کیا ڈالر نیچے آنے پر گاڑیوں کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں؟

ڈالر کی قیمتوں میں کمی نے پاکستان کی ڈاوں ڈول معیشت کو سہارا دیا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی میں خاظر خواہ کمی آئی ہے جبکہ گاڑیوں کی آسمان سے باتیں کرتیں قیمتیں بھی کم ہو گئی ہیں۔اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے ہنڈا کارز کے سیلز اینڈ مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے سینئر منیجر محمد ممتاز احمد کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت کم ہونے سے یقیناً گاڑیوں کی قیمت میں بھی کمی ہوگی، اگر ڈالر کی قیمت یہی رہتی ہے تو امید کی جا رہی ہے کے رواں ماہ کے اختتام پر یا پھر اگلے ماہ گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوجائیں گی، کچھ لوگوں سے یہ بھی سننے کو ملا ہے کہ قیمتیں کم ہو چکی ہیں، ابھی ایسا کچھ بھی نہیں ہے تاہم آئندہ آنے والے چند ہفتوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے، گاڑیوں کی قیمتوں میں تقریباً 3 سے 4 لاکھ روپے تک کی کمی ہوگی لیکن اس میں ردوبدل بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔پاک وہیل کے شریک بانی سنیل سرفراز منج نے گاڑیوں کی قیمتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال گاڑیوں کی قیمتیں بالکل بھی کم نہیں ہوں گی کیونکہ گاڑیوں کی قیمتیں بڑھی ہی نہیں ہیں۔

گاڑیوں کی قیمتیں ڈالر کے 275 روپے کے ریٹ کے مطابق ہی ایڈجسٹ ہیں اور اس وقت ڈالر کا بھی یہی ریٹ چل رہا ہے تو کس بنیاد پر قیمتیں کم کی جائیں، انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی قیمتیں اس صورت میں کم ہو سکتی ہیں کہ اگر ڈالر کا ریٹ 250 روپے ہو جائے مگر ایسا ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔چیئرمین آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن ایم شہزاد نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈالر کی قیمت میں کمی کے بعد گاڑیوں کی قیمتیں بھی فوری طور پر کم ہونی چاہئیں کیونکہ گزشتہ 16 ماہ میں پاکستان میں لوکل اسمبلرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کیا اور یہ اتنی آسانی سے قیمتیں کم نہیں کریں گے، حکومت کو چاہئے کہ لوکل اسمبلرز پر بھی اسی طرح کریک ڈاؤن کریں جیسے باقی سب پر ہو رہا ہے، اسی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ڈالر کا ریٹ کم ہوا ہے، لوکل اسمبلرز سے سختی برتی جائے گی تبھی وہ گاڑیوں کی قیمتیں کم کریں گے، انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم جی اور لکی دونوں کمپنیوں نے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کرنا شروع کر دی ہے، باقی سب کو بھی فوری طور پر قیمتیں کم کرنی چاہئیں۔واضح رہے کہ ایم جی کی جانب سے گزشتہ روز گاڑی کی قیمت میں 6 لاکھ روپے تک کی کمی کی گئی تھی، ایم شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ تمام اسمبلزر کو فوری طور پر چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں 3 سے 6 لاکھ روپے تک جبکہ بڑی گاڑیوں کی قیمتوں میں 20 لاکھ روپے تک کمی کرنی چاہئے اور یہ کمی حکومت کے سخت اقدامات سے ہی ممکن ہے ورنہ گاڑیوں

نواز شریف کی چوتھی اہم ترین وطن واپسی کی راہیں ہموار

کی قیمتوں میں کمی ہونا مشکل ہے۔

Back to top button