جہادیوں کو پالنے کی پالیسی پاکستان کے گلے کیسے پڑی؟

امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد سے پاکستانی سکیورٹی منظر نامے میں جو بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں انکے اثرات آج 25 برس بعد بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق نائن الیون کے سانحے تک افغان مجاہدین کا ساتھ دینے والے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بننا پڑ گیا۔ ایکطرف پاکستان کو القاعدہ اور طالبان سے وابستہ دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ لڑنا پڑی تو دوسری طرف اسے داخلی سلامتی، انتہا پسندی اور سیاسی عدم استحکام جیسے نئے چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ 9/11 سے قبل پاکستان اگرچہ افغانستان اور خطے میں مختلف عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ اپنے روابط کی وجہ سے ایک مخصوص سکیورٹی حکمت عملی پر عمل پیرا تھا، تاہم نائن الیون کے بعد عالمی دباؤ نے مشرف کی زیر قیادت عسکری فیصلہ سازوں کو پرو جہادی پالیسی مکمل طور پر تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے ایسے جہادی گروپس کے خلاف بھی کارروائیاں کیں جنہیں ماضی میں بھائی لوگوں کی جانب سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف متعدد بڑے فوجی آپریشن کیے، جن میں راہِ راست، راہِ نجات، ضربِ عضب اور ردالفساد نمایاں ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سوات اور سابق قبائلی اضلاع سمیت کئی علاقوں میں دہشت گرد تنظیموں کی علاقائی گرفت ختم ہوئی اور انہیں کھلے عام ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے کی صلاحیت سے محروم کیا گیا۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں پاکستان کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہوتی ہیں، تاہم دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ گزشتہ 25 برس کے دوران پاکستان میں 75 ہزار سے زیادہ افراد جان سے گئے، جن میں فوج، فرنٹیئر کور، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ ہزاروں عام شہری بھی شامل ہیں، جبکہ دہشت گردی کے خلاف تقریباً تین ہزار درمیانے اور بڑے فوجی آپریشن کیے گئے۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق 2021 میں افغانستان میں طالبان کی دوبارہ حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کے لیے صورتحال ایک مرتبہ پھر پیچیدہ ہوگئی۔ افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان کے خلاف اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کیا اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے علاقوں میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ بڑھا۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے سرحد پار موجود محفوظ پناہ گاہوں اور افغانستان کی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش پاکستان کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کی دہشت گردی ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ مختلف عسکریت پسند گروہوں کے درمیان نظریاتی، تنظیمی اور عملی روابط پیدا ہو چکے ہیں۔ بعض سابق شدت پسند عناصر ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان جیسے گروہوں میں شامل ہوئے، جس کے باعث ریاست کے لیے ان تنظیموں کو الگ الگ سمجھنا اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی وضع کرنا زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔ پاکستان کو صرف ٹی ٹی پی ہی نہیں بلکہ بلوچستان میں علیحدگی پسند مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کا بھی سامنا ہے۔ ان گروہوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز، اہم تنصیبات، انفراسٹرکچر اور چینی مفادات کو نشانہ بنایا جانا پاکستان کی داخلی سلامتی کے ساتھ ساتھ پاک چین اقتصادی تعاون کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔ دہشت گردی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری اور بالخصوص سی پیک کے منصوبوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 9/11 کے بعد پاکستان نے امریکا کے ساتھ قریبی سکیورٹی تعاون قائم کیا اور بعد میں اسے بڑے نان نیٹو اتحادی کا درجہ بھی ملا، تاہم افغانستان، دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہوں، ڈرون حملوں اور ایبٹ آباد آپریشن جیسے معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی برقرار رہا۔ حالیہ عرصے میں داعش خراسان اور طالبان سے متعلق سکیورٹی معاملات پر پاکستان اور امریکا کے درمیان دوبارہ تعاون کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ نے پاکستان کے ریاستی ڈھانچے اور سول ملٹری تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اندرونی اور بیرونی سلامتی کے معاملات بتدریج ریاستی اداروں کے سکیورٹی نظام کے زیادہ قریب چلے گئے جبکہ منتخب حکومتوں نے سیاسی محاذ آرائی سے بچنے کے لیے ان معاملات میں محدود کردار ادا کیا۔ اس صورتحال نے پاکستان میں سیاسی اور سماجی سطح پر بھی ایک مختلف نوعیت کے توازن کو جنم دیا۔

سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ ماضی کی وہ پالیسیاں بھی ہیں جن کے تحت بعض عسکریت پسند گروہوں کو مختلف قومی اور علاقائی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی گروہ یا ان سے وابستہ عناصر ریاست کے لیے مشکلات کا باعث بنے۔ اس تجربے نے یہ واضح کر دیا کہ مذہبی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کو محدود مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی بالآخر خود ریاست کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے گزشتہ 25 برس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے نیکٹا، انسدادِ انتہا پسندی کے مراکز اور دیگر ادارے قائم کیے جبکہ نیشنل ایکشن پلان، قومی سلامتی پالیسی اور پیغامِ پاکستان سمیت متعدد پالیسی دستاویزات بھی تیار کی گئیں۔ اس کے باوجود ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے یہ سوال دوبارہ اٹھا دیا ہے کہ کیا موجودہ انسدادِ دہشت گردی پالیسی بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے آئندہ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف حاصل کی گئی فوجی کامیابیوں کو ایک مستقل سکیورٹی حکمت عملی میں تبدیل کرے۔ ٹی ٹی پی کی مسلسل دہشت گردی، افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات، بلوچستان میں مسلح کارروائیاں، انتہا پسندی، معاشی نقصانات اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں رکاوٹ جیسے مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ انسدادِ دہشت گردی کو صرف فوجی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے سیاسی، سفارتی، معاشی اور سماجی اقدامات کے ساتھ جوڑا جائے۔ ماہرین کے مطابق نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، اب اصل امتحان یہ ہے کہ ان قربانیوں کو مستقل امن اور دیرپا داخلی استحکام میں کس طرح تبدیل کیا جاتا ہے۔

Back to top button