مسٹر پتلُو اور ہم!

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں کسی بھی واقعے کو دیکھنے، سمجھنے اور اس پر ردعمل دینے کا اپنا ایک مخصوص انداز ہے۔ کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آ جائے، کوئی شخص سوشل میڈیا پر اچانک مقبول ہو جائے یا کسی کی کوئی حرکت لوگوں کی توجہ حاصل کر لے تو ہم سب اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ پھر اس کے حق اور مخالفت میں ایک بحث شروع ہو جاتی ہے، لوگ اپنی اپنی رائے دیتے ہیں، تنقید ہوتی ہے، طنز کے نشتر چلتے ہیں اور کچھ عرصے بعد کوئی نیا تماشا سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن ہم کبھی اس بنیادی سوال پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے کہ آخر ہمارے معاشرے میں یہ سب ہو کیوں رہا ہے اور اس کی اصل وجہ کیا ہے۔ حال ہی میں مسٹر پتلُو کے حوالے سے سامنے آنے والے افسوس ناک واقعے نے ایک مرتبہ پھر ہمیں اسی سوال پہ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ میں ذاتی طور پر اس شخص کو نہیں جانتا۔ اس سے پہلے نہ کبھی اس کا کوئی مواد دیکھا اور نہ ہی اس کے کام سے واقفیت رہی ہے۔ اس کے بارے میں حال ہی میں سنا اور پڑھا۔ اس کی مقبولیت، اس کے مواد یا اس کے کام کے معیار کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر رجب بٹ اور اس نوعیت کے دیگر کردار بھی وقتاً فوقتاً ہماری اجتماعی توجہ کا مرکز بنتے رہتے ہیں۔ میرا سوال کسی ایک شخص کے اچھا یا برا ہونے کے متعلق نہیں۔ نہ ہی میں کسی کے بارے میں فیصلہ صادر کرنا چاہتا ہوں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر یہ لوگ ایسا کیا مواد پیش کر رہے ہیں جسکے باعث لاکھوں لوگ ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں؟ کیا واقعی ان کا تیار کردہ مواد اس قدر اعلیٰ معیار کا ہے کہ لوگ اس کیلئے اتنےبے تاب رہتے ہیں؟ کیا اس میں کوئی ایسی تخلیقی صلاحیت، علمی گہرائی یا تفریح کا کوئی غیر معمولی معیار ہے جو ہمارے معاشرے کی اتنی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے؟ یا پھر ہم بحیثیت معاشرہ اپنی ترجیحات اور دلچسپیوں کے حوالے سے کسی ایسی سمت میں جا رہے ہیں جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے؟ یہاں ایک اور پہلو بھی ہے کہ جب کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو بعض لوگ ان شخصیات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہیں معاشرے کی خرابیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا ہے؟ اگر کسی شخص کا مواد لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں، اس کی ہر حرکت خبر بنتی ہے اور اس کی معمولی سی بات بھی سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کرتی ہے تو اس کی وجہ صرف وہ شخص نہیں بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو اسے یہ اہمیت دیتے ہیں۔ کسی بھی مواد کی مقبولیت کا ایک بڑا پیمانہ اس کے ناظرین کی تعداد ہوتی ہے۔ اگر ہم مسلسل کسی چیز کو دیکھیں گے، اس پر تبصرے کریں گے، اسے دوسروں تک پہنچائیں گے تو بالآخر ہم خود اس کی مقبولیت میں اضافے کا سبب بنیں گے۔ یہ معاملہ صرف ٹک ٹاک یا سوشل میڈیا تک محدود نہیں۔ ہمارے ٹی وی ڈراموں، فلموں اور دیگر تفریحی ذرائع میں بھی یہی رجحان نظر آتاہے۔ اگر کسی ڈرامے میں غیر ضروری سنسنی، بے مقصد تنازعات، سطحی مکالمے یا بے ہودگی ہو اور ہم اسے شوق سے دیکھتے رہیں تو پھر صرف پروڈیوسر، ڈائریکٹر یا اداکار کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں۔ ہم ایسا مواد کیوں دیکھتے ہیں جو بے ہودہ ہوتا ہے؟ اس لیے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری پسند اور ناپسند اس پورے نظام کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری صرف عوام پر ڈال کر بھی ہم بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ ریاست اور حکومت کی بھی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ میں بار بار اس نکتے کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں کہ ہمارے ہاں کردار سازی یا Character Building کا کوئی مؤثر اور سنجیدہ تصور دکھائی نہیں دیتا۔ ہم تعلیم کی بات کرتے ہیں، تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھانے کی بات کرتے ہیں، نصاب میں تبدیلیوں کے دعوے کرتے ہیںلیکن اس بنیادی سوال کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ہم نئی نسل کو کیسا انسان بنانا چاہتے ہیں؟
