پاکستان میں ججز، جرنیل اور سیاست دان مافیا کیسے بن گئے ؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے پاکستان بھی مافیاز اور گینگز کا شکار ہے اور تمام ریاستی ادارے ان کا حصہ بنتے چلے جا رہے ہیں, ماضی میں یہ کھیل صرف سیاست دانوں اور جرنیلوں تک محدود تھا‘ تب جرنیل اپنی مرضی کے سیاست دان لے آتے تھے اور سیاست دان اپنے سپورٹر جرنیلوں کو اپنا باس بنا لیتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریاست کے باقی ستون بھی اس کھیل کا حصہ بن گئے۔ لہٰذا آج ملک چھوٹے بڑے درجنوں مافیاز اور گینگز میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ملک میں پہلے بیوروکریسی ختم ہوئی اور اب عسکری اور عدالتی ادارے بھی ختم ہو رہے ہیں‘ ہم مانیں یا نہ مانیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ میں نے صحافت شروع کی تو اس وقت جنرل اسلم بیگ آرمی چیف تھے‘ میں نے ان کے بعد آٹھ آرمی چیفس دیکھے‘ وقت گزرنے کے ساتھ آرمی چیفس بھی متنازع ہوتے چلے گئے‘ جنرل اشفاق پرویز کیانی پہلے آرمی چیف تھے جن کے دور میں فوج کی اندرونی سیاست ٹیلی ویژن پر ڈسکس ہونے لگی اور کھلے عام یہ کہا جانے لگا آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی جنرل کیانی کی ایکسٹینشن کے لیے کرسی پر بیٹھے ہیں‘ 2008 میں نواز شریف کو اس لیے وزیراعظم نہیں بننے دیا گیا تھا کہ وہ توسیع کے خلاف تھے جب کہ صدر زرداری بے انتہا لچک دار ہیں‘ چناں چہ اس زمانے میں ملٹری قیادت حکومت کی تمام نااہلیاں برداشت کرتی رہی‘ طالبان اسلام آباد کی پہاڑیوں تک آ گئے تھے۔ یہ بھی برداشت کرلیا گیا تھا‘ بے شک جنرل کیانی شان دار آرمی چیف تھے‘ ان کے زمانے میں فوج کی ری اسٹرکچرنگ ہوئی لیکن یہ تمام کارنامے ایک سائیڈ پر اور ان کی ایکسٹینشن دوسری سائیڈ پر‘ ایک فیصلے نے ان کی عزت برباد کر دی اور یہ فیصلہ بھی کیانی صاحب نے خود کیا تھا‘ وہ 2008 میں پیپلز پارٹی کواقتدار میں لے کر آئے تھے اور اسے اپنی ایکسٹینشن تک سہارا دیتے رہے ‘ پیپلز پارٹی کے پاس اس وقت 88 سیٹیں تھیں‘ وہ اس مینڈیٹ کے ساتھ حکومت نہیں بنا سکتے تھے جنرل کیانی پہلے ن لیگ کو ہانک کر پیپلز پارٹی کے پاس لے کر آئے‘ ن لیگ ایک ماہ اور بارہ دن بعد اتحاد سے نکل گئی تو پھر پیپلزپارٹی کے ازلی دشمن چوہدریوں کو زرداری صاحب کی جھولی میں ڈال دیا گیا اور پھر اس کے بعد چل سو چل۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ عمران خان کی سیاسی پیدائش بھی ایکسٹینشن کے لیے ہوئی تھی‘ جنرل راحیل شریف ایکسٹینشن چاہتے تھے۔ نواز شریف تیار نہیں تھے چناں چہ عمران خان کو اسلام آباد میں بٹھا دیا گیا‘ عمران خان نواز شریف کو نہیں ہٹا سکے اور یوں ایکسٹینشن نہ ہو سکی‘ یہ حقیقت ہے جنرل باجوہ ایکسٹینشن کے لیے اپنا وزیراعظم لے آئے تھے اور جب تک ایکسٹینشن نہیں ہوئی وہ عمران خان کی ہر حماقت‘ قوم کے ساتھ ہر ظلم چپ چاپ برداشت کرتے رہے۔ مگر اگست 2019 میں جب ان کی ایکسٹینشن ہو گئی تو انہیں عمران خان کی غلطیاں نظر آنے لگیں اور یہ ’’اے پولیٹیکل‘‘ ہوتے چلے گئے۔ عمران خان اس گیم کو سمجھ گئے تھے چناں چہ انہوں نے جنرل فیض حمید کی شکل میں اپنا آرمی چیف تیار کرنا شروع کر دیا اور جنرل فیض نے اپنے لیے آٹھ سال کی پلاننگ کر لی تھی‘ 2022 میں آرمی چیف‘ 2024 میں عمران خان کی دوسری ٹرم‘ 2025 میں ایکسٹینشن اور صدارتی نظام‘ 2028 میں عمران خان کی چھٹی‘ ایمرجنسی کا نفاذ اور پھر جنرل فیض حمید روسی صدر پیوٹن کی طرح تاحیات صدر یعنی جنرل فیض نے خود ہی اپنا فیصلہ کر لیا لیکن نواز شریف نے گیم بدل دی اور اس کے بعد نواز شریف کے ساتھ کیا ہوا؟یہ اب وہ قصہ اپنی پرائیویٹ محفلوں میں سناتے رہتے ہیں۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہی افتخار چوہدری نے اپنے زمانے میں ججز کے بجائے چیف جسٹس منتخب کرنا شروع کر دیے تھے یہ ججز کی تاریخ پیدائش دیکھ کر انہیں ترقی دیتے تھے ان کے بعد ہر چیف جسٹس نے یہ کیا یہ ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے چیمبر یا اپنی مرضی کے جج سپریم کورٹ پہنچا دیتے تھے اس کا یہ نتیجہ نکلا سپریم کورٹ میں اب جج نہیں ہیں چیف جسٹس ہیں اور ان کے درمیان اقتدار کی جنگ چل رہی ہے، بیوروکریٹس 60 سال سے سیاست دانوں کی خدمت کر رہے ہیں اس وقت بھی بیوروکریسی مریم نواز اور بلاول بھٹو میں تقسیم ہے کیوں کہ انہیں ان دونوں میں اپنا مستقبل دکھائی دے رہا ہے جب کہ یہ دونوں میجر جنرلز کی تاریخ پیدائش اور جوائننگ ڈیٹس دیکھ کر ان کے خاندانوں سے تعلقات وابستہ کرتے ہیں، یہ دونوں بیوروکریٹس کی عمر بھی دیکھتے ہیں اور بیوروکریٹس اور جوان فوجی افسر اپنا مستقبل دیکھ کر بلاول اور مریم کے مقدر کا فیصلہ کررہے ہیں۔ بزنس مین اور علماء کرام بھی مدت پہلے اس کھیل میں شامل ہو چکے تھے، صرف میڈیا بچا تھا لیکن یہ بھی اب ان گینگز کا حصہ ہے اور اس سارے کھیل میں عوام اور ملک دونوں پس کر رہ گئے ہیں لیکن اب سوال یہ ہے یہ لوگ مل کر ایک ہی مرتبہ یہ سارے مسئلے حل کیوں نہیں کر لیتے، آئین میں جتنی تبدیلیاں کرنی ہیں یہ ایک ہی بار کرلیں جس کو جتنی ایکسٹینشن دینی ہے ایک ہی مرتبہ دے دیں اگر اعلیٰ ترین عہدوں کے لیے چھ سال چاہییں تو آپ ایک ہی بار فیصلہ کر لیں، الیکشن کمیشن اور نیب کو بھی آپ نے جتنی آزادی دینی ہے آپ دے دیں اور بیوروکریسی کے تقرر اور تبادلوں کی پالیسی بھی ایک ہی بار بنا لیں تا کہ یہ تھیٹر ختم ہو اور ملک آگے بڑھ سکے۔

کیا جسٹس منصور شاہ نے مکمل انصاف کے نام پر انصاف کا کھلواڑ کیا ؟

جاوید چوہدری کے مطابق یہ ہو سکتا ہے لیکن یہ ان لوگوں کو سوٹ نہیں کرتا اگر آرمی چیف، چیف جسٹس اور الیکشن کمشنر کا فیصلہ خود کار طریقے سے ہو جائے گا تو پھر نااہل سیاست دان اقتدار میں کیسے آئیں گے اور اگر نااہل سیاست دان اقتدار میں نہیں آئیں گے تو ایکسٹینشن کیسے ہو گی۔ لہٰذا دائروں کا یہ سفر جاری ہے۔

Back to top button