ایران پالیسی پر اوباما کے ہاتھوں ٹرمپ کی دھلائی

امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے ایران پالیسی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا معاملہ جنگ کی بجائے سفارتکاری سے حل ہو سکتا ہے۔ اُن کے دورِ حکومت میں ایران کے ساتھ معاملات جنگ یا فوجی کارروائی کے بجائے سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے گئے تھے، جبکہ موجودہ کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں سابق امریکی صدر باراک اوباما نے دعویٰ کیا کہ اُن کی انتظامیہ نے عالمی طاقتوں کے تعاون سے ایران کے افزودہ یورینیم پروگرام کو نمایاں حد تک محدود کیا تھا اور اس مقصد کے حصول کے لیے کسی بڑے فوجی تصادم یا جنگ کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اوباما کا کہنا تھا کہ اُس وقت نہ خطے میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہوئی، نہ آبنائے ہرمز بند ہوئی اور نہ ہی عالمی معیشت کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق سفارتکاری کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج زیادہ مؤثر اور پائیدار تھے۔
سابق امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں اور دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کے باوجود ایران کے حوالے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی برادری کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔باراک اوباما نے کہا کہ بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارتی رابطے اور اعتماد سازی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ محض دباؤ اور دھمکیوں سے دیرپا استحکام پیدا نہیں کیا جاسکتا۔
خیال رہے کہ سابق صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر اوباما دور کی ایران پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ اوباما انتظامیہ نے ایران کے ساتھ غیر معمولی نرم رویہ اختیار کیا جس کے باعث تہران کو مالی اور سیاسی فائدہ پہنچا۔ ان کے مطابق اوباما دور میں ایران کو اربوں ڈالر فراہم کیے گئے جن میں نقد رقم بھی شامل تھی، جس سے ایرانی حکومت مزید مضبوط ہوئی۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں اوباما کو “کمزور قیادت” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے اُس دور میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا اور خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھایا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اوباما اور ٹرمپ کے درمیان ایران پالیسی پر اختلافات ایک مرتبہ پھر امریکی سیاست اور خارجہ پالیسی میں اہم بحث بن گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے پر دونوں رہنماؤں کے نقطہ نظر میں واضح فرق موجود ہے، جہاں اوباما سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ ٹرمپ دباؤ اور سخت پالیسیوں کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے متعلق امریکی پالیسی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈی اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے تعلقات دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