اس میں کون سی اخلاقی اقدار، کون سا شعور، کون سی سماجی ذمہ داری اور دوسروں کے احترام کا جذبہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے یا روزگار کمانے کا ذریعہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا مقصد ایک باشعور، ذمہ دار اور باکردار شہری کی تشکیل بھی ہونا چاہیے۔ گھر، اسکول، کالج، یونیورسٹی، میڈیا اور ریاست، سب کا اس حوالے سے اپنا کردار ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے ان تمام محاذوں پر کردار سازی کو وہ اہمیت نہیں دی جسکی اسے ضرورت تھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری اجتماعی دلچسپیوں اور ترجیحات میں سنجیدگی، علم، تہذیب اور مثبت سرگرمیوں کی جگہ اکثر سطحی تفریح اور وقتی شہرت نے لے لی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ہر شخص اپنی پسند کے مطابق تفریح کا حق رکھتا ہے۔ کسی کو ٹک ٹاک دیکھنے سے روکا نہیں جا سکتا، نہ ہی ہر مقبول شخصیت کو محض اس لیےبُرا قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس کے چاہنے والے بہت زیادہ ہیں۔تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے بحیثیت معاشرہ اچھے اور معیاری مواد کی حوصلہ افزائی کا کوئی شعوری رویہ اختیار کیا ہے؟ کیا ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کو یہ فرق سمجھا رہے ہیں کہ شہرت اور قابلیت ایک چیز نہیں، مقبولیت اور کردار میں فرق ہے اور ہر وہ شخص جو لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کر لے، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے لیے کوئی قابلِ تقلید مثال بھی ہو؟ اسی طرح ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں اگر کوئی خرابی پیدا ہو رہی ہے تو وہ اُسے روکنے کیلئے اقدامات کرے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا پر نظر رکھے اور ہماری دینی، معاشرتی اور اخلاقی اقدار کا تحفظ کرے۔ مجھے تو بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک باشعور معاشرے کے بجائے ایک ایسے ہجوم میں تبدیل ہو چکے ہیں جسے کسی بھی وقت کوئی تماشا دکھا کر اپنی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے۔ کوئی ڈگڈگی بجائے تو ہم اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنے کی فرصت نہیں کہ ڈگڈگی بجانے والا کون ہے، اس کا مقصد کیا ہے اور ہم اپنا قیمتی وقت کس چیز پر صرف کر رہے ہیں۔ مسٹر پتلُو یا اس نوعیت کے دیگر کردار اس وسیع تر مسئلے کی محض ایک علامت ہیں۔ اصل مسئلہ ہماری اجتماعی سوچ، ہماری ترجیحات اور ہماری سماجی تربیت کا ہے۔ اس لیے کسی ایک شخص کو برا بھلا کہہ کر یا اس کا مذاق اڑا کر ہم اس مسئلے سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا کہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں، کیا پسند کر رہے ہیں اور آنے والی نسل کو کس قسم کا معاشرہ دے کر جا رہے ہیں۔ یہ وقت دوسروں پر انگلی اٹھانے سے زیادہ اپنے اندر جھانکنے کا ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں، کردار سازی کو اہمیت نہ دی اور معیاری علم و تفریح کی حوصلہ افزائی نہ کی تو کل کوئی اور مسٹر پتلُو سامنے ہوگا، کوئی اور نام مقبول ہوگا اور ہم ایک مرتبہ پھر اسی بحث میں الجھے ہوں گے۔ تب بھی شاید ہم اصل مسئلے کو سمجھنے کے بجائے کسی ایک فرد کو قصوروار ٹھہرا رہے ہونگے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی ایک شخص کا نہیں، ہم سب کا المیہ ہے۔ اور اس المیے سے نکلنے کی ذمہ داری بھی ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔
