گھر بیٹھے اسناد کی تصدیق ممکن، HECکا نیا آن لائن ڈگری تصدیقی نظام نافذ

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک بھر میں اسناد اور ڈگریوں کی تصدیق کے عمل کو جدید، تیز رفتار اور مکمل طور پر آن لائن بنانے کے لیے نیا ڈیجیٹل ای اٹیسٹیشن نظام نافذ کردیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت نہ صرف تصدیق کا پورا عمل پیپر لیس کردیا گیا ہے بلکہ جامعات کو جلد تصدیق مکمل کرنے پر مالی مراعات دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایچ ای سی کی جانب سے ملک بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز اور سربراہان کو ارسال کیے گئے مراسلے میں چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد نے بتایا کہ جامعات کی کارکردگی بہتر بنانے اور تصدیقی عمل میں تیزی لانے کے لیے باضابطہ مراعاتی پیکیج متعارف کرایا گیا ہے۔نئے نظام کے مطابق اگر کوئی جامعہ 24 گھنٹوں کے اندر کسی امیدوار کی دستاویز یا ڈگری کی تصدیق مکمل کرتی ہے تو اسے فی دستاویز 500 روپے ادا کیے جائیں گے۔ 48 گھنٹوں میں تصدیق مکمل ہونے پر 300 روپے جبکہ 72 گھنٹوں یا اس سے زائد وقت میں تصدیق پر جامعہ کو صرف 100 روپے ملیں گے۔
تاہم مراسلے میں اس امر کی وضاحت موجود نہیں کہ اگر کوئی جامعہ غیر ضروری تاخیر، غفلت یا کسی اور وجہ سے مطلوبہ دستاویز کی تصدیق نہ کرے تو ایچ ای سی اس کے خلاف کیا کارروائی کرے گا۔ تعلیمی حلقوں کی جانب سے اس حوالے سے واضح پالیسی مرتب کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ایچ ای سی نے نئے نظام کے ساتھ اسناد کی تصدیق کی فیس میں بھی نمایاں اضافہ کردیا ہے۔ اس سے قبل فی دستاویز تصدیقی فیس ایک ہزار روپے تھی جسے بڑھا کر تین ہزار روپے کردیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر طلبہ اور والدین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آرہی ہیں، تاہم ایچ ای سی کا مؤقف ہے کہ نئے نظام سے طلبہ کو مجموعی طور پر سہولت اور مالی بچت حاصل ہوگی۔
چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد کے مطابق نیا آن لائن ڈگری تصدیقی نظام باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہوچکا ہے۔ اس نظام کے تحت امیدوار چوبیس گھنٹے کسی بھی وقت آن لائن درخواست جمع کرا سکیں گے جبکہ تصدیق شدہ ای اٹیسٹیشن سرٹیفکیٹ بھی مکمل ڈیجیٹل انداز میں جاری کیا جائے گا۔ اس سرٹیفکیٹ کی آن لائن تصدیق بھی ممکن ہوگی، جس سے جعلی دستاویزات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ڈاکٹر نیاز احمد نے مزید بتایا کہ نئے نظام کا بنیادی مقصد تصدیق کے عمل کو محفوظ، شفاف، تیز رفتار اور صارف دوست بنانا ہے تاکہ طلبہ اور گریجویٹس کو غیر ضروری مشکلات سے نجات مل سکے۔ ان کے مطابق اب امیدواروں کو نہ تو ایچ ای سی دفاتر کے چکر لگانے پڑیں گے اور نہ ہی اصل اسناد بذریعہ کورئیر بھیجنے کی ضرورت ہوگی۔انہوں نے مزیدکہا کہ ماضی میں دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ڈگری تصدیق کے لیے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بڑے شہروں کا سفر کرنا پڑتا تھا، جس پر ہزاروں روپے کے اخراجات آتے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں پہلے اپنی جامعہ سے اسناد کی تصدیق کرانا پڑتی تھی، پھر ایچ ای سی میں فیس اور فوٹو کاپیوں کے اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے تھے۔
چیئرمین ایچ ای سی کے مطابق نئے نظام میں تین ہزار روپے کی فیس کے اندر مکمل آن لائن عمل انجام پائے گا، جس میں متعلقہ جامعہ کا حصہ بھی شامل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مجموعی اخراجات اور وقت کا موازنہ کیا جائے تو یہ نظام طلبہ کے لیے زیادہ سہل اور فائدہ مند ثابت ہوگا۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق ایچ ای سی کا نیا ای اٹیسٹیشن نظام ملک میں ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار جامعات کی استعداد، آن لائن سسٹم کی فعالیت اور شفاف نگرانی پر ہوگا۔
