پاک چین بڑھتی دوستی پر بھارت کو آگ کیسے لگی؟

پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت ایک بار پھر بھارت کیلئے سفارتی پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔ پاک چین مشترکہ بیان سامنے آنے کے بعد نئی دہلی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے نہ صرف جموں و کشمیر اور لداخ کے معاملے پر اپنی پرانی پالیسی دہرادی ہے بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کو بھی تنقید کا نشانہ بناڈالا ہے۔
پاک چین مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا “اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ” ہیں اور ان علاقوں سے متعلق کسی بھی بیرونی ملک کا مؤقف ناقابل قبول تصور کیا جائے گا۔ بھارتی حکام نے پاکستان اور چین کے مشترکہ بیان میں کشمیر سے متعلق اشاروں پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے انہیں غیر ضروری اور داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔
بھارت نے ایک مرتبہ پھر سی پیک منصوبے پر بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ یہ اقتصادی راہداری ان علاقوں سے گزرتی ہے جنہیں بھارت اپنی خودمختاری کا حصہ قرار دیتا ہے، اسی لیے بھارت اس منصوبے کو “غیر قانونی” سمجھتا ہے۔ تاہم پاکستان اور چین مسلسل اس مؤقف کو مسترد کرتے آئے ہیں اور سی پیک کو خطے کی ترقی، تجارت اور اقتصادی استحکام کیلئے ایک تاریخی منصوبہ قرار دیتے ہیں۔
سیاسی و سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی تشویش کی اصل وجہ صرف کشمیر نہیں بلکہ چین اور پاکستان کے درمیان مضبوط ہوتا ہوا اسٹریٹجک اور اقتصادی اتحاد ہے۔ سی پیک نہ صرف پاکستان کی معیشت کیلئے اہم منصوبہ سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ چین کے عالمی بیلٹ اینڈ روڈ وژن کا بھی مرکزی حصہ ہے، جس نے بھارت کی علاقائی پالیسیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو خدشہ ہے کہ پاک چین اشتراک خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی ہر مشترکہ اعلامیے اور سی پیک سے متعلق پیش رفت پر سخت ردعمل دیتا دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کا مؤقف ہے کہ سی پیک مکمل طور پر اقتصادی منصوبہ ہے جس کا مقصد خطے میں ترقی، روزگار اور تجارتی روابط کو فروغ دینا ہے۔ اسلام آباد بارہا واضح کر چکا ہے کہ بھارت کو علاقائی ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت کے بجائے تعاون کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔چین بھی مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ سی پیک کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ پورے خطے کی معاشی ترقی کیلئے بنایا گیا منصوبہ ہے۔ بیجنگ کے مطابق اقتصادی راہداری سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں تجارت اور رابطوں کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق پاک چین تعلقات میں بڑھتی ہوئی ہم آہنگی آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے جبکہ بھارت کی بڑھتی ہوئی بے چینی اس بات کا اشارہ ہے کہ سی پیک اب محض اقتصادی منصوبہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی بڑی جغرافیائی و سفارتی حقیقت بن چکا ہے۔
