الیکشن کمیشن کاڈوگر کی موجودگی میں الیکشن سے انکار

الیکشن کمیشن نےکرپٹ،جانبداراور قبضہ مافیا کے سرغنہ سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی موجودگی میں الیکشن کروانے سے انکارکر دیا ہے اور  الیکشن کمیشن نے عمرانڈو غلام محمود ڈوگر بارے آئین میں اپنے لیے وضع کردہ اختیارات کی طاقت دکھانے پر غور شروع کر دیاہے۔

 

خیال رہے کہ شہباز شریف کے دور حکومت میں ایک بیوہ خاتون نے اپنے پلاٹ پر قبضے کے حوالے سے اس وقت کے ڈی آئی جی آپریشنز غلام محمود ڈوگر پر سنگین الزامات لگائے تھے۔اعلیٰ سطحی انکوائری رپورٹ میں غلام محمود ڈوگر کو قبضہ مافیا کا سرغنہ قرار دیا گیا تھا جس کے بعد نہ صرف شہباز شریف نےغلام محمود ڈوگر کو عہدے سے ہٹا دیا تھا بلکہ اسے آئندہ کیلئے کسی مرکزی پوسٹنگ کیلئے بھی نااہل قرار دے دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انکوائری میں ایک ریٹائر کرنل کے پلازے پر بھی غلام محمود ڈوگر نے قبضہ کی کوشش کی تھی جبکہ غلام محمود ڈوگر نے اوورسیز پاکستانی کے پلازے پر قبضہ کی بھی کوشش کی تھی،غلام محمود ڈوگر کیخلاف قبضہ مافیا کی سرپرستی کرنے کا بھی الزام ہے۔

 

سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے متنازع اور کرپشن زدہ ماضی کی وجہ سے نگران حکومت نے ایکشن کمیشن کی منظوری سےاسے عہدے سے ہٹا دیا تھا تاہم سپریم کورٹ کے متنازع بنچ نے اس کی بحالی کے احکامات جار کر دئیے ہیں تاہم اب الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے فیصلے کو معطل کرکے کمیشن کے اختیارات کو نقصان پہنچایا گیا تو ڈوگر کی موجودگی میں کمیشن لاہور کے ضمنی انتخاب اور اس کے بعد صوبائی اسمبلی کیلئے ہونے والے الیکشن کو ملتوی کر سکتا ہے کیونکہ ڈوگر کا رویہ پہلے ہی جانبدار ہو چکا ہے۔

 

الیکشن کمیشن کے ایک آفیسر کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت، الیکشن کمیشن اپنے فرائض کی انجام دہی کے معاملے میں ایسے معاملات میں مکمل طور پر خود مختار ہے تاکہ آزاد الیکشن کرائے جا سکیں۔ الیکشن کمیشن کو آرٹیکل (3)218 کے تحت یہ اختیار حاصل ہے۔آرٹیکل میں لکھا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن کا یہ فرض ہوگا کہ وہ انتخاب کا انتظام کرے اور اسے منعقد کرائے اور ایسے انتظامات کرے جو اس امر کے اطمینان کیلئے ضروری ہوں کہ انتخاب ایمانداری، حق اور انصاف کے ساتھ اور قانون کے مطابق منعقد ہوں، اور یہ کہ بدعنوانیوں کا سدباب ہو سکے۔‘‘ لہٰذا، بیوروکریسی میں تقرریاں و تبادلے الیکشن کمیشن کو حاصل اختیارات کے عین مطابق ہیں۔ الیکشن کمیشن کے افسر کے مطابق، اس ضمن میں حتمی فیصلے کیلئے منگل کو کمیشن کا اجلاس بلایا گیا ہے جس میں تمام ارکان موجود ہوں گے۔

 

کمیشن نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے پرویز الٰہی کی حکومت میں ان کا رویہ دیکھتے ہوئے انہیں ٹرانسفر کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ وہ عمران خان کی خواہش کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ یاسمین راشد کے ساتھ لیک ہونے والی حالیہ بات چیت میں ڈوگر کی جانب سے یہ کہنا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کی وجہ سے ڈیوٹی جوائن کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے، الزامات کو تقویت بخشتا ہے۔سپریم کورٹ کا اعتراض تھا کہ صوبے کی نگران انتظامیہ نے چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے زبانی حامی بھرنے کے بعد افسر کو ہٹایا گیا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ افسر کو ہٹانے کیلئے حامی کمیشن کے تمام ارکان نے دی تھی۔ یہ بھی کہا گیا کہ نگران انتظامیہ کے آتے ہی سیکڑوں تقرریاں و تبادلے ہوتے ہیں اور تحریری احکامات زبانی احکامات کے بعد آ جاتے ہیں اور یہ معمول کے انتظامی امور ہیں۔

