کپتان حکومت کی شہباز کو گرفتار کرنے کی کوششیں تیز

تحریک عدم اعتماد پیش کئے جانے کے اعلان کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے سیاسی کی بجائے انتظامی ہتھکنڈے اپناتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے سب سے مضبوط امیدوار شہباز شریف کو نہ صرف گرفتار کرانے کی لئے کوششیں تیز کردی ہیں بلکہ قومی اسمبلی میں ان کے خلاف ایک تحریک لانے کی تیاری بھی کرلی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق حکومت نے مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے حوالے سے سخت حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس 18 فروری کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں شہباز شریف کے خلاف دائر کردہ کیسوں کی کارروائی براہ راست ٹی وی پر دکھانے کے لیے بھی ایک قرارداد لائے جانے کا امکان ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران متحدہ اپوزیشن کی جانب سے درپیش سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے انتظامی ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں تاہم ان کی کامیابی کا امکان انتہائی کم ہے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ نواز پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کر چکی ہے کہ عمران خان شہباز شریف کی گرفتاری کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنا سکین۔ عمران خان نیب کے ذریعے شہباز شریف کو لمبے عرصے کے لئے اندر ڈالنا چاہتے تھے لیکن دو بار گرفتاری کے باوجود بالآخر شہباز شریف عدالتی حکم پر رہا ہوگئے۔
عدم اعتمادکا شور مچنے کے بعد کپتان کے ایما پر اب ایف آئی اے کے ذریعے انہیں دوبارہ اندر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم قانون کے مطابق ایف آئی اے کے دائر کردہ کیس میں جلد ضمانت ہو جاتی ہے اس لئے کپتان کی پریشانی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
سنیئر صحافی علی وارثی یاد دلواتے ہیں کہ جب پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عمران حکومت کی قربت پر تنقید شروع ہوئی تو یکایک نیب حرکت میں آئی اور شہباز شریف اور خواجہ آصف جیسی آوازوں کو پابندِ سلاسل کر دیا گیا۔ یہ دونوں اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے تھے۔
اسٹیبلشمنٹ کے بغیر تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو سکتی
خان صاحب کی خواہش تھی کہ اپوزیشن اور فوجی اسٹیبلشمنٹ میں دوریاں برقرار رہیں تاکہ ان کی جگہ کوئی اور شخصیت آپشن بن کع سامنے نہ آ سکے۔ ناقدین کامکینا ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کو خاموش کروانے کے لئے عمران حکومت نے ملکی اداروں کو بلا تامل استعمال کیا۔
ایف آئی کے سابق سربراہ بشیر میمن ریکارڈ پر ہیں کہ ان کو بلا کر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کیسز بنانے کے لئے کہا گیا تھا اور ان کے انکار پر وزیر اعظم ان سے ایسے ناراض ہوئے کہ ان کو ریٹائرمنٹ سے کئی ہفتے قبل ہی جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا۔ وہ تمام کیسز جو بشیر میمن کے بقول انہوں نے بنانے سے انکار کیا تھا، بعد ازاں نیب کے ذریعے بنے جن میں اپوزیشن والوں کو قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔
یاد رہے کہ انتخابات سے قبل بھی عمران کے مخالفین عدالتوں سے نااہل ہوئے تو ہی ان کے لئے فتح کی راہ ہموار ہو سکی تھی۔ تب بھی مقتدر حلقوں کے کچھ عہدیداروں کو متحرک کر کے اپوزیشن جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈرز کو ٹکٹ چھوڑنے کے احکامات دیے گے تھے۔ کچھ کو تو دبانے کے لیے مار پیٹ کی شکایتیں بھی سامنے آئیں۔ آر ٹی ایس سسٹم بند کرنا، صحافیوں کو پولنگ سٹیشنز سے نکالنا، پولنگ ایجنٹس کو پولنگ سٹیشنز سے نکالنا، اور پھر الیکشن کے بعد دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخؤاستیں رکوانا، یہ سب انتظامی و عدالتی ہتھکنڈے تھے، سیاسی نہیں۔ انہی کی بدولت عمران خان اقتدار میں آئے۔
اب جبکہ اپوزیشن اتحاد عمران کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کے لئے متحرک ہے تو اخک مرتبہ پھر عمران اسکا سیاسی طریقے سے جواب دینے کی بجائے انتظامی اور انتقامی ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ ایک طرف وزیرِ داخلہ شیخ رشید دعویٰ کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ہمارے ساتھ ہے تو دوسری طرف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف فوری طور پر فردِ جرم عائد کر کے ان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں عمران خان کو چاہیے کہ وہ مخالفین کو سیاسی چالوں سے زیر کرنے کی کوشش کریں بجائے کی انتظامی ہتھکنڈوں سے انہیں دبانے کی کوشش کریں۔ انکا کہنا ہے کہ فسطائی ہتھکنڈوں سے عمران کچھ دیر کے لئے ضرور اپنے سیاسی مخالفین کو دبس سکتے ہیں لیکن عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کا نہ تو یہ طریقہ ہے اور نہ ہی اس کے کامیاب ہونے کا کوئی امکان ہے۔ کپتان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج وہ جو بوئیں گے، کل کو وہی کاٹیں گے۔
