پراپیگنڈا سیل: کل اور آج

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
وزیراعظم شہبازشریف نے بیانیہ سازی کیلئے ایوان وزیراعظم میں Strategy and communication سیل بنایا تو مجھے ایوب خان کے دورمیں تشکیل دیا گیا ادارہ ’’بیورو آف نیشنل ریسرچ اینڈ کنسٹرکشن‘‘ یاد آگیا۔ جنرل اُمرائو خان جو مشرقی پاکستان کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنائے گئے ،وہ اپنی خود نوشت ’’ایک جرنیل کی سرگزشت ‘‘کے صفحہ نمبر 129پر لکھتے ہیں کہ عوام نے نہ صرف مارشل لا کا خیر مقدم کیا ،بلکہ صوبے بھر میں اس تبدیلی پر خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔لوگ بازاروں میں خوشی کے مارے ناچ رہے تھے۔اور’پاکستان زندہ باد‘کے نعرے لگا رہے تھے۔ان حالات میں فوجی دستوں کو متعین کرنا حماقت ہوتا۔8,9اکتوبر کی صبح کومیں خود حلیہ بدل کر شہر میں گھومتا رہا ،تاکہ عوام کا ردعمل معلوم کرسکوں۔عوام نے مارشل لا کوسیاستدانوں سے تصور کیا۔مغربی میڈیا نے توایوب خان کی مدح سرائی کی ہی ،پاکستانی میڈیا بھی فوجی پیچھے نہ رہا۔’پاکستان ٹائمز‘ روزنامہ امروز اور بنگالی اخبارات کے سوا سب اخبارات ایوب خان کی تعریف کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کرتے رہے۔ مقبول ترین انگریزی اخبار ’’ڈان‘‘ نے A Sane Revolutionیعنی ذی فہم انقلاب کے عنوان سے اداریہ لکھ کر مارشل لا کی حمایت کی۔27اکتوبر کو جب میجر جنرل اسکندر مرزا کی چھٹی کروادی گئی اور جنرل ایوب خان نے صدارت کے منصب پر بھی قبضہ کرلیا تو ’’ڈان‘‘اخبار نے ایک بار پھراس فوجی انقلاب کو ملکی مفاد میں اُٹھایا گیا بہترین قدم قراردیا ۔ فوجی انقلاب کی آمدپر بیشتر سیاستدانوں نے یا تو چپ سادھ لی یا پھر چڑھتے سورج کو سلامی پیش کرتے دکھائی دیئے۔یہاں تک کہ محترمہ فاطمہ جناح جنہوں نے بعد ازاں ایوب کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا ،وہ بھی مارشل لا کی تعریف کرتی دکھائی دیں۔لارنس زائرنگ نے اپنی کتاب میں محترمہ کا بیان نقل کیا ہے ۔جنہوں نے فوجی انقلاب کوخوش آمدید نہ کہا،انہیں نشان عبرت بنادیا گیا۔مارشل لا نافذ ہونے کے ایک ماہ بعد ہی ہفت روزہ لیل و نہار کے مدیر سید سبط حسن،روزنامہ امروز کے ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی اورپاکستان ٹائمز کےچیف ایڈیٹر فیض احمد فیض کو سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیاگیا۔ممتاز سیاستدان میاں افتخارالدین جو قیام پاکستان کے وقت مسلم لیگ کے صوبائی صدر تھے اور بعد ازاں دستور ساز اسمبلی کے رُکن بھی رہے ،ان کے زیر انتظام چل رہے پروگریسو پیپرز گروپ کے اخبارات مارشل لا حکام کی آنکھوں میں کانٹوں کی طرح کھٹک رہے تھے۔ پروگریسو پیپرز تب پاکستان کا سب سے بڑا شاعتی ادارہ تھاجوانگریزی اخبار ’’پاکستان ٹائمز‘‘کے علاوہ اردو اخبار روزنامہ امروز اور ادبی جریدہ ہفت روزہ لیل و نہار شائع کیا کرتا تھا۔ایوب راج نے اظہار رائے کی آزادی کا گلہ گھونٹنے کیلئے 18اپریل 1959ء کو ایک اور فوجی انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ کیا۔