع کرائی تھی۔

 

پی ایم ڈی سی افغان میڈیکل کالجز کی ڈگریاں ماننے سے انکاری کیوں؟

رپورٹ کے اختتام پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے قیدِ تنہائی سے متعلق لگائے گئے الزامات حقائق پر مبنی نہیں بلکہ قیاس آرائی ہیں، اس لیے درخواست مسترد کی جائے۔ اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں مزید سماعت متوقع ہے، جہاں عدالت فریقین کے مؤقف کا جائزہ لے کر آئندہ کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔

Back to top button