حافظ نعیم کا حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا عندیہ

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ دن میں بات چیت اور رات کو پیٹرول کی قیمت میں اضافہ منظورنہیں۔حکومت کےساتھ مذاکرات ختم کرنے کا عندیہ دیدیا۔

گورنر ہاؤس دھرنے کے 31ویں روز کراچی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئےحافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پرعوام کو اتنا تو ریلیف نہیں دیا جتنے کے اشتہارات چلوا دیے، قوم کو ریلیف کی بھیک نہیں بلکہ اپنا حق چاہیے، دو روز کے بعد اسلام آباد مارچ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ٹیم اور حلقہ خواتین کو تاریخی جلسے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنا 29 روز کا ریکارڈ توڑ دیا، ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور اسلام آباد مارچ کی تیاری ہورہی ہے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ پرسوں اسلام آباد مارچ کا لائحہ عمل بتایا جائے گا جبکہ آج جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات ہوئی اور ہم نے پیٹرول ، آئی پی پیز سے متعلقات تمام حجت پوری کرلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے مذاکرات میں ٹال مٹول سے کام لیا اور کوئی فیصلہ نہیں کیا تو یہ آخری مذاکرات ہوں گے،حکومت ایک جانب بات چیت جاری ہے تو دوسری جانب رات کو پیٹرول بم بھی گرائے جاتے ہیں۔

 

حافظ نعیم نے کہا کہ روزانہ پیٹرول کی قیمتوں کو بڑھانے کا طریقہ کار کو ختم کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے 25 کروڑ عوام اذیت کا شکار ہیں، جب موجودہ حکومت اپوزیشن میں تھی تو کہتی تھی کہ رات کو پیٹرول بم پھینکا جارہا ہے۔

Back to top button