ٹرمپ چینی صدر سے ملاقات کیلئے پہنچے تو کیا ہوا؟

ٹرمپ چینی صدر سے ملاقات کیلئے پہنچے تو کیا ہوا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دو روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے جہاں گریٹ ہال آف دی پیپل میں چینی صدر شی جن پنگ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر امریکی صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جبکہ چین کی جانب سے امریکا کو 250 ویں یومِ آزادی کی مبارک باد بھی دی گئی۔

امریکی اور چینی صدور کی اس اہم ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں کیونکہ اس سربراہی اجلاس میں ایران تنازع، عالمی تجارتی رکاوٹیں، ٹیرف پالیسی، سپلائی چین، معاشی تعاون اور عالمی سلامتی سمیت کئی اہم امور زیر بحث آئے۔ ماہرین کے مطابق اس ملاقات کے نتائج عالمی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

گریٹ ہال آف دی پیپل میں ہونے والی استقبالیہ تقریب کے دوران صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیرمقدم کیا، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور بعدازاں اپنے اپنے وفود کے ہمراہ مذاکرات کے لیے ہال کے اندر چلے گئے۔ تقریب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، سفارتی نمائندے اور کاروباری شخصیات بھی شریک تھیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے وفود کے ہمراہ ملاقات کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکا دنیا کی دو بڑی طاقتیں ہیں اور عالمی استحکام دونوں ممالک کا مشترکہ ہدف ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے۔صدر شی جن پنگ نے مزید کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع، عالمی سپلائی چین کے بحران اور غیر یقینی معاشی حالات جیسے بڑے چیلنجز سے گزر رہی ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور دنیا ایسی تبدیلیوں کا سامنا کررہی ہے جو گزشتہ ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں۔چینی صدر نے کہا کہ تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی تعاون میں پوشیدہ ہے۔ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور تعمیری روابط کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔

شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کے درمیان اختلافات ضرور موجود ہیں لیکن مشترکہ مفادات کہیں زیادہ اہم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے کیونکہ تعاون سے دونوں کو فائدہ جبکہ تصادم کی صورت میں دونوں کو نقصان ہوگا۔چینی صدر نے مزید کہا کہ اگر چین اور امریکا مل کر کام کریں تو وہ نہ صرف عالمی چیلنجز کا بہتر مقابلہ کرسکتے ہیں بلکہ دنیا کو استحکام اور اپنے عوام کو روشن مستقبل بھی فراہم کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی برادری اس وقت بیجنگ مذاکرات کو انتہائی اہمیت سے دیکھ رہی ہے۔

اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ صدر شی جن پنگ سے ملاقات ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقے اس سربراہی ملاقات کو تاریخ کی سب سے بڑی سمٹ قرار دے رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے دورۂ چین میں دنیا کے نمایاں کاروباری رہنماؤں کو بھی ساتھ لائے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دی جاسکے۔ ان کے مطابق اس تاریخی ملاقات کا سب سے اہم اور بنیادی فوکس باہمی تجارت اور اقتصادی تعلقات ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ چین اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں اور جب بھی کسی مسئلے نے جنم لیا، دونوں ممالک نے بات چیت کے ذریعے اسے حل کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور صدر شی جن پنگ ماضی میں بھی براہِ راست رابطے کے ذریعے مختلف معاملات طے کرتے رہے ہیں۔ٹرمپ نے صدر شی جن پنگ کو ایک عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والی کئی دہائیوں تک امریکا اور چین کے تعلقات مضبوط اور مثبت رہیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کے وفد میں کئی عالمی کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں جن میں ٹیسلا کے بانی ایلون مسک، این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ، ایپل کے سی ای او ٹم کک، بلیک راک کے سی ای او لیری فنک سمیت دیگر نمایاں شخصیات شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان کاروباری شخصیات کی شمولیت اس دورے کی معاشی اہمیت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

Back to top button