اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے قواعد پر ججز میں اختلافات

اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے قواعد کی منظوری کے بعد ججز کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں، تاہم عدالت کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ تمام ججز کو اس عمل میں شامل کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے پانچ ججز نے قواعد کی منظوری کے طریقہ کار پر اعتراضات جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قواعد جلد بازی میں منظور کیے گئے اور بامعنی مشاورت نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ڈرافٹ رولز کئی ماہ قبل ججز کو فراہم کیے گئے تھے اور ان کی رائے طلب کی گئی تھی۔ فل کورٹ میٹنگ میں رولز 11 میں سے 6 ججز کی حمایت سے منظور ہوئے۔
ججز جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس سمن رفعت امتیاز نے اس عمل پر تحفظات ظاہر کیے ہیں اور ترامیم کا مطالبہ کیا ہے۔
نئے قواعد کے تحت چیف جسٹس کو زیادہ انتظامی اختیارات مل گئے ہیں، جس میں اپنی مرضی سے کسی بھی جج کو ایڈمنسٹریشن کمیٹی میں شامل کرنے اور سینئر جج کو لازمی رکن رکھنے کی شرط ختم کرنے کا اختیار بھی شامل ہے۔
دریائے چناب میں شدید طغیانی، مظفرگڑھ کے سینکڑوں دیہات زیرِ آب
اختلافی ججز نے مؤقف اپنایا ہے کہ قواعد کا مسودہ صرف ڈیڑھ دن پہلے فراہم کیا گیا، جس سے مشاورت محض رسمی کارروائی رہی۔ جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مؤقف درست نہیں، ہر جج کو شامل کیا گیا تھا اور تجاویز دینے کا موقع دیا گیا تھا۔
نئے نظام میں چیف جسٹس کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ کن ججز کو انتظامی امور یا خصوصی بینچز میں شامل کریں۔ اختلافی ججز کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار بعض ججز کو فائدہ پہنچانے اور کچھ کو نظرانداز کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
