مشعال یوسفزئی کی بڑی بغاوت

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا
پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسفزئی نے بڑے کم وقت میں پارٹی کے اندر اپنی جگہ بنائی ہے۔ انہوں نے جس طرح خود کو سیاسی کلچر کے ساتھ ایڈجسٹ کیا ہے وہ یقینا حیران کن ہے۔ یہاں برسوں گزر جاتے ہیں لیکن آپ سیاسی طور پر وہ سفر طے نہیں کر سکتے جو مشعال نے بہت کم وقت میں طے کیا ہے۔ جب آپ نوجوان ہو کر کسی پارٹی میں اوپر آتے ہیں تو پارٹی کے اندر آپ کو بہت ساری مشکلات اور حسد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر لوگ دوسروں کو اپنے سے آگے نکلتا دیکھ کر برداشت نہیں کر پاتے‘ لہٰذا سب مل کر اسے گرانے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک کامیاب شخص کے دشمنوں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ تاہم مشعال یوسفزئی اس حوالے سے خوش قسمت رہی ہیں کہ ایک تو انہیں اچھا بریک تھرو ملا‘ جب سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ عمران خان کا وکیل کون ہے؟ وہاں شاید کوئی پارٹی کا بڑا وکیل موجود نہ تھا‘ اس پر ایک نوجوان پشتون وکیل لڑکی آگے بڑھی اور بڑے اعتماد سے کہا کہ میں خان صاحب کی وکیل ہوں۔ اس وقت یہ سب کچھ لائیو چل رہا تھا‘ لہٰذا ان کے اس اعتماد نے سب کو متاثر کیا اور یوں وہ راتوں رات پورے ملک میں بالعموم اور پی ٹی آئی میں بالخصوص مشہور ہو گئیں۔ اُن دنوں قاضی فائز عیسیٰ کی کورٹ سے بڑے بڑے وکیل ان کی ڈانٹ ڈپٹ یا سختی کی وجہ سے گریز کرتے تھے۔ وہ سب کے سامنے وکیلوں کی جو عزت افزائی کرتے تھے‘ وہ پوری قوم لائیو دیکھتی تھی۔ اکثر بڑے بڑے وکیلوں کی قابلیت کا پردہ اس طرح چاک ہوا۔ لیکن مشعال یوسفزئی نے اعتماد کے ساتھ قاضی فائز عیسیٰ کا سامنا کیا اور یوں پی ٹی آئی کی وکلا ٹیم کا حصہ بن گئیں۔ انہیں اس وقت بڑا بریک تھرو ملا جب بشریٰ بیگم نے شاید ان کا اعتماد اور قابلیت دیکھتے ہوئے انہیں اپنا ترجمان مقرر کیا اور اس طرح پارٹی میں ان کی اہمیت اور مقام یکدم اوپر چلا گیا۔ دوسری طرف دشمنوں اور مخالفوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اسی دوران علیمہ خان نے عمران خان اور بشریٰ بیگم کے جیل جانے سے پیدا ہونے والے خلا کر پُر کرنے کی کوشش کی اور اور خود کو فرنٹ پر لائیں۔ دھیرے دھیرے انہوں نے کامیابی سے پارٹی لیڈرشپ کو یہ باور کرا دیا کہ پارٹی اب وہ چلائیں گی‘ چاہے سامنے بیرسٹر گوہر ہوں یا علی امین گنڈاپور‘ سب ان کو جوابدہ ہوں گے۔ پارٹی کا سوشل میڈیا سیل بھی علیمہ خان کے قابو میں آگیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب عارف علوی صدرِ پاکستان تھے اور الیکشن کی تاریخ کا معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا تھا اس وقت علیمہ خان نے میڈیا کے سامنے صدر علوی کی کلاس لی کہ انہوں نے الیکشن کی تاریخ پر سٹینڈ کیوں نہیں لیا۔ اس دوران علیمہ خان نے پارٹی کے اندر عہدیداروں کی تقرریوں یا ان کی معزولی میں بھی کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ علیمہ خان کی یہ خوبی ہے کہ وہ جو سوچتی ہیں‘ کیمرے کے سامنے وہی کہہ دیتی ہیں چاہے کسی کو برا لگے یا اچھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سیاسی مزاج کی نہیں‘ لہٰذا بولنے سے پہلے فلٹر نہیں لگاتیں اور کھری کھری باتیں کہہ دیتی ہیں۔ لیکن اس کا پارٹی کو نقصان ہوا اور پارٹی کے اندر تقسیم گہری ہوتی چلی گئی۔دوسری طرف سلمان اکرم راجہ کو پارٹی کے جنرل سیکرٹری کا عہدہ ملا تو باقی بڑے وکیل دور ہونا شروع ہو گئے کیونکہ وکیلوں کی اپنی سیاست ہوتی ہے۔ سلمان اکرم راجہ قابل مگر سخت مزاج کے وکیل ہیں۔ انہیں کسی نے پارٹی کے اندر زیادہ سیریس نہیں لیا‘ لہٰذا بیرسٹر گوہر‘ علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ میں تلخیاں بڑھنے لگیں۔ اس دوران پی ٹی آئی پنجاب اور پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے درمیان بھی فاصلے بڑھنے لگے اور دونوں کیمپ کی ایک دوسرے کے ساتھ بول چال بند ہو گئی اور پھر میڈیا کے ذریعے فائر ورک شروع ہوا۔ پہلے شیر افضل مروت کو ٹارگٹ کیا گیا‘ انہوں نے سخت ردِعمل دیا تو بات بڑھتی چلی گئی۔ پھر علی امین گنڈاپور نشانہ بنے۔ خیبر پختونخوا کے ایم این ایز علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ کی اتھارٹی کو ماننے کو تیار نہ تھے‘ شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ دن پہلے جنید اکبر نے بھی علیمہ خان کے چند ریمارکس پر سخت ردِعمل دیا۔ اگرچہ علی محمد خان نے ظرف کا مظاہرہ کیا اور جب سپریم کورٹ کے سامنے میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہیں مائیک کے آگے سے ہٹایا گیا تو وہ خاموشی سے سائیڈ پر ہو گئے اور کوئی بات نہیں کی۔ لیکن یہ لڑائی اُس وقت کافی بڑھ گئی جب علیمہ خان نے مشعال یوسفزئی پر کچھ تنقید کی اور مشعال یوسفزئی نے جوابی فائر کھول دیا۔ بشریٰ بی بی نے مشعال یوسفزئی کو علیمہ خان کے سامنے کھڑا کیا تھا۔ مسئلہ اس وقت بڑھا جب شیر افضل مروت اور دیگر نے علیمہ خان کے بیٹے کو دی گئی سرکاری رعایتوں پر سوال اٹھایا۔ علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کی لڑائی بڑھتی گئی اور بشریٰ بی بی کیمپ کو اس وقت بڑی کامیابی ملی جب جیل سے عمران خان نے مشعال یوسفزئی کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا اعلان کیا‘ جو اُن کے حاسدین اور مخالفین پر ایک بم بن کر گرا۔ جب علیمہ خان کو میڈیا نے یہ بتایا تو ان کا ردِعمل دیکھنے کے لائق تھا۔
مشعال یوسفزئی کو ایک بات کا علم ہے کہ پارٹی میں سب سے زیادہ اہمیت بشریٰ بی بی کی ہے لہٰذا وہ پارٹی کے دیگر لوگوں کی خوشامد میں وقت ضائع نہیں کرتیں۔ سیاسی طور پر مشعال یوسفزئی یہ سمجھتی ہیں کہ عمران خان کو ہر صورت باہر آنا چاہیے اور اس کیلئے انہیں سیاسی راستہ لینا ہوگا اور ‘کچھ لو اور کچھ دو‘ پر چلنا ہوگا۔ اب انہوں نے کھل کر کہا ہے کہ اگر عمران خان کی عدالتوں کے ذریعے باعزت رہائی ہو جائے تو پی ٹی آئی نئے صوبوں کی ترمیم میں ووٹ ڈالنے پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیشک دو ہزار صوبے بنا لیں۔ یہ بہت بڑی بات ہے جو مشعال یوسفزئی نے کہی ہے کہ اگر عمران خان کو باعزت راستہ دے کر رہا کیا جاتا ہے توپی ٹی آئی اس کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی کے پُرسرار کردار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کا ساتھ اس طرح نہیں دیا جیسے دینا چاہیے تھا‘ یا جس کیلئے عمران خان نے انہیں اپوزیشن لیڈر بنایا تھا۔ مشعال یوسفزئی کی اچکزئی اور دیگر پارٹی لیڈروں کے خلاف دھواں دھار گفتگو نے پی ٹی آئی کے حامیوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خصوصاً اچکزئی اور سہیل آفریدی کے کردار پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بیرسٹر گوہر نے مشعال یوسفزئی کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں نے اس پر ٹویٹ کیا کہ میں حیران ہوں کہ سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کون سی غلط بات کی ہے۔ لانگ مارچ میں جو بلنڈرز مارے گئے‘ محض ان کو ہائی لائٹ کیا ہے۔ نوٹس تو اچکزئی کو جاری ہونا چاہیے تھا کہ انہوں نے کیسے پی ٹی آئی سے اچانک علیحدگی اختیار کر لی اور مذاکرات کا بائیکاٹ کر کے حکومت کی مدد کرتے ہوئے گورنر راج کی راہ ہموار کی‘ اُلٹا اس سینیٹر کو نوٹس جاری ہو رہا ہے جس نے اچکزئی کے سیاسی قد کے رعب میں آئے بغیر‘ اُس معصوم بچے کی طرح سوالات کیے جس نے بادشاہ سلامت کے خوف‘ رعب اور دبدبے کی پروا کیے بغیر بادشاہ کو دیکھ کر کہا تھا کہ وہ تو ننگا ہے۔ کیا بیرسٹر گوہر نے اچکزئی سے پوچھا کہ ان کا اس سارے معاملے میں کیا کردار رہا اور انہوں نے کیسے ہر اہم موقع پر پی ٹی آئی کو نیچے کھینچا۔ وزیراعظم سے مذاکرات سے انکار‘ حکومت پی ٹی آئی مذاکرات میں بیٹھنے سے انکار‘ لانگ مارچ کی منسوخی کے مطالبے کو ماننے سے انکار‘ لانگ مارچ میں شرکت سے انکار۔ مشعال یوسفزئی نے ان سب باتوں پر سوالات اٹھائے تو اسے نوٹس جاری کر دیا۔ بہرحال نتیجہ جو بھی ہو‘ مشعال یوسفزئی نے بہت کم وقت میں وہ سیاسی سفر طے کر لیا ہے جو باقی برسوں میں بھی طے نہیں کر پاتے۔ شاید ان کی سیاسی ”باغیانہ‘‘ گفتگو ہی پارٹی کو اپنی لائن بدلنے اور عمران خان کی رہائی کا کوئی موقع نکالنے کا سبب بنے۔ لیکن سوال وہی ہے‘ کیا عمران خان کا جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا بیرسٹر گوہر اور اچکزئی کو زیادہ سُوٹ کرتا ہے؟
