اسرائیل کو تسلیم کرنے یا تجارت کرنے کی حمایت نہیں کرتا

پیپلز پارٹی کے رہنما و سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہاہے اسرائیل کو تسلیم کرنے یا تجارت کرنے کی حمایت نہیں کرتا،میرے بیان کو توڑموڑ کرپیش کیا جا رہاہے۔

پی ٹی آئی اپنا جھوٹا بیانیہ سچا کیسے ثابت کرتی ہے؟

ڈان نیوز کے مطابق اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کو اپنے مفادات کو دیکھنا ہوگا’ کا بیان واپس لے لیا ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے یا تجارت کرنے کی حمایت نہیں کرتا، اسرائیل سے متعلق میرے بیان کو توڑ موڑ کے پیش کیا جا رہا ہے۔

انکا کہنا تھامیرا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھائے جائیں یا تجارت شروع کی جائے، میرے بیان کو توڑ موڑ کر پیش کرکے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کے مفاد میں نہیں،اسرائیل سے متعلق پاکستان کی پالیسی اور پیپلزپارٹی کا مؤقف بڑا واضح ہے، پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔
سلیم مانڈوی والا نے کہاپارلیمان کے اندر بھی میرا مؤقف آن ریکارڈ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے،اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر مظالم پوری دنیا کے سامنے ہیں، اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر مظالم پر دنیا کی خاموشی قابل تشویش ہے۔

گزشتہ روز یہ بیان سابق ڈپٹی چیئرمین کی جانب سے دیے جانے والے انٹرویو کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دیکھنا ہوگا کہ اسرائیل کے ساتھ ڈیل کرنا پاکستان کے مفاد میں ہے یا نہیں، لوگ اسرائیل پر تنقید کرتے ہیں، ہمیں اپنا مفاد دیکھنا ہے۔

خیال رہے کہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ڈان نیوز کوخصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ کسی ملک کے ساتھ ڈائیلاگ یا تجارت بند نہیں کرنی چاہئے، مڈل ایسٹ کے تمام ممالک اسرائیل سے بات چیت اور تجارت کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اس لیے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں، پاکستان فلسطینی ریاست کے مطالبات کا حامی ہے،15ستمبر 2020 کو متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے تاریخی معاہدے پر امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں دستخط کیے تھے،پاکستان نے واضح کیا تھا کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور فلسطینی عوام کے لیے قابل قبول حل تک پاکستان، اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔

یاد رہے کہ گزشتہ مہینے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے امریکا میں مقیم پاکستانیوں کے وفد سے ملاقات کی تصدیق کی تھی اور اسے ’حیرت انگیز تجربہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اسرائیل اور مسلم دنیا کے درمیان تعلقات میں ’بڑی تبدیلی‘ کی ایک مثال ہے۔اس مسئلے پر ایوان کے ساتھ ساتھ پریس کانفرنسز اور عوامی مقامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ ایوان بالا میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے نقطہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کے دورے پر جانے والوں کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ جس این جی او نے اس دورے میں سہولت فراہم کی اس پر پابندی لگائی جائے، انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی وی کا ایک ملازم احمد قریشی بھی اسرائیل گیا تھا، جس کے سبب اٹھنے والے کئی سوالات کے جوابات جاننے ہوں گے کہ وہ کس حکام کی اجازت اور کن سفری دستاویزات کے ساتھ دورے پر گیا تھا۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا بتایا تھا کہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے پاکستان ٹیلی ویژن کے اینکر احمد قریشی کو برطرف کردیا گیا ہے۔

Back to top button