جنرل فیض کا قریبی افسر ارشد شریف قتل میں مشکوک

کینیا میں پراسرار حالات میں مارے جانے والے سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کرنے والے پاکستانی حکام نے دبئی میں تعینات ایک آئی ایس آئی اہلکار میجر ارسلان ستی کو مشکوک قرار دے دیا ہے، جس نے مبینہ طور پر ارشد شریف کو دبئی چھوڑ کر کینیا جانے کی ترغیب دی تھی۔

یاد رہے کہ میجر ارسلان ستی ماضی میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے کافی قریب رہے ہیں اور ان کی دبئی میں تعیناتی بھی فیض حمید نے کروائی تھی۔ حال ہی میں وزیر اعظم ہاؤس میں شہباز شریف کی گفتگو ریکارڈ کر کے اسے لیک کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے ان کے سابق اے ڈی سی میجر عبدالرحمن نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہیں وزیراعظم ہاؤس کی جاسوسی کے لیے فیض حمید نے کہا تھا، جن کے ساتھ انہوں نے ماضی میں بطور اے ڈی سی کام کیا ہے۔

آئی ایس آئی کی حراست میں تفتیش کے دوران میجر عبدالرحمن نے موجودہ حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث جن لوگوں کی نشاندہی کی تھی ان میں میجر ارسلان ستی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میجر عبدالرحمن نے جس دوسرے شخص کا نام بتایا وہ سعودی عرب میں تعینات رحمت اللہ تھا جسے پاکستان واپس بلا کر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ رحمت اللہ وہ شخص ہے جس نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ماضی میں جنرل فیض حمید کے ایما پر بشری ٰبی بی کا پیر بن کر ان کی جاسوسی کرتا رہا ہے۔ رحمت اللہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسے بشریٰ کا پیر بننے کا ٹاسک فیض حمید نے دیا تھا۔ ایسے میں اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مقتول صحافی ارشد شریف کو دبئی سے کینیا بھجوانے کا ٹاسک میجر ارسلان ستی کے ذمے فیض حمید نے لگایا ہوا۔

مزید تفصیلات کیلئے ویڈیو دیکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مونس الٰہی کے فرنٹ مین کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟

Back to top button