 

خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد اور سابق سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی گفتگو کی آڈیو لیک ہونے کے بعد پولیس افسر کے حوالے سے تنازع مزید شدت اختیار کر گیاہے۔ منظر عام پر آنے والی لیک آڈیو میں پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد پولیس افسر سے پوچھ رہی ہیں کہ کیا انہیں سپریم کورٹ کی جانب سے بطور سی سی پی او لاہور بحالی کے احکامات موصول ہو گئے ہیں، جس پر آڈیو کلپ کے مطابق پولیس افسر نے جواب دیا کہ انہیں ابھی تک بحالی کے احکامات موصول نہیں ہوئے۔ پنجاب کی سابق وزیر صحت نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ انہوں نے فون کال اس لیے کی تھی تاکہ وہ جان سکیں کہ ’ان کے ارادے کیا ہیں‘، پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عمران خان لاہور پولیس چیف کی بحالی سے متعلق معاملات کے حوالے سے ’تشویش‘ کا شکار ہیں۔غلام محمود ڈوگر نے جواب دیا کہ عدالتی اوقات کے بعد فائلوں پر دستخط ہو جائیں گے اور ان کے لوگ آرڈر موصول کرنے کے لیے وہاں بیٹھے ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کو بتایا کہ غلام محمود ڈوگر کو ابھی تک بحالی کے آرڈر موصول نہیں ہوئے۔منظر عام پر آنے والی گفتگو میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے پولیس افسر سے پوچھا کہ کیا ان کی رات سکون سے گزر جائے گی؟ اس دوران غلام محمود ڈوگر ہچکچائے جس پر پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ انہوں نے شروع میں ہی ایک مشکل سوال کھڑا کر دیا، پولیس افسر نے جواب دیا کہ امید ہے سب ٹھیک ہو جائے گا۔

 

خیال رہے کہ یہ آڈیو کلپ سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد سامنے آئی ہے جس میں نگراں حکومت پنجاب کی جانب سے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلے سے متعلق جاری کردہ نوٹی فکیشن کو معطل کردیا گیا تھا۔واضح رہے کہ پنجاب میں 2021 کے آغاز میں لاہور کے اس وقت کے سی سی پی او عمر شیخ کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ غلام محمود ڈوگر کو سی سی پی اور لاہور تعینات کیا گیا۔

 

گذشہ سال ستمبر میں جب مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنماؤں مریم اورنگزیب اور جاوید لطیف کے خلاف لاہور کے ایک تھانہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تو اگلے ہی روز وفاقی حکومت نے سی سی پی او لاہور کو واپس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے تاہم پنجاب حکومت نے انھیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔اس کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں غلام محمود ڈوگر کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی سے گلے ملتے دیکھا گیا جس میں پرویز الٰہی ان کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں اور یہ کہ انھیں کہیں نہیں جانے دیا جائے گا۔تاہم اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے غلام محمود ڈوگر کو معطل کیا تو انھوں نے پہلے لاہور ہائی کورٹ اور پھر فیڈرل سروس ٹریبونل سے رجوع کیا۔ان کا کیس سپریم کورٹ تک پہنچا جہاں ان کی عہدے پر بحالی کے احکامات ہوئے تاہم پنجاب میں نگران حکومت کی آمد کے بعد ایک بار پھر ان کو بطور سی سی پی او لاہور ہٹا دیا گیا۔ تاہم سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پنجاب کی نگران حکومت کے احکامات کو معطل کرتے ہوئے ان کو بطور سی سی پی او کام جاری رکھنے کی ہدایت کی اور ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ میں پولیس افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا معاملہ پہلے ہی پانچ رکنی بینچ سن رہا ہے اور غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کا کیس بھی پانچ رکنی بینچ سنےگا۔‘

لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

Back to top button