پاک بھارت بیک ڈور ڈپلومیسی کی خبروں کی حقیقت کیا ہے؟

برصغیر کی سیاست میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی، سرحدی تنازعات اور سفارتی تناؤ کے باوجود وقتاً فوقتاً ایسے اشارے سامنے آتے رہے ہیں جو یہ تاثر دیتے ہیں کہ پسِ پردہ رابطے کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ حالیہ دنوں بھارتی میڈیا میں ایک بار پھر ’’بیک ڈور ڈپلومیسی‘‘ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، جس نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا واقعی دونوں ممالک خفیہ سفارتکاری کے کسی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں یا یہ محض ایک منظم میڈیا بیانیہ ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی، بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) منوج نروانے اور آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل دتاتریہ ہوسبالے کے بیانات نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ ان شخصیات نے مختلف مواقع پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس امر کا اظہار کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔ بھارتی سیاسی اور عسکری حلقوں کی جانب سے اس قسم کے بیانات کو بعض مبصرین مستقبل کی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے سابق سرکاری افسران اور سفارتی تجزیہ کاروں نے ان خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی قسم کے خفیہ مذاکرات جاری نہیں۔ ان کے مطابق بھارتی میڈیا جان بوجھ کر ایسی فضا پیدا کر رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر بھارت کو ایک ’’امن پسند‘‘ ریاست کے طور پر پیش کیا جا سکے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلہ کشمیر، سرحدی کشیدگی اور خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی عدم اعتماد کی فضا کسی بڑی پیش رفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تاہم بعض دیگر ماہرین کے مطابق پاک بھارت تعلقات میں بیک ڈور ڈپلومیسی کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی دونوں ممالک کھلے مذاکرات کی ناکامی کے بعد پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں کسی بھی خفیہ سفارتی عمل کے واضح آثار دکھائی نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حلقے ان خبروں کو صرف میڈیا کی سنسنی خیزی اور بیانیہ سازی قرار دے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر واقعی بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے تو اس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا، تجارتی روابط بحال کرنا اور عالمی دباؤ سے نکلنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ صرف میڈیا بیانیہ ہے تو اس کے پیچھے داخلی سیاست، عالمی تاثر سازی اور سفارتی دباؤ جیسے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ حقیقت جو بھی ہو، ایک بات واضح ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن کا خواب صرف بیانات یا میڈیا مہمات سے پورا نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے سنجیدہ، بامقصد اور اعتماد پر مبنی مذاکرات ناگزیر ہیں۔ جب تک دونوں ممالک مسائل کے مستقل حل کی جانب عملی پیش رفت نہیں کرتے، تب تک ’’بیک ڈور ڈپلومیسی‘‘ کی خبریں محض قیاس آرائیوں اور سیاسی بیانیوں کا حصہ بنی رہیں گی۔

Back to top button