مظہر علی خان جو فیض احمد فیض کے بعد پاکستان ٹائمز کی ادارت سنبھالے ہوئے تھے ،ان کے فرزند طارق علی کے حوالے سے ضمیر نیازی کی کتاب ’’پریس ان چینز‘‘کے صفحہ نمبر 79پر جو روداد بیان کی گئی ہے اس کے مطابق اکتوبر1958ء میں جنرل ایوب خان نے عنان اقتدار سنبھالی ۔جلد ہی اسکے مشیروں نے بتانا شروع کیا کہ باقی اخباروں نے تو مارشل لا کا خیر مقدم کرنےکیلئے اداریئے لکھے مگر پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر مظہر علی خان نے لکھا کہ مرکزی قائد دھرتی کو بنجر کرنے پر اُتر آیا ہے۔اس موقع پربریگیڈیئر ایف آر خان نے ایوب خان کیلئے وہی کردار ادا کیا جو ہٹلر کے پراپیگنڈا ماسٹر گوئبلز سے منسوب کیا جاتا ہے،وہ میڈیا کو تسخیر کرنے کے اس فوجی آپریشن کی نگرانی کررہے تھے جبکہ ان کی معاونت کررہے تھے معروف سول سرونٹ قدرت اللہ شہاب۔ایوب راج کے اس جابرانہ اقدام کے خلاف بات کرنا تو درکنار میڈیا مالکان ڈکٹیٹر کی مدح سرائی میں مشغول ہوگئے۔’’ٹائمز آف کراچی ‘‘کے ایڈیٹر زیڈ اے سلہری نے اخبار کے صفحہ اول پر اپنے دستخط کے ساتھ اداریہ لکھا جس کا عنوان تھا ’’Freedom Restored‘‘ ۔ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین بھی پیچھے نہ رہے،انہوں نے انقلابی حکومت کی اس کامیابی پر لکھا’’یہ لمحہ اس بات کا متقاضی ہے کہ باقی قومی میڈیا پاکستان ٹائمزاوراس سے جڑے دیگر اخبارات کے نظریاتی طور پر دوبارہ جنم لینےپرخوشی سے ناچے گائے۔اب وہ (یعنی پروگریسو پیپرز والے)اپنے ہی گھر میں اجنبی نہیں رہیں گے۔ہم انہیں ’’دور دراز مداروں‘‘اور’’خلائی مخلوق کے اُفق‘‘ سے نجات پانے پرمبارکباد دیتے ہیں اور نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہیں۔ایوب خان کے دور میں مصنوعی ترقی کاڈھول پیٹنے کیلئے پراپیگنڈا سیل بنایا گیا اور صحافیوں کو رشوت دینے کی روایت بھی ڈالی گئی۔شجاع نواز اپنی کتاب ’’کراسڈ سوارڈز‘‘کے صفحہ نمبر73 پرلکھتے ہیں کہ حکومتی پراپیگنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے ایوب خان نے ایک سخن ور بریگیڈیئر FRخان کی سربراہی میں ’’بیورو آف نیشنل ریسرچ اینڈ کنسٹرکشن‘‘کے نام سے سیل بنایا۔یہ دراصل ایوان صدر میں وزارت اطلاعات کا نقیب ادارہ تھا جسے بعد ازاں وزارت اطلاعات میں تبدیل کرکے الطاف گوہر کو اس کا سیکریٹر ی بنادیا گیا۔بیورو آف نیشنل ریسرچ اینڈ کنسٹرکشن کی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ان جانے پہچانے صحافیوں کی خدمات خفیہ طور پر حاصل کرے جو اس بات پر آمادہ ہوں کہ ان کے نام سے قومی اخبارات میں حکومت کے حق میں مضامین شائع کروائے جا سکیں ۔ایک سول سرونٹ جنہیں تب اس بیورو میں تعینات کیا گیا تھا ،ان کے مطابق تب ایک بڑے صحافی کو ان کا نام استعمال کرنے کے عوض 1000روپے سے 2000 روپے ماہانہ دیئے جاتے تھے جو اس دور میں بہت شاہانہ معاوضہ تھا۔لیکن ان سب اقدامات کے باوجود بیانیہ سازی کے مقاصد حاصل نہ کئے جاسکے کیونکہ آگ کو کاغذ سے نہیں ڈھانپ سکتے۔

 

Back to top button