چیف جسٹس گلزار کے دور میں ججوں کو بھی انصاف نہ ملا

دو فروری 2022 کو ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس گلزار احمد کے دور میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے دو سینئر ججوں جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس وقار احمد سیٹھ کو انصاف نہ مل سکا اور ان کی دائر کردہ پٹیشنز پر فیصلہ نہ ہو پایا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی جبکہ وقار احمد سیٹھ نے اپنی بجائے جونیئر ججوں کو سپریم کورٹ بھجوانے کو چیلنج کیا تھا۔

تاہم دونوں کیسز جسٹس گلزار احمد کے دور میں لٹکے رہے چونکہ اسٹیبلشمنٹ شوکت عزیز صدیقی اور وقار احمد سیٹھ سے نالاں تھی چنانچہ ناقدین کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد کو عدالتی تاریخ میں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جائے گا اور انکا نام بھی جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ جیسوں کے ساتھ لیا جائے گا۔

چیف جسٹس گلزار احمد اپنے عہدے کی مدت پوری ہونے پر یکم فروری کو ریٹائرڈ ہو گے۔وہ دس برس سے زائد عرصہ سپریم کورٹ کے جسٹس رہے جس میں سے دو سال ایک ماہ تک بطور چیف جسٹس فرائض سرانجام دیتے رہے۔دو فروری 1957 کو کراچی میں پیدا ہونے والے جسٹس گلزار احمد نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم بھی کراچی میں حاصل کی۔

نومبر 2011 میں جب جسٹس گلزار احمد کو سندھ ہائیکورٹ سے ترقی دے کر سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تو تب جسٹس افتخار محمد چودھری چیف جسٹس تھے۔ اعلیٰ عدلیہ میں وکالت کرنے والے کئی سینیئر ایڈووکیٹس کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد کو پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اچھے لفظوں سے یاد نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ جسٹس گلزار نے بھی اپنے دور میں اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کی نگہبانی کی لیکن آخری دنوں میں وکلا برادری کی جانب سے تنقید کا نشانہ بننے کے بعد تجاوزات کے کھاتے میں چند ایسے فیصلے بھی دیے جو اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آئے۔ تاہم اپنے دور میں اہم مواقع پر گلزار احمد جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے انکاری رہے۔

ناقدین کہتے ہیں کہ جسٹس گلزار کو کراچی میں تجاوزات کے خاتمے کی مہم چلانے اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس وقار احمد سیٹھ کو انصاف نہ دینے کے لیے یاد رکھا جائے گا۔دسمبر 2019 میں بطور چیف جسٹس حلف اٹھانے والے گلزار احمد کے دو سالہ دور میں کرونا کے باعث عدالتی کارروائی میں کسی حد تک تعطل آیا اور اس دوران مقدمات کی آن لائن سماعت کی تجویز پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ گلزار احمد نے جس وقت عہدہ سنبھالا سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 42 ہزار تھی جو اب 53 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔

جسٹس گلزار احمد کے دور کا ایک اور بڑا واقعہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر کردہ صدارتی ریفرنس تھا۔ تاہم جسٹس گلزار اس کیس میں کسی بھی بینچ کا حصہ نہیں بنے اور بالآخر قاضی فائز عیسی اس ریفرنس سے بری ہو گے۔ اپنے آخری دنوں میں جسٹس گلزار نے پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے کے ازخود نوٹس میں وزیراعظم عمران خان کو عدالت طلب کیا اور مولا جٹ والی بڑھکیں بھی لگائیں لیکن عملی طور پر کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی کوئی فیصلہ دیا۔ ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ گلزار عدالتی کارروائی کے دوران ریمارکس تو بڑے سخت دیتے تھے لیکن سخت فیصلے دینے سے سختی سے پرہیز کرتے رہے تاکہ کسی تنازعے میں نہ الجھ جائیں۔

سینیئر وکیل عابد ساقی کہتے ہیں کہ ’جسٹس گلزار ایک شریف النفس انسان ہیں لیکن وہ عدلیہ میں کوئی شاندار روایات چھوڑ کر نہیں جا رہے۔ چیف جسٹس گلزار کا دور سندھ حکومت بارے مختلف مقدمات میں سخت آبزرویشنز کے لیے بھی یاد رکھا جائے گا تاہم انہوں نے پنجاب حکومت کے حوالے سے کبھی سخت رویہ نہیں اپنایا تھا۔

عمران خان حکومت مافیاز کی حکومت کیوں قرار پائی

جسٹس گلزار احمد نے کئی اہم مقدمات کے فیصلے دیے جن سے اسٹیبلشمنٹ کا مفاد وابستہ تھا۔ گلزار  20 اپریل 2017 کو پانامہ پیپرز کیس میں نواز شریف کے خلاف درخواستوں پر پہلا فیصلہ دینے والے ججوں میں بھی شامل تھے۔ نواز شریف کے خلاف عمران خان اور دیگر کی درخواستوں پر انہوں نے ابتدائی مرحلے میں ہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ہمراہ نااہلی کا حکم سنا دیا تھا جبکہ دیگر تین ججز ن معاملہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کو بھجوا دیا تھا۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے چیف جسٹس گلزار احمد کو ان کے اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے حوالے سے دیے گئے فیصلے پر خراج تحسین پیش کیا ہے تاہم وکلا کی ایک بڑی تعداد گلزار دور میں مقدمات کی سماعت میں تاخیر کو غیر احسن روایت قرار دیتی ہے۔

سینئر وکیل رہنما حامد خان ایک سے زائد بار مختلف تقاریب میں یہ شکوہ کرتے سنے گئے کہ چیف جسٹس گلزار احمد نے درجنوں ایسے مقدمات لٹکائے رکھے جو کہ فوری فیصلے کے متقاضی تھے۔ ان میں ایک کیس جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کا جبکہ دوسرا جسٹس وقار احمد سیٹھ کا تھا جو انصاف کے انتظار میں اگلے جہاں رخصت ہو گے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی اپیل اب بھی زیر سماعت ہے

۔ جسٹس گلزار کی ستائش کرنے والے کہتے ہیں کہ ان کے دور میں سپریم کورٹ میں پہلی بار خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کا تقرر کیا گیا جو ایک تاریخی قدم تھا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ گلزار نے جسٹس عائشہ کی تقرری بھی اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لئے کی اور ایسا کرتے ہوئے طے شدہ سنیارٹی اصول کی بھی خلاف ورزی کی لہذا عدالتی تاریخ میں انہیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جائے گا اور ان کا نام بھی جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ساتھ لیا جائے گا۔

Back to top button