غداری کرنے والے فوجی جرنیل کا معصوم ہونے پر اصرار

دشمن کے لیے جاسوسی کے الزام پر کورٹ مارشل کے بعد 14 سال قید کی سزا پانے والے سابق کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال نے رہائی کے بعد خود پر لگائے گئے الزامات کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے حالانکہ موصوف نے معافی کی درخواست ڈال کر جنرل قمر باجوہ سے اپنی سزا میں گیارہ سال کی رعایت حاصل کی تھی اور تیسرے برس ہی باہر آ گئے تھے۔

غداری اور جاسوسی کے الزامات کا سامنا کرنے والےلیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید اقبال کو جنوری کے پہلے ہفتے میں جیل سے رہا کیا گیا تھا لیکن اب ان کے وکیل کے مطابق جاوید اقبال چاہتے ہیں کہ ان پر عائد تمام الزامات واپس لیے جائیں۔ اس سے پہلے جاوید اقبال نے اپنی سزا کم کرنے کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ کو دو مرتبہ درخواستیں ڈالیں۔ پہلی درخواست کے نتیجے میں ان کی سزا میں سات برس کی کمی کردی گئی جبکہ دوسری درخواست پر ان کی سزا مزید چار برس کم کردی گئی۔ یوں وہ 14 برس قید کی سزا پانے کے باوجود محض تیسرے برس رہائی پا کر گھر چلے گئے۔ اب جاوید اقبال نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں خود پر عائد تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ایسی معلومات بیچنے کا الزام لگایا گیا جو کہ انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے خود جاری کی ہیں۔

یاد رہے کہ جاوید اقبال کے خلاف مارچ 2019 میں کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہوئی تھی اور مئی 2019 میں انہیں چھ الزامات ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر جاوید اقبال پر جاسوسی اور غداری کے الزامات لگنے اور کورٹ مارشل کے باوجود ان کے رینکس واپس نہیں لیے گئے اور انہیں آج بھی تمام مراعات حاصل ہیں۔ جاوید اقبال کی طرف سے دائر رٹ پٹیشن میں ان کی طرف سے تمام الزامات کی تفصیل دی گئی ہے۔ انکے مطابق ان پر چھ مختلف الزامات لگے۔ ان پر پہلا الزام اپنی ذاتی معلومات اور اپنی آخری تین تعیناتیوں کی معلومات عام کرنا تھا۔ دوسرا الزام یہ تھا کہ انہوں نے دشمن کو بتایا کہ وزیرِاعظم تین ناموں کے پینل میں سے کسی ایک کی بطور آرمی چیف تعیناتی کرتا ہے۔

اسی طرح پاک فوج کی جانب سے افغان سرحد پر باڑ لگائے جانے، روس کے ساتھ فوج کی مشترکہ جنگی مشق، روس سے جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کے لیے بات چیت سمیت دیگر الزامات سے متعلق دشمن کو آگاہ کرنا شامل ہے۔ ان الزامات کے جواب میں جنرل جاوید نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ان میں سے کوئی ایسی معلومات نہیں جن کے بارے میں کہا جائے کہ وہ حساس اور خفیہ معلومات تھیں۔ ان کے بقول یہ سب معلومات انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے اخبارات میں شائع ہوچکی ہیں۔ ان معلومات کے افشا ہونے کا الزام کس طرح آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کہا جاسکتا ہے۔

ان تمام الزامات کے خلاف جاوید اقبال کی درخواست لاہور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے اور ایڈووکیٹ عمر فاروق آدم پیروی کر رہے ہیں۔ عمر فاروق نے بتایا کہ جنرل جاوید پر جن معلومات کو ظاہر کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے وہ عام آدمی کی رسائی میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جاسوسی اور غداری کے الزامات ایسے الزام ہیں جن کے ثابت ہونے پر کسی صورت معافی نہیں دی جاتی لیکن جاوید اقبال کے کیس میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی ایپلٹ کورٹ نے ان کی اپیل پر سزا 14 سال سے کم کرکے سات سال کی جس کے بعد سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے رخصت ہونے سے قبل اس سزا میں مزید کمی کی۔

ایڈووکیٹ عمر فاروق نے کہا کہ اگر ایک شخص جاسوس ہے اور غدار ہے تو اسے سزا میں رعایت کیسے دی جاسکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان پر عائد تمام تر الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں۔ایڈووکیٹ عمرفاروق آدم کے مطابق جنرل جاوید کے خلاف یہ سب ہونے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس کیس کے کچھ عرصے بعد سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت بعض سیاست دانوں کے خلاف مقدمات بنائے گئے۔ ان کے بقول، جنرل جاوید کے کیس کی مدد سے احتساب کا بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی کہ اگر فوجی جرنیلوں کا احتساب ہو سکتا ہے تو باقی لوگوں کا بھی لازمی ہوگا۔ ان کے خیال میں جنرل جاوید کے کیس کو ممکنہ طور پر مستقبل کے منصوبوں کے لیے استعمال کیا گیا ۔

پاکستان میں ڈالر کا اصل ریٹ227 روپے ہے یا 260 روپے؟

Back to top button