ماڈل بننے کی خواہشمند انمول ڈرگ کوئین پنکی کیسے بنی؟

کراچی اور لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سرگرم مبینہ کوکین نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد اہم اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ نے نہ صرف اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر منشیات سپلائی کا منظم نیٹ ورک قائم کیا بلکہ جدید طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے کوکین کی تیاری، پیکنگ، ترسیل اور وصولیوں کے لیے الگ الگ نظام بنا رکھا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق انمول عرف پنکی کراچی میں پیدا ہوئی اور ابتدائی زندگی شہر کے علاقے جمشید کوارٹرز میں گزاری۔ بعدازاں اس کی رہائش ابوالحسن اصفہانی روڈ، گلستانِ جوہر اور پھر لاہور منتقل ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق کم عمری ہی سے وہ ماڈلنگ اور شوبز انڈسٹری میں آنے کی خواہشمند تھی، جس کے باعث صرف 12 برس کی عمر میں 2006 کے دوران لاہور منتقل ہوئی۔ تحقیقات کے مطابق لاہور پہنچنے کے بعد انمول مختلف تقریبات، نجی پارٹیوں اور فلمی حلقوں میں شامل ہونے لگی جہاں اس نے نہ صرف بااثر افراد سے روابط قائم کیے بلکہ منشیات کے استعمال اور سپلائی کے خفیہ طریقہ کار کا بھی مشاہدہ کیا۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی ماحول نے اسے منشیات کے کاروبار کی طرف راغب کیا۔

پولیس کے مطابق لاہور میں مینارِ پاکستان کے قریب اس کی ملاقات عائشی نامی خاتون سے ہوئی، جس نے اسے اپنے گھر میں رہائش دی۔ اس دوران انمول مختلف فلم ڈائریکٹرز اور پروڈکشن دفاتر کے چکر لگاتی رہی لیکن اسے خاطر خواہ مواقع نہ مل سکے۔ انہی دنوں اس کی ملاقات رانا ناصر نامی شخص سے ہوئی، جو بعدازاں اس کا شوہر بنا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق رانا ناصر پیشے کے اعتبار سے وکیل تھا اور مبینہ طور پر بین الاقوامی کوکین گینگ سے رابطے رکھتا تھا۔ انمول نے ابتدا میں اسی کے ساتھ مل کر منشیات کے کاروبار میں قدم رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے انٹرنیٹ سے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سیکھا اور بعد میں اپنا ایک الگ “برانڈ” بھی متعارف کروایا، جسے مبینہ طور پر ملک کی مہنگی ترین کوکین میں شمار کیا جاتا تھا۔

ذرائع کے مطابق رانا ناصر سے علیحدگی کے بعد انمول نے ایک پولیس افسر رانا اکرم سے شادی کی، جو بعدازاں ریٹائر ہوگیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں ملزمہ نے اپنے کاروبار کو مزید وسعت دی اور کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں تک نیٹ ورک پھیلا لیا۔

تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ اپنے بھائیوں ناصر، ریاض اور شوکت کے ساتھ مل کر پورا نظام چلاتی تھی جبکہ بھائی ناصر کی گرل فرینڈ بھی نیٹ ورک کا اہم حصہ تھی، جو کراچی کی پوش پارٹیوں اور مخصوص حلقوں میں کوکین سپلائی کرنے میں مدد فراہم کرتی تھی۔ ذرائع کے مطابق نیٹ ورک میں شامل افراد ایک دوسرے سے براہِ راست نہیں ملتے تھے تاکہ گرفتاری کی صورت میں پورا گروپ بے نقاب نہ ہوسکے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کی ترسیل کے لیے انتہائی منظم حکمتِ عملی اختیار کی گئی تھی۔ لاہور سے خواتین کے ذریعے ٹرین میں کوکین کے پیکٹس کراچی بھجوائے جاتے، جہاں ریلوے اسٹیشن سے بائیک رائیڈرز مختلف علاقوں کے ڈیلرز تک سامان پہنچاتے تھے۔ بعدازاں یہ منشیات طلبہ، پارٹی سرکلز، بااثر شخصیات اور مخصوص گاہکوں تک سپلائی کی جاتی تھی۔ ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس اور آن لائن ٹرانزیکشنز کے ذریعے وصول کی جاتی تھیں۔

ملزمہ نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ وہ تقریباً پانچ سال قبل پنجاب پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئی تھی، تاہم مبینہ طور پر بھاری رشوت دے کر رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ پولیس اس دعوے کی بھی تحقیقات کررہی ہے۔

پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع ملنے پر گارڈن ویسٹ کے ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا گیا جہاں ایک خاتون مبینہ طور پر منشیات تیار کرکے فروخت کررہی تھی۔ کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ فلیٹ سے 1540 گرام کوکین، 6970 گرام مختلف کیمیکل اور خام مال برآمد کیا گیا۔

برآمد ہونے والی اشیاء میں بیکنگ پاؤڈر، ایفیڈرین، کیٹامین اور کوکین ہائیڈرو کلورائیڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک پستول، دو میگزین اور 10 راؤنڈ بھی قبضے میں لیے گئے، تاہم ملزمہ اسلحے کا لائسنس پیش نہ کرسکی۔ پولیس نے نقد رقم، موبائل فونز، بلینک چیکس، دستاویزات اور دیگر سامان بھی تحویل میں لے لیا ہے۔

حکام کے مطابق ملزمہ نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی قائم کر رکھا تھا، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اسے نیٹ ورک کی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق انمول عرف پنکی دختر مراد بخش 1995 میں کراچی میں پیدا ہوئی۔ وہ مڈل پاس ہے اور اس نے گورنمنٹ گرلز اسکول سہراب گوٹھ سے تعلیم حاصل کی۔ اس کا تعلق بلوچ (رند) خاندان سے بتایا جاتا ہے جبکہ اس کے مستقل اور عارضی پتے کراچی اور لاہور میں موجود ہیں۔

 

Back to top button