نئے صوبوں کی مخالفت پر اسٹیبلشمنٹ PPP سے ناراض

اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ملک میں نئے صوبے بنانے کی کوششوں کو سندھ اسمبلی کی جانب سے سندھ کی تقسیم کے خلاف منظور کی جانے والی قرارداد نے بڑا دھچکا پہنچا دیا ہے، جس پر ’’بھائی لوگوں‘‘ کی جانب سے سخت ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی واضح مزاحمت کے بعد نئے صوبوں کے قیام کی آئینی پیش رفت فی الحال سیاسی طور پر مشکل دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ پارلیمان میں کسی بھی اہم آئینی ترمیم کے لیے پیپلزپارٹی کی حمایت کو فیصلہ کن اہمیت حاصل ہے۔

اگرچہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ پہلے بھی سامنے آتا رہا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں اس معاملے نے غیر معمولی سیاسی اہمیت اختیار کرلی ہے۔ تاہم سندھ اسمبلی کی قرارداد نے واضح کر دیا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ کی تقسیم یا صوبے کی موجودہ جغرافیائی حیثیت میں تبدیلی کے کسی منصوبے کی حمایت کے لیے فی الحال تیار نہیں۔ اس صورتحال میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی یاد رہے کہ راستہ مزید دشوار ہوگیا ہے۔ آئین میں صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی رضامندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے سندھ اسمبلی کی قرارداد کو محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ نئے صوبوں کی بحث میں ایک اہم آئینی اور سیاسی رکاوٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے اس معاملے پر واضح پوزیشن اختیار کیے جانے کے بعد وفاقی حکومت کے لیے بھی آگے بڑھنا آسان نہیں ہوگا۔

حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے بھی اس معاملے پر فی الحال محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر پارٹی کے اندر مشاورت جاری ہے اور مسلم لیگ ن اپنا باضابطہ مؤقف پارلیمان میں پیش کرے گی۔ ان کے مطابق حکومت یا پارٹی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے انفرادی طور پر دی جانے والی آراء کو مسلم لیگ ن کا حتمی پالیسی مؤقف قرار نہیں دیا جاسکتا۔
نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ اب ریفرنڈم کا آپشن بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث آنے لگا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر براہ راست آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کا قیام سیاسی طور پر ممکن نہ ہو تو عوام سے براہ راست رائے لینے کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ تاہم آئین حکومت کو اپنی مرضی سے کسی بھی وقت کسی بھی معاملے پر ریفرنڈم کرانے کا اختیار نہیں دیتا بلکہ اس کے لیے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس اور آئینی طریقہ کار کی تکمیل ضروری ہے۔

