بنگلادیش: شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کے 7 رہنماؤں کو سزائے موت

 

 

 

بنگلادیش میں شیخ حسینہ واجد کی پارٹی عوامی لیگ کے 7 رہنماؤں کو سزائے موت سنادی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق ڈھاکہ میں قائم 3 رکنی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل نے جسٹس نذر الاسلام چوہدری کی سربراہی میں 2024 کے پرتشدد واقعات پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے 7 سرکردہ معاونین کو سزائے موت کی سزا سنادی ہے۔ یہ تمام افراد فی الوقت مفرور ہیں اور بھارت اور امریکا میں روپوش ہیں۔

سزائے موت پانے والوں میں سابق نائب وزیر اطلاعات محمد علی عرفات، عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عبیدالقادر، جوائنٹ جنرل سیکریٹری اے ایف ایم بہاؤالدین نسیم، یوتھ ونگ کے چیئرمین شیخ فضل شمس پراش اور جنرل سیکریٹری معین الدین حسین نکل، سٹوڈنٹ ونگ کے صدر صدام حسین اور جنرل سیکریٹری شیخ ولی آصف عنان شامل ہیں۔

ایران کی شرائط پوری ہونے تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے: محسن رضائی

ٹریبیونل نے نسیم، عبیدالقادر، عرفات اور پراش کے نصف اثاثے بحق سرکار ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے،جنہیں جولائی کی تحریک کے دوران جاں بحق اور زخمی ہونےوالے متاثرین کے خاندانوں میں بطور ہرجانہ تقسیم کیاجائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ نومبر میں اسی ٹریبیونل نے شیخ حسینہ کو بھی 2024 کے عوامی احتجاج کو کچلنے کےلیے کی جانےوالی خونریز کارروائیوں اور انسانیت کےخلاف جرائم پر سزائےموت سنائی تھی۔ اقوام متحدہ  کے اعدادوشمار کےمطابق حسینہ واجد کی سکیورٹی فورسز اور عوامی لیگ کے کارندوں کے تشدد سے کم از کم 1400 افراد جاں بحق جب کہ ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

سابق وزیر اعظم بنگلادیش شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں،تاہم انہوں نے رواں سال دسمبر میں بنگلا دیش واپس آنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ 2 ٹریبیونلز کی جانب سے اب تک سنائےگئے 7 فیصلوں میں 68 ملزمان کو سزا سنائی جاچکی ہے،جن میں سے 22 کو سزائے موت دی گئی ہے۔ ملزمان میں سے 18 اب بھی مفرور ہیں جب کہ 4 پولیس کی تحویل میں ہیں۔

 

Back to top button