مریم نواز کا لندن سفر: 2 کروڑ 93 لاکھ روپے کا چالان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے سرکاری طیارے کے ذریعے لندن جانے پر سخت عوامی تنقید کے بعد پنجاب حکومت نے 2 کروڑ 93 لاکھ 65 ہزار 976 روپے کا بینک چالان پبلک کر دیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بی بی سی اردو کے تخمینے کے مطابق اس سفر پر 11 سے 12 کروڑ روپے کے اخراجات آئے ہیں تو وزیر اعلیٰ کو سرکاری خزانے میں پوری رقم جمع کرانی چاہیے، دودری جانب مذکورہ چالان کے ذریعے جمع کرائی جانے والی رقم اور اس کی حتمی وصولی کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے میڈیا کو جاری کردہ بینک چالان سلپ کے مطابق مریم نواز کے نام سے 2 کروڑ 93 لاکھ 65 ہزار 976 روپے کا چالان نمبر 32-A جاری کیا گیا ہے، جسے گلف سٹریم نامی سرکاری طیارے کے نجی استعمال کے اخراجات کی مد میں ادائیگی کے لیے وزیراعلیٰ کو پہنچا دیا گیا ہے۔ تاہم ابھی اس بات کی آزادانہ یا سرکاری تصدیق نہیں ہوئی کہ مذکورہ رقم پنجاب کے خزانے میں جمع کرا دی گئی ہے یا یہ صرف ادائیگی کے لیے جاری کیا گیا چالان ہے۔ یہ پیش رفت تب سامنے آئی جب مریم نواز کے تین روزہ لندن دورے پر عوامی حلقوں میں شدید تنقید ہوئی۔ وزیراعلیٰ اپنی بیٹی ماہ نور کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن گئی تھیں۔
حکومت کی جانب سے ابتدا میں دورے کے اخراجات ذاتی طور پر ادا کرنے کا موقف اختیار کیا گیا، جبکہ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ نجی دورے کے لیے سرکاری طیارے کا استعمال کس قانونی اور انتظامی اختیار کے تحت کیا گیا۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ مریم اپنے لندن دورے کے لیے جہاز کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کریں گی۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ کی ترجمان کوثر کاظمی نے اینکرپرسن منصور علی خان کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کا کوئی بھی دورہ نجی نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق مریم نواز نے لندن میں بزنس کمیونٹی اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں سے ملاقاتیں بھی کیں، اس لیے اسے سرکاری نوعیت کا دورہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
تاہم حکومت کے اندر سے سامنے آنے والے دو مختلف مؤقف معاملے کو پیچیدہ بنا رہے تھے۔ ایک ترجمان کی جانب سے دورے کو نجی قرار دے کر اخراجات ذاتی طور پر ادا کرنے کی بات کی گئی، جبکہ دوسری جانب اسے سرکاری نوعیت کا دورہ قرار دینے کی دلیل دی گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر مریم کا دورہ سرکاری تھا تو اخراجات سرکاری خزانے سے ادا ہونے چاہییں، اور اگر نجی تھا تو سرکاری طیارے کے استعمال اور اسکے اخراجات کی ادائیگی کا واضح طریقہ کار سامنے آنا چاہیے۔
ادھر بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ایوی ایشن ماہرین نے گلف سٹریم طیارے کے سفر کے ممکنہ اخراجات کا تخمینہ لگایا ہے۔ لاہور کی ایک ایوی ایشن کمپنی کے عہدیدار نے بتایا کہ نجی کمپنیاں گلف سٹریم طیارے کے لیے تقریباً 12 سے 15 ہزار امریکی ڈالر فی گھنٹہ وصول کرتی ہیں، جبکہ لاہور سے لندن کا سفر تقریباً سات گھنٹے پر محیط ہوتا ہے۔ اس حساب سے یک طرفہ سفر کی لاگت تقریباً 84 ہزار ڈالر اور آنے جانے کا مجموعی کرایہ ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر سے زائد ہو سکتا ہے۔
بی بی سی کے مطابق پائلٹ سمیت طیارے کے عملے کے دو سے تین ارکان کی رہائش، کھانے اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہوتے ہیں، جبکہ لندن کے ہیتھرو اور لیوٹن ایئرپورٹس پر طیارے کی پارکنگ اور ہینڈلنگ کی یومیہ فیس بھی ہزاروں ڈالر میں ہوتی ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کے تخمینے کے مطابق ایک سائڈ کے لندن سفر کی مجموعی لاگت تقریباً دو لاکھ امریکی ڈالرز، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 5 کروڑ 55 لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ اس تخمینے کی بنیاد پر مریم نواز کے لاہور سے لندن جانے اور واپس آنے کے فضائی سفر پر مجموعی اخراجات تقریباً 11 سے 12 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ تاہم یہ رقم ایک تخمینہ ہے، لیکن دوسری جانب مریم نواز کی پنجاب حکومت کی جانب سے پبلک کیے گئے 2 کروڑ 93 لاکھ 65 ہزار 976 روپے کے چالان کو ناقدین نے ناکافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بی بی سی کے تخمینے کو بنیاد بنایا جائے تو مریم نواز کو مزید تقریباً 8 سے 9 کروڑ روپے جمع کروانے چاہییں، تاکہ سفر کے تمام اخراجات کا ازالہ ہو سکے۔
مریم نواز کے لندن دورے پر پنجاب اسمبلی میں بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اپوزیشن رکن وقاص محمود مان نے تحریک التوا جمع کرا کے مطالبہ کیا کہ ایوان کو بتایا جائے کہ وزیراعلیٰ نے سرکاری طیارہ کس قانونی و انتظامی اختیار کے تحت استعمال کیا، اس کے اخراجات کس مد میں ادا ہوئے اور کیا سرکاری خزانے سے ہونے والی ادائیگی کی منظوری حاصل کی گئی تھی۔ تحریک میں طیارے کے فیول، پارکنگ اور دیگر متعلقہ اخراجات کروڑوں روپے بتائے گئے تھے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے رواں برس تقریباً 11 ارب روپے مالیت کا گلف سٹریم جی فائیو ہنڈرڈ طیارہ خریدنے پر بھی تنقید کا سامنا کیا تھا۔ اس وقت عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ یہ طیارہ ایئر پنجاب کے لیے خریدا گیا ہے، تاہم ایئر پنجاب کے حوالے سے عملی پیش رفت سامنے نہ آنے کے باعث اس دعوے پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
موجودہ تنازع نے سرکاری طیارے کے استعمال، اس کے اخراجات اور حکومتی وسائل کی نگرانی سے متعلق بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔
