ایران پر امریکی حملے کے بعد آگے کیا ہونے والا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر خطرناک کشیدگی کی لپیٹ میں آ چکا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے عالمی طاقتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جنوبی ایران پر امریکی فضائی حملوں کے بعد تہران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اگر جارحیت دوبارہ دہرائی گئی تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا۔امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام کے مطابق جنوبی ایران میں کیے گئے حالیہ حملوں کا مقصد امریکی افواج کو لاحق خطرات کا خاتمہ تھا۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فورسز بارودی سرنگیں بچھانے اور خطے میں عسکری سرگرمیوں کو بڑھانے کی کوشش کر رہی تھیں، جس کے بعد “دفاعی کارروائی” کی گئی۔

دوسری جانب ایران نے امریکی مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ان حملوں کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واشنگٹن کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران اپنی خودمختاری اور دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ایرانی فوج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے دوبارہ فضائی حملے کیے تو ایران اس بار پہلے سے زیادہ طاقت اور شدت کے ساتھ جواب دے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممکنہ اہداف کی نشاندہی پہلے ہی کر لی گئی ہے۔

اسی دوران پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی ڈرون مار گرانے اور جدید امریکی ایف 35 جنگی طیارے پر فائرنگ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ دشمن کے ساتھ مذاکرات صرف وقت کا ضیاع ہیں جبکہ ایران ہر قسم کی جنگی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ یا تو یہ مواد امریکہ کے حوالے کیا جائے یا پھر ایران کے اندر ہی اسے تباہ کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان نے پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رکھا جائے گا کیونکہ یہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے بھی سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو خطے میں اپنے فوجی اڈوں کیلئے کوئی محفوظ مقام نہیں ملے گا جبکہ اسرائیل کا مستقبل بھی خطرے میں ہے۔ ان بیانات نے عالمی سفارتی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔اسی دوران چین نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جنگ بندی کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ عالمی بحری سلامتی کے ادارے یوکے ایم ٹی او کے مطابق عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر دھماکے سے متاثر ہوا ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور توانائی کے بحران سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ تمام صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی ثالثی میں سفارتی کوششیں جاری تھیں اور ایرانی مذاکراتی ٹیم قطر سے واپس تہران پہنچی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حملوں نے نہ صرف مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچایا بلکہ خطے میں ایک نئی اور بڑی جنگ کے امکانات بھی بڑھا دیے ہیں۔عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان موجود کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈی، بین الاقوامی تجارت اور خطے کے امن پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Back to top button