یہاں اصل سوال پارلیمان کی عددی قوت کا پیدا ہوتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پیپلزپارٹی کی قیادت نئے صوبوں پر حکومت کا ساتھ نہیں دیتی تو یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا حکمران اتحاد تنہا مشترکہ اجلاس میں ریفرنڈم کی منظوری حاصل کرسکتا ہے۔ سیاسی اعتبار سے یہ کوئی آسان مرحلہ دکھائی نہیں دیتا۔ تحریک انصاف کی حمایت ایک ممکنہ راستہ ہوسکتی ہے، لیکن موجودہ سیاسی کشیدگی کے ماحول میں یہ بھی واضح نہیں کہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ اس معاملے پر کسی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ بننے پر آمادہ ہوگی یا نہیں۔ اسی طرح بعض سیاسی حلقوں میں کسی ممکنہ فارورڈ بلاک کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں، تاہم ابھی تک ایسا کوئی واضح سیاسی دھڑا سامنے نہیں آیا جو نئے صوبوں کے قیام یا ریفرنڈم کے معاملے پر حکومت کو مطلوبہ عددی برتری فراہم کرسکے۔ اس لیے فی الحال ریفرنڈم کا معاملہ عملی اقدام سے زیادہ سیاسی امکانات اور قیاس آرائیوں کے مرحلے میں دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان کشیدگی میں کمی نے بھی صورتحال کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ نون لیگی قیادت سے مذاکرات کے بعد پیپلزپارٹی نے قانون سازی کے معاملات میں حکومت کے ساتھ تعاون سے متعلق اپنا بائیکاٹ ختم کرکے پارلیمان میں حکومت کے ساتھ چلنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس پس منظر میں یہ تاثر بھی موجود ہے کہ پیپلزپارٹی فی الحال کسی ایسے معاملے کو شدت اختیار نہیں کرنے دینا چاہتی جو وفاقی حکومت کے ساتھ اس کے تعلقات کو دوبارہ بڑے سیاسی بحران میں تبدیل کردے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کا ستمبر سے آگے بڑھ جانا بھی نئے صوبوں کی بحث کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں ہیں کہ اکتوبر میں پارلیمان کے اجلاس بلائے جانے کی صورت میں اس معاملے پر باقاعدہ بحث ہوسکتی ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نئے صوبوں کے حامی عناصر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے ریفرنڈم کی منظوری کا راستہ نکالنے کی کوشش کرسکتے ہیں، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ایسی کوئی باضابطہ حکومتی تجویز زیر غور ہے یا نہیں۔ ریفرنڈم کی صورت میں عوامی رائے کے ممکنہ نتائج بھی سیاسی بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔

بعض حلقوں کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں شہری انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرسکتے ہیں اور پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی نئے انتظامی یونٹس کے مطالبے کو عوامی پذیرائی مل سکتی ہے۔ شہری سندھ میں بھی سندھ کی تقسیم کے حق میں ووٹ آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم دیہی سندھ کے بارے میں یہ عمومی تاثر درست نہیں کہ وہاں تمام طبقات نئے انتظامی بندوبست کے مخالف ہیں؛ مختلف علاقوں اور طبقات میں اس کے حامی بھی موجود ہیں۔
یہ تجویز بھی سامنے آ رہی ہے کہ اگر کبھی ریفرنڈم کرایا جائے تو ہر صوبے کا نتیجہ الگ ظاہر کیا جائے تاکہ ملک کے مختلف صوبوں کے عوام کی رائے واضح طور پر سامنے آسکے۔ تاہم اس کے ساتھ ریفرنڈم کے سوال، انتخابی عمل، شفافیت اور نتائج کی سیاسی قبولیت جیسے بنیادی سوالات بھی پیدا ہوں گے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ریفرنڈم کے حوالے سے ماضی کے تجربات موجود ہیں، اس لیے کسی جمہوری حکومت کی جانب سے اتنے بڑے آئینی و انتظامی مسئلے پر ریفرنڈم کرانا خود ایک بڑا سیاسی امتحان ہوگا۔

سب سے اہم آئینی سوال یہ ہے کہ اگر ریفرنڈم میں عوام نئے صوبوں کے حق میں فیصلہ دے دیں تو کیا اس کے نتیجے میں نئے صوبے خود بخود وجود میں آجائیں گے۔ قانعنی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ آئینی ڈھانچے میں ایسی کوئی واضح گنجائش نظر نہیں آتی کہ ریفرنڈم کا نتیجہ پارلیمان کے آئینی اختیار کو ختم کردے۔ چنانچہ عوامی حمایت سامنے آنے کے باوجود نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کا مرحلہ ضروری رہے گا، البتہ ایک واضح عوامی مینڈیٹ سیاسی جماعتوں پر نئے صوبوں کے معاملے میں اپنا مؤقف تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ضرور بڑھا سکتا ہے۔ یوں سندھ اسمبلی کی قرارداد نے اس بحث کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ کردیا ہے اور اب نئے صوبوں کا معاملہ آئینی ضرورت، سیاسی مفادات، پارلیمانی عددی طاقت اور عوامی رائے کے درمیان ایک بڑے سیاسی معرکے کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

Back